Newsflash

[Blog] Wanted: Altaf Hussain 

I figured I’d put in a plea for Britain to do the same by etraditing one of Pakistan’s most wanted terrorists, Altaf Hussain - now that the UK is finally talking to the Pakistan govt.

Read More at the Author's Blog

 
powered_by.png, 1 kB

Home arrow Year by Year Review
1995 part7 PDF Print E-mail

 ٭عزیز آباد ،نا ظم آباد،نیو کراچی اورنگی کے علاقوں میں نا معلوم افراد کی فائرنگ کے باعث ٢ سپاہیو ں سمیت ٧ افراد جا ں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔خواجہ اجمیر نگری کے علاقے میں ٥١ اکتوبر کو رینجرز کے کیمپ پر راکٹ لگنے سے زخمی ہونے والے ٣٢ سالہ کیپٹن افتخار زخمو ں کی تاب نا لاکر جا بحق ہو گئے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٠٢ اکتوبر)

 

 ٭کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔فائرنگ کے باعث نو عمر لڑکے سمیت ٣ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔شرپسندوں نے گارڈن کے علاقہ میں ایک بس کو بھی نذر آتش کر دیا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔١٢ اکتوبر)

 

٭ایم کیو ایم کی ایک ہریس ریلیز کے مطابق حکومت نے اپنی رویتی بد عہدی کا بدترین مظاہرہ کر تے ہوئے ایم کیو ایم کی مذاکراتی ٹیم کے ا اراکین کو ایک مرتبہ پھر لمدن جانے سے روک کر انہیں جناح ٹرمینل سے واپس بھیج دیا۔شعیب بخاری اور قاضی خالد کو جناح ٹرمینل پر FIAکے انسپیکٹر نے روانگی کی اجازت دینے سے روک دیا۔

(جسارت،جنگ۔١٢ اکتوبر)

 

٭شہر میں نا معلوم افراد کی فائرنگ سے ٥ افراد جا ں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ۔دوسرے جانب اورنگی کے مختلف مقامات کا محاصرہ کر کے تین درجن سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ہلاک ہونے والو ں میں پیپلز پار ٹی کے ٣ کارکنان بھی شامل ہیں۔جس کا مقدمہ ایم کیو ایم کے کارکنو ں پر درج کیا گیا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٢٢ اکتوبر)

 

٭وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ نے کہا ہے کہ نواز شریف اور الطاف حسین مارشل لاءکی پیدا وار ہیں۔نواز شریف خود لہتے تھے کہ ایم کیو ایم کے قائد دہشت گردی میں ملوث ہیں۔انہو ں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارقانون نافذ کر نے والی ایجنسیوں کے اہلکار کراچی میں منی بغاوت پر قابو پانے کے لئے جانو ں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔

(جسارت۔٢٢ اکتوبر)

 

٭نیو کراچی پولیس نے دو کاروائیو ں کے بعد سنگین مقدمات میں ملوث ٧ ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے ٨ کلاشنکوف،٣ رائفل سیون ایم ایم،ایک ایل ایم جی،ایک ٹی ٹی پستول اور سینکڑو ں گولیا ں بر آمد کر لیں۔ملزمان ایم کیو ایم کے کارکنان بتائے جاتے ہیں۔جو قتل کی ٥١ وارداتو ں سمیت متعدد سنگین وارداتو ں میں ملوث ہیں۔گرفتار ہونے والے ملزمان میں محمد ندیم،عتیق الرحمان،محمد نسیم،اکرام الحق،نعیم احمد،رفیق چٹا اور محمود کمانڈو شامل ہیں۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٢٢ اکتوبر)

 

٭ایم کیو ایم الطاف کے قائد الطاف حسین،مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اجمل دہلوی،شعیب بخاری ،وکیل احمد جمالی اور دیگر کے ٠٣ اکتوبر تک نا قابل ضمانت وارنٹ جا ری کر دیئے ہیں۔وارنٹ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج عبدلالحمید بھٹی نے جاری کئے ہیں۔نا ظم آباد تھانے نے ان کے خلاف پولیس پارٹی پر فائرنگ کر نے،جلاو
¿ گھیراو
¿ کر نے،سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام کے مقدمہ درج کیا تھا۔

(جسارت۔٤٢ اکتوبر)

 

٭شہر میں منگل کو ایک حا ضر،ایک سابق پولیس اہلکار اور ایک سب انسپیکٹر سمیت ٧ افراد ہلاک اور ٢ خواتین سمیت ٧ افراد زخمی ۔اورنگی میں پولیس اہلکار کو گولی مار کر لاش بوری میں بند کر کے پھینک دی گئی۔(جسارت،جنگ۔٥٢ اکتوبر)

 

٭اورنگی ٹاو
¿ن میں ایک پولیس مقابلے میں ایم کیو ایم الطاف کے یونٹ انچار سمیت ٤ کارکنان ہلاک ہو گئے۔ان کے قبضہ سے اسلحہ اور چھینی ہوئی سوزوکی کیری بر آمد ہوئی۔سوزوکی کیری سے FCاور رینجرز کے دو اہلکاروں کی لاشیں بر آمد ہوئیں۔جنہیں اغواءکر کے قتل کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والو ں میں ایم کیو ایم کا یونٹ انچارج ندیم زین العابدین ،تین کارکنان ساجد کمانڈو،محمد ندیم اور یاسین شامل ہیں۔پولیس نے ملزمان کے قبضہ سے کلاشنکوف اور سیون ایم ایم رائفلیں بر آمد کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٦٢ اکتوبر)

 

٭سی آئی اے جمشید کوارٹرز سے پولیس مقابلہ میں ایم کیو ایم الطاف کے ٢ کارکنان مارے گئے۔جبکہ ریحان کانا اپنے سا تھیو ں سمیت فرار ہو نے میں کامیاب ہو گیا۔پولیس کے مطابق خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ لیا قت آباد ڈاک خانہ کے قریب ایک مکان میں بدنام زمانہ ریحان کانا اور دیگر ملزامان موجود ہیں۔جس پر سی آئی اے جمشید کوارٹر ز کی ایک پارٹی نے مکان کو گھیرے میں لے لیا۔ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کی۔فائرنگ کے تبادلے کے باعث دو ملزمان مارے گئے۔مارے جانے والو ں میں شاہد چٹا اور عمران بیدی شامل ہیں۔جبکہ دیگر ملزمان ایک سیون ایم ایم رائفل اور ٦ پستول چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٨٢ اکتوبر)

 

٭اورنگی،ملیر اور ابراہیم حیدری کے علاقوں میں لیڈی پولیس کانسٹیبل سمیت ٤ افراد لقمہ اجل بن گئے۔(جسارت،DAWN۔٨٢ اکتوبر)

 

٭ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے جعلی پولیس مقابلو ں میں اپنے اہلکاروں کی یلاکت اور رئیس فاطمہ کی غیر قانونی حراست پر اتوار ٩٢ اکتوبر کو یوم احتجاج منانے کا فیصلہ کیا۔

DAWN۔٨٢ اکتوبر)

 

شریف آباد نیو کراچی میں فائرنگ کے باعث ایک پولیس اہلکار سمیت ٥ افراد جا ںبحق اور ٧ پولیس اہلاکروں سمیت ١١ افراد زخمی ہوئے۔جبکہ ٦ گا ڑیو ں کو نذر آتش کر دیا گیا۔

(جسارت،جنگ۔٩٢ اکتوبر)

 

٭نا ظم آباد کے علاقے سے گزشتہ دنوں رینجرز اہلکاروں کے ہا تھوں حراست میں لیا جانے والا ایم کیو ایم کا سرگرم کارکن اور نارتھ ناظم آباد یونٹ کا انچار محمد اظہر عرف بکرا ولد سید رضوان الحس موہانی رینجرز کے مرکز تفتیش میں چل بسا۔ذرائع کے مطابق اسے اس قدر تشدد کیا گیا کہ وہ مر گیا۔جبکہ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوا۔(جسارت،جنگ،DAWN۔٩٢ اکتوبر)

 

٭سندھ کے گورنر کمال الدین اظفر نے کہا ہے کہ کراچی میں ہونے والی دہشت گردی میں غیر قانونی طور پر آنے والے غیر ملکی باشندوں کو نذر انداز نہیں کیا جا سکتا۔انہو ں نے کہا کہ سندھ سیکریٹریٹ پر ہو نے والے حملہ میں الطاف گروپ ملوث ہے۔جس کے واضح ثبوت ملے ہیں۔(جسارت۔٩٢ اکتوبر)لیاقت آباد پولیس نے گزشتہ دو ہفتو ں کے دوران سنگین وارداتو ں میں ملوث ایم کیو ایم کے ٥١ کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔ملزمان کے قبضہ سے ٤١ پستال،٦١ موٹر سائیکلیں اور ٧ کاریں بر آمد کی گئی ہیں۔ملزمان میں ریحان کانا کے بعض ساتھی بھی شامل ہیں۔

(جسارت۔٩٢ اکتوبر)

 

٭شہر کے مختلف علاقوں میں ٦ افراد نا معلوم افراد کی گولیو ں کا نشانہ بن گئے۔مختلف علاقوں میں ٣ گا ڑیو ں کو بھی جلا دیا گیا۔ مسلح ملزمان جو ایک کار میں سوار تھے گلبرگ تھانہ سے ملحقہ ایس ایس پی وسطی کے دفتر کئی کریکر پھینکے گئے۔واضح رہے کہ آج سندھ بھر میں ایم کیو ایم کی جانب سے یوم احتجاج منایا گیا۔ یوم احتجاج کی اپیل پر اتوار کو کراچی کے بیشتر حصوں میں معمول کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔کراچی میں تجارتی و کاروباری مراکز بند رہے۔صدر میں ایک میڈیکل اسٹور کو آگ لگا دی گئی۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٠٣ اکتوبر)

 

٭ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے بروز پیر ٠٣ اکتوبر کو اظہر موہانی کے قتل پر عوام سے آج یوم احتجاج منانے کی اپیل کی ہے۔الطاف حسین نے آج یوم احتجاج و سوگ کی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی تو ثیق کر دی۔(جسارت،جنگ،DAWN۔٠٣ اکتوبر)

 

٭کراچی کے مختلف علاقوں میں ہونے والے پر تشدد واقعات میں آج بھی ٢ افراد جا ں بحق اور ایک ASIسمیت ٥ افراد زخمی ہو گئے۔ضلع وسطی میں ٤ گا ڑیا ں جلا دی گئیں۔ایم کیو ایم کی ایل پر منائے جانے والے احتجاج کے دوسرے روز حالات نسبتاً پر سکون رہے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔١٣ اکتوبر)

 

٭کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ،تشدد اور اغواءکر کے قتل کر نے کے واقعات میں ٧ افراد جا ں بحق اور ٣ زخمی ہو گئے۔(جسارت،جنگ،ڈان۔یکم نومبر)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین،شعیب بخاری،مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اجمل دہلوی،طارق جاوید سمیت ٩٢ کارکنان کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج سینٹرل اسحاق یامین نے ٩٢ نومبر تک نا قابل ضمانت وارنٹ جاری کر دئیئے ہیں۔گلبہار تھانے نے ان کے خلاف قتل،اقدام قتل،ہنگامہ،بلوہ کر نے ،سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں دو علیحدہ علیحدہ مقدمات درج کئے ہین۔(جسارت۔یکم نومبر)

 

٭وفاقی وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے کہا ہے کہ الطاف گروپ رولز آف گیم کی پابندی نہیں کر تا تو ایسی صورت میں دوسرے فریق سے پابندی کی تقع نہیں کی جا سکتی۔الطاف گروپ کے دہشت گرد جسے دیکھتے ہیں قتل کر دیتے ہیں۔ان حالات میں دہشت گردوں کو پکڑ کر عدالتو ں کے ذریعے سزائے موت دلانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔وہ نمائندہ جنگ کے سولو ں کا جواب دے رہے تھے۔انہو ں نے کہا کہ الطاف حسین کو واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔الطاف حسین کو پہلے تو سخت جدو جہد کر کے بر طانیہ سے بے دخل کرایا جائے،انہیں پاکستان لا کر جیل میں ڈالا جائے لیکن پماری سوچ ہے کہ پاکستان لا کر جیل میں ڈالا گیا تو وہ ہیرو بن کر ابھر نے کی کوشش کرے  گا پھر عین ممکن ہے کہ کسی جیل میں یا جیل سے عدالت لے جاتے وقت دہشت گرد انہیں گولی سے اڑا کر بحران پیدا کر دیں ۔وزیر داخلہ نے دہشت گردوں کو پیش کش کی کہ وہ غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیں اگر وہ ایسا کریں گے تو تو وہ اس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ صدر اور وزیر اعظم ان کی زندگی بخش دیں گے لیکن جن دہشت گردوں نے کئی افراد قتل کئے ہیں ان کو اپنے کءکی سزا بھگتنا ہو گی۔

(جنگ۔یکم نومبر)

 

٭شہر میں بدھ کو ایک پولیس اہلکار سمیت ٤ افراد ہلاک اور ٤ زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق کورنگی میں ایم کیو ایم حقیقی کے کارکن کو اغواءکے بعد گولی ماری گئی جواب میں ایم کیو ایم الطاف کے کارکن کو قتل کیا گیا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٢ نومبر)

 

٭نیو کراچی کی حدود میں مبینہ پولیس مقابلے میں ٣ ڈاکو ہلاک ہو گئے۔ان کے چوتھے سا تھی کو ہتھیار ڈالنے پر گرفتار کیا گیا۔مرنے والو ں کا تعلق ایم کیو ایم الطاف سے بتایا جاتا ہے۔ ملزمان کے قبضہ سے لوٹا ہوا مال اور جدید اسلحہ بر آمد ہوا۔ہلاک ہونے والوں میں شکیل گارڈن،دلشاد عرف منا ڈکیت اور حمید اللہ خان شامل ہیں۔چو تھے سا تھی محمد طارق نے ہتھیار ڈال دیئے۔ملزمان کے قبضہ سے ایک ایس ایم جی ،٢ ٹی ٹی پستول اور لو ٹا ہوا مال بر آمد ہوا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔

(جسارت،جنگ۔٢ نومبر)

 

٭سی آئی اے سول لائن نے رینجرز کے ہمراہ اورنگی ٹاو
¿ن اور نیو کراچی میں چھاپے مار کر پولیس کانسٹیبل سمیت ٥١ افراد کو ہلاک کر نے میں ملوث ٦ ملزمان کو گرفتار کر کے اسلحہ بر آمد کر لیا۔ملزمان کے قبضہ سے ایک سرکاری کلاشنکوف اور ٥ پستول بر آمد کئے گئے۔پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والو ں میں ایک ملز فر حت سینٹرل ایکسائز میں سپاہی اور ایم کیو ایم یونٹ ٠٤١۔بی کا یونٹ انچارج ہے۔ملزم نے پولیس کو بتایا کہ نارتھ کراچی میں قتل کی واداتو ں کی ہدایت سیکٹر انچار ج رضا بھائی دیتے تھے۔جبکہ تمام یونٹو ں کو چندہ جمع کر کے اسلحہ خرید نے کی ہدایات بھی رضا بھائی کی طرف سے ملتی ہیں۔ملزم نے قتل،پولیس پر فائرنگ اور گاڑیا ں نذر آتش کر نے کی متعدد وارداتو ں کا اعتراف کیا ہے۔

(جنگ۔٢ نومبر)

 

٭کراچی وسطی کے علاقہ گلبرگ کے ایک مکان میں جمعرات کو تربیت یافتہ منظم دہشت گردوں نے ٢ سگے بھائیو ں،ایک سپاہی،تعمیراتی ٹھیکیدار اور علاقے کے چوکیدار سمیت ٥١ افراد کو انتہائی بہیمانہ اور سفاکانہ طریقے سے اندھا دھن فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔تفصیلات کے مطابق تقریباً ایک درجن تربیت یافتہ دہشت گردوں نے مکان میں گھس کر ٨١ افراد کو یرغمال بنا لیا،ان کی آمکھو ں پر پٹیا ں باندھیں اور ہا تھ پیر باندھ کر قطار میں بٹھا دیا۔بعد ازاں دہشت گردوں نے بیک وقت ٢ جاند سے ان افراد پر گولیو ں کی بو چھا ڑ کر دی۔جس کے بعد لاشیں ایک دوسرے پر گر پڑیں۔ایک شخص معجزانہ طور پر بچ گیا۔ ہلاک ہونے والو ں کا تعکق رحیم یار خان،راجن پور اور مانسہرہ سے تھا۔۔اجتماعی قتل کے علاوہ دیگر علاقوں میں اغوائ،تشدد اور لوٹ مار کی وارداتو ں میں مزید ٦ افراد جا ں بحق ہو گئے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٣ نومبر)

 

٭وزیر داخلہ میجر جنرل (ر) نصیر اللہ بابر نے کہا ہے کہ گزشتہ شب کراچی میں ٥١ بے گناة افراد کو قتل کر نے والے دہشت گردوں کا ٤٢ گھنٹے میں سراغ لگا لیا جائے گا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ گلبرگ کے واقعہ میں الطاف گروپ کے دہشت گرد ملوث ہیں۔یہ اس بات کا رد عمل ہے کہ گزشتہ روز پولیس نے الطاف گروپ کے شکیل گارڈن اور اس کے دو سا تھیو ں کو ہلاک کیا تھا۔اس واقعے میں نعیم شری گروپ ملوث ہے۔

(جسارت،جنگ۔٣ نومبر)

 

٭ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے جمعرات کے روز ٥١ مزدوروں کے سفاکانہ قتل کو کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے جمعہ کو یوم احتجاج اور اپنے سا تھیو ں کے قتل پر یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٣ نومبر)

 

٭وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ نے اس تا ثر کو کہ حکومت لسانی فسادات کرانا چاہتی ہے سختی سے رد کر تے ہوئے کہا ہے کہ لسانی فسادات کرانا تو الطاف گروپ کا منشور ہے اور وہی لسانی بنیا دو ں پر سیاست کر تے ہیں۔کراچی ضلع وسطی کے علاقے سمن آباد میں ٥١ افراد کے اجتماعی قتل کا ذمہ دار الطاف گروپ ہے۔شہر میں ہونے والی قتل و غارت گری اس کا کیا دھرا ہے۔وہی ان سب واقعات کی ذمہ دارہے۔وہ جمعہ کو وزیر اعلیٰ ہا و
¿س میں ہنگامی پریس کانفرنس کر رہے تھے۔انہو ں نے کہا کہ سمن آباد میں ٥١ افراد کا قتل کر نے والی ٹائیگر فورس الطاف گروپ سے کوئی علیحدہ چیز نہیں۔ انہو ں نے کہا کہ عظیم احمد طارق اور صلاح الدین (ایڈیٹر تکبیر) کے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والے ملزمان الطاف گروپ سے تعلق ظاہر کر چکے ہیں۔الطاف حسین کو پاکستان کے حوالے کر نے کے لئے بر طانیہ پر دباو
¿ ڈال رہے ہیں۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٤ نومبر)ا

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ سمن آباد میں ٥١ مزدوروں کے بہیمانہ قتل کے حوالے سے جو ثبوت و شواہد سامنے آئے ہیں ان سے یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ اس سانحہ کی ذمہ دار موجودہ حکومت اور اس کی ایجنسیاں ہیں۔انہو ں نے کہا کہ حکمراں اجتماعی قتل کا الزام ایم کیو ایم پر لگا کر اپنے جرائم پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔انہیں اس کا حساب دینا ہو گا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٤ نومبر)

 

٭فیدرل بی ایریا کے علاقے سمن آباد میں ٥١ افراد کے بہیمانہ قتل میں ملوث ٤ ملزمان کو گلبرگ پولیس اور رینجرز نے گلبر گ کے ایک مکان پر مشترکہ چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا۔پاکستان رینجرز ہیڈ کوارٹر سندھ کے اعلامئے کے مطابق خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ سانحہ سمن آباد کے کچھ ملزمان ایک مکان میں موجود ہیں۔گلبر پولیس اور رینجرز نے مشترکہ چھاپہ مار کر ملزمان حنیف برنی،ندیم،مولا بخش اور عبدالوحاب کو گرفتار کر لیا۔ اور ان کے قبضہ سے اسلحہ اور ہینڈ گرینڈ بر آمد کر لئے۔اعلامیہ کے مطابق ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہیں نعیم شری نے حکم دیا تھا کہ شکیل گار ڈن اور دیگر سا تھیو ں کی ہلاکت کا بدلہ لینا ہے اور لندن سے "بڑے بھائی"نے حکم دیا ہے کہ اب تک بڑے کامو ں سے بھی کوئی برا کام کیا جائے۔

(جنگ۔٥ نومبر)

 

٭دہشت گردی اور فائرنگ کے واقعات میں ہفتے کو ایک خاتون سمیت ٥ افراد جا ں بحق ہو گئے۔مسلح افراد نے بفر زون میں پولیس موبائل پر فائرنگ کر دی جوابی فائرنگ سے ایک ملزم ہلاک اور ای کو گرفتار کر لیا گیا۔ملزمان کا تعلق ایم کیو ایم سے بتایا جاتا ہے۔جبکہ ایم کیو ایم نے دعویٰ کیا ہے کہ سلہی جٹ کو گرفتار کر نے کے بعد قتل کیا گیا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٥ نومبر)

 

 ٭کراچی میں اتوار کو کورنگی توسیعی،تیموریہ،سولجر بازار،ملیر سٹی اور گلستان جو ہر تھانے کی حدود میں دہشت گردی اور قتل غارت گری کی وارداتوں میں ایک ریٹائرڈ فوجی،ایک پولیس اہلکار اور ٢ خواتین سمیت ٦ افراد ہلاک ہو گئے۔جبکہ ٣ زخمی ہوئے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٦ نومبر)

 

٭وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے کہا ہے کہ حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات ضروری ہیں۔اگر الطاف گروپ اسلحہ پھینک دے تو حکومت کے سامنے اس کی وکالت میں کروں گا۔گلبرگ میں ٥١ مزدوروں کا قتل الطاف گروپ نے ایک دن پہلے اپنے سا تھیو ں کے مارے جانے کے رد عمل میں کیا۔الطاف گروپ کے ٩ میں سے ٤ گرفتار شدگان نے قتل کا اعتراف کیا ہے۔اور کہا ہے کہ قتل کے واقعہ کے دوران نعیم شری بھی موجود تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ انٹر پول کو الطاف حسین کے خلاف متعدد شہادتیں فراہم کی ہیں تاکہ انہیں گرفتار کر کے پاکستان لایا جائے اور وہ عدالتو ں کا سامنا کریں۔انہو ں نے کہا کہ الطاف گروپ کے تین چار بڑے دہشت گردوں کے گروپ کام کر رہے ہیں جنہیں جلد ہی پکڑ لیا جائے گا۔ وہ اسٹیٹ گیسٹ ہاو
¿س کراچی میں صحافیو ں سے گفتگو کر رہے تھے۔انہو ں نے کہا کہ میری ساری توجہ الطاف حسین پر مرکوز ہے۔

(جسارت،جنگ۔٦ نومبر)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ علماءکرام،مذہبی رہنماءاور اسلام کے چیمپئن اور بوسنیا میں پر ہونے والے مظالم پر تپ اٹھتے ہیںمگر اپنے ہی ملک میں مہاجروں کے سا تھ کی جانے والی زیادتیو ں کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں کر تے۔انہو ں نے کہا کہ ہم کب تک فریادیں کر تے رہیں،کوئی ہماری فریاد سننے والا نہیں۔لہٰذا آپ تمام لوگ ذہنی طور پر اپنے آپ کو تیار کرنا شروع کر دیجئے تاکہ ملک بھر کے عوام کو ظلم،جبر اور استحصال کے خلاف ڈٹ کر جاگیردارانہ،وڈیرانہ اور سردارانہ نظام کے تسلط سے آزادی دلاسکیں۔اس لئے سر سے کفن باندھنا ہو گا اور میدان عمل میں نکلنا ہو گا۔الطاف حسین نے حا ضرین کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ جو قومیں موت کے خوف کو ختم کر دیتی ہیں موت پھر ان قوموں سے دور بھاگتی ہے اور جو قومیں موت سے ڈرتی ہیں وہ قومیں موت کے ہا تھو مر جاتی ہیں۔انہو ں نے ان خیالات کا اظہار سوئیڈن،یونان،جرمنی اور ساو
¿تھ افریقہ میں ایم کیو ایم کے بڑے اجتماعات سے ٹیلی فون پر خطاب کر رہے تھے۔

(جنگ۔٦ نومبر)

 

٭قتل و غارت گری کی ہدایت مجھے نعیم شری دیتا تھا جبکہ اسے الطاف حسین حکم دیتے تھے۔اس بات کا انکشاف گلبرگ میں ٥١ افراد کے اجتماعی قتل کی سفاکانہ واردات کے ملزم محمد حنیف بھنوری نے کیا ہے۔وہ منگل کی شام UBLاسپورٹس کمپلیکس میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر ملکی اور غیر ملکی صحافیو ں کی بڑی تعداد موجود تھی۔اس نے بتایا کہ بڑے بھائی(الطاف حسین )سے نعیم شری خود رابطہ کر تے تھے۔نعیم شری کی دھمکیو ں کے بعد میں نے کام کرنے پر آماد گی ظاہر کی تھی۔اس کے پہلے مر حلے میں ایم کیو ایم الطاف کے مخالف لڑکو ں کا کام تمام کرنا شروع کر دیا اور نعیم شری کے حکم پر لڑکو ں کو گرانا(ہلاک کرنا) شروع کر دیا۔اس نے بتایا کہ ٣١ اگست کی رات نعیم شری کی سربراہی میں ٤١ اگست کو ٤١ کا تحفہ(٤١ کا قتل) کی منصوبہ بندی کی تھی اور نار تھ کراچی کے علاقے سے ٤١ افراد کو اغواءکیا تھا۔ان میں سے ٤ افراد کو نعیم شری نے قتل کیا۔ملزم نے ٥١ افراد کے قتل سے متعلق بتایا کہ نعیم شری نے بڑے تحفے کی تیاری کے لئے مجھے گلبرگ کے ایک مکان میں لے گئے جہا ں ٥١ افراد بھی بیٹھے تھے۔موقع واردات پر مجھے نگرانی کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔نعیم شری نے کلاشنکوف اور دوسرے ہتیار ہمیں دیئے تھے۔ہم نے نعیم شری کے حکم پر ان افراد پر گولیا ں چلادیں۔اس نے بتایا کہ میں اب تک ٤٢ افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہو ں۔یہ قتل نعیم شری بھائی کی ہدایت پت کئے۔انہو ں نے کہا کہ مہاجر ٹائیگر فورس کی سربراہی نعیم شری کر تا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ وہ خود بھی مہاجر فورس کا ممبر تھا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٨ نومبر)

 

٭کراچی میں نامعلوم دہشت گردوں نے جمعرات اور جمعہ کو اغواء،تشدد اور فائرنگ سے ٧ افراد کو ہلاک کر دیا۔جبکہ ایک ہیڈ کانسٹیبل سمیت ٦ افراد زخمی ہوئے۔دو دن میں اورنگی سے ٥ لاشیں ملیں۔ہلاک ہونے والو ں میں پیپلز پار ٹی کے ٣ کارکن بھی شامل ہیں۔

(جنگ،DAWN۔ ١١ نومبر)

 

٭کراچی غربی اور وسطی کے علاقوں میں ایم کیو ایم کے جوائنٹ یونٹ انچارج اور ایک ASIسمیت ٦ افراد کو قتل کر دیا گیا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔ ٢١ نومبر)

 

٭کراچی کے مختلف علاقوں میں ٠١ افراد دہشت گردی کا نشانہ بن گئے۔ہلاکتیں کورنگی،لیاقت آباد،شریف آباد،نیو کراچی اور بلدیہ ٹاو
¿ن میں ہوئیں۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٣١ نومبر)

 

٭کراچی پولیس لائن جنوبی ملحقہ فیملی کوارٹرز اور پولیس کے دیگر دفاتر پر راکٹو ں سے حملے میں ٦ ماہ کی بچی اور DSP کے بیٹے سمیت ١١ افراد شدید زخمی ہو گئے۔پولیس نے حملہ کے بعد واپس جاتے ہوئے مسلح افراد کا تعقب کر کے مقابلہ کیا۔جس سے مبینہ دہشت گرد ہلاک اور دو گرفتار کر لئے گئے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٤١ نومبر)

 

٭کراچی میں جاری دہشت گردی کی معمول کے مطابق وارداتو ں کے دوران ٢ بھائیو ں اور ایک پولیس اہلکار سمیت ٥ افراد جا ں بحق اور کئی شدید زخمی ہو گئے۔گلستان جو ہر سے ایک ہیڈ کانسٹیبل اور ایک وڈیرے کمال جو کھیو کی بوری بند لاشیں ملیں۔ہلاک ہونے والو ں میں ایک ایم کیو ایم کا کارکن بھی شامل ہے۔

(جسارت،جنگ۔٤١ نومبر)

 

٭وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کی بغاوت بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے اور الطاف حسین پاکستان کی یکجہتی اور سالمیت کے خلاف کام کر رہے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ الطاف گروپ کو چاہئے کہ ہتھیار پھینک دے اور مفرورین کو حکومت کے حوالے کر دے۔

(جسارت،جنگ۔٧١ نومبر)

 

٭شہر کے مختلف علاقوں میں نا معلوم افراد کی فائرنگ سے سب ڈویژن ایجوکیسن افسر سمیت ٣ افراد جا ں بھق اور ٤ شدید زخمی ہو گئے۔

(جسارت،DAWN۔٨١ نومبر)

 

٭کراچی کے مختلف علاقوں میں جاری دہشت گردی کا شکار ہو کر آج بھی ٣ افراد جا ں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔مختلف علاقوں میں زخمی ہونے والے ٢ افراد بھی چل بسے۔گلشن تھانے پر حملہ کر کے دستی بم اور گولیا ں بر سائی گئیں۔جس سے تھانہ کا ہیڈ محرر زخمی ہوا۔

(جسارت،جنگ۔١٢ نومبر)

 

٭کراچی کے متعدد علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں پولیس کانسٹیبل سمیت ٢ افراد ہلاک ہو گئے۔جبکہ رینجرز اور پولیس نے اورنگی ٹاو
¿ن کے مختلف علاقوں کا محساصرہ کر کے گھر گھر تلاشی کے دوران ٨٢ افراد کو حراست میں لیا۔تلاشی کے دوران ٢ کلاشنکوف اور ٧ ٹی ٹی بر آمد ہوئے۔

(جنگ۔٢٢ نومبر)

 

٭شریف آباد،اورنگی توسیعی اور سائٹ تھانے کی حدود میں ٣ نا معلوم افراد کی لاشیں ملیں۔انہیں مختلف مقامات سے اغواءکر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گولیا ں مار کر ہلاک کیا گیا۔ایک لاش بوری میں بند تھی۔جبکہ پولیس اور رینجرز نے گلشن اقبال،رنچھوڑ لائن اور گلزار ہجری کے علاقوں کی ناکہ بندی کر کے درجنو ں افراد کو حراست میں لے لیا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٣٢ نومبر)

 

٭گلبرگ کے علاقے میں نا معلوم دہشے گردوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ کے بھائی ،ان کے دوست اور ڈرائیور کو گولی مار کر قتل کر دیا۔تفصیلات کے مطابق گلبرگ تھانے کے علاقہ فیڈرل بی ایریا بلاک ٠١ میں ایس ایس پی وسطی کے دفتر کے قریب نا معلوم ملزمان نے اندھا دھن فائرنگ کر کے سید احسان علی شاہ،احسان چانڈیو اور محمد عیسیٰ(ڈرئیور) کو قتل کر دیا۔واردات کے بعد ضلع وسطی کا محا صرہ کر لیا گیا اور شہر بھر میں چھاپو ں کے دوران درجنو ں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٤٢ نومبر)

 

٭کھارا در کے علاقے میں جمعرات کی دو پہر سابقہ پی سی سی آئی بینک بلڈنگ سے ملحقہ ممتاز حسین رو ڈ پر پار کنگ میں رکھا گیا ٹائم بم پھٹنے سے ایک شخص جا ں بحق اور ایک شدید زخمی ہو گیا۔جبکہ متعدد گا ڑیا ں تباہ ہو گئیں۔

(جسارت،جنگ۔٤٢ نومبر)

 

٭وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ کے چھو ٹے بھائی،احسان علی شاہ کے قتل کا ذمہ دار الطاف گروپ ہے۔دریں اثناءگورنر سند کمال اظفر نے وزیر اعلیٰ سندھ کے بھائی احسان علی شاہ کے بہیمانہ قتل کو ایک بزدلانہ کاروائی قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار الطاف گروپ کو ٹھرایا اور کہا کہ الطاف گروپ مظفر گھڑ کے ٥١ محنت کشو ں کے قتل اور لیا قت آباد سپر مارکیٹ مین قتل عام کا بھی ذمہ دار ہے۔

(جنگ۔٤٢ نومبر)

 

٭شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس اور نامعلوم شرپسندوں کی فائرنگ سے مبینہ دہشت گرد اور ایم کیو ایم حقیقی کے ایک کارکن سمیت ٧ افراد جا ں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٥٢ نومبر)

 

٭کراچی کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔کورنگی میں ایم کیو ایم حقیقی کے ٢ کارکنو ں کو قتل کر کے لاشیں مختلف علاقوں میں پھینک دی گئیں۔مجموعی طور پر ٦ افراد لقمہ اجل بن گئے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٦٢ نومبر)

 

٭شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس فائرنگ سے ٦ اور دہشت گردوں کی فائرنگ سے کمسن طالبہ سمیت ٦ افراد ہلاک ہو گئے۔متعدد علاقوں میں اچانک محاصرے کے بعد چھاپے مارے گئے اور درجنو ں افردار گرفتار کر لئے گئے۔تفصیلات کے مطابق کورنگی کے علاقہ سیکٹر ٢٣ میں علی پبلک اسکول کے قریب پولیس فائرنگ سے مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے ٣ کارکن امان اللہ،شمس العالم اور محمد طالب عرف طالکا ہلاک ہوگئے۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہیں خفیہ ذرائع سے شرپسندوں کے بارے میں اطلاع ملی تھی۔پولیس پار ٹی جو ں ہی علاقہ میں گئی ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی۔جوابی فائرنگ سے تینو ں شرپسند مارے گئے۔پولیس نے مارے جانے والے ملزمان کے قبضہ سے ایک کلاشن کوف،٢ ٹی ٹی پستول اور گولیو ں سے بھرا ہوا تھیلا بر آمد کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔گلبہار کے علاقے میں بھی پولیس فائرنگ سے ٢ افراد مارے گئے جن کے بارے میں پولیس نے شر پسند ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔صدر کے علاقہ میں بھی ایک مبینہ ڈاکو پولیس فائرنگ سے ہلاک ہوا۔پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والو ں کے بارے میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے دہشت گرد تھے۔جبکہ ایم کیو ایم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دو کارکنو ں کو جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٨٢ نومبر)

 

٭ایم کیو ایم حقیقی اوورسیز ڈویژن شکاگو کے کارکنوں نے شکاگو میں واقع بر ٹش قونصلیٹ کے نام ایک یاداشت پیش کی ہے۔جس میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو بر طانیہ سے نکالنے کی در خواست کی گئی ہے۔یاداشت میں ایم کیو ایم حقیقی نے بر طانیہ کے وزیر اعظم کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پاکستان میں قتل کے متعدد مقدمات میں مطلوب ہے اور وہ برطانیہ میں بھی دہشت گردی کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔لہٰذا انہیں پاکستانی انتظامیہ کے حوالے کر دینا چاہیے۔

(جسارت۔٨٢ نومبر)

 

٭کراچی میں نامعلوم دہشت گردوں نے منگل کو اغوائ،تشدد اور فائرنگ کے واقعات میں دو سگے بھائیو ں سمیت ٤ افراد ہلاک اور کاتون سمیت ٣ کو زخمی کر دیا گیا۔

(جنگ،DAWN۔٩٢ نومبر)

 

٭کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلے میں ایم کیو ایم کا یونٹ انچار ہلاک ہو گیا۔پولیس نے اس کے ٣ سا تھیو ں کو اسلحہ سمیت گرفتار کر نے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔پولیس کے مطابق کورنگی نمبر ٢ ٹی ایریا میں زمان ٹاو
¿ن پولیس ے مقابلے میں ایم کیو ایم کا یونٹ انچارج نعیم عرف پیلا ہلاک جبکہ ملزمانفیصل،رشید اور نور الدینکو پولیس نے گرفتار کر کے تین ٹی ٹی پستول اور مو ٹر سائیکل بر آمد کر لی۔جبکہ ایم کیو ایم نے دعویٰ کیا ہے کہ نعیم کو گرفتار کر کے قتل کیا گیا۔

(جنگ،DAWN۔٠٣ نومبر)

 

٭شہر میں پولیس اور رینجرز کے سخت حفاظتی اقدامات کے با وجود دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا۔شریف آباد،غریب آباد میں ٣ افراد سمیت ٤ افراد ہلاک ہو گئے۔ہلاک ہونے والو ں میں ایک ایم کیو ایم کا کارکن بتایا جاتا ہے۔پولیس کے مطابق وہ دہشت گرد تھا اور اسے پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔دوسری جانبپولیس نے ایم کیو ایم کے کارکنو ں ارشد عرف کالیا اور وحید عرف وحید اللہ کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے ٢ کلاشنکوف بر آمد کر نے کا دعوی ٰ کیا ہے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٢ دسمبر)

 

٭ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے ایم کیو ایم کے کارکن حمد نعیم کے جلوس جنازہ پر رینجرز اور پولیس کے حملے اور خواتین کے ہا تھو ں محمد نعیم کی تدفین کو پاکستان کی تاریخ کا بدترین سانحہ قرار دیتے ہوئے مہاجروں سمیت سندھ بھر کے حق پرست عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اتوار ٣ دسمبر کو یوم سوگ و احتجاج منائیں۔دریں اثناءایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی تو ثیق کر تے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ قطعی درست اور بر وقت ہے۔انہو ں نے اس سلسلے میں اپنے بیان میں وزیر داخلہ کی فوری بر طرفی اور ان کے خلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی کیا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٣ دسمبر)

 

٭ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی جانب سے یوم احتجاج کی اپیل پر اتوار کو کراچی سمیت اندرون سندھ معمول کی شہری زندگی معطل رہی۔کراچی کا ضلع وسطی سب سے زیادہ متا ثر رہا۔اسٹاک اور کاٹن مارکیٹیں بند رہیں۔حیدر آباد میں ہڑتال پر تشدد رہی جس میں
µ افراد زخمی اور ٣ گا ڑیا ں نذر آتش کر دی گئیں۔شالیمار ایکسپریس،پولیس موبائلوں اور چوکیو ں پر حملے کئے گئے۔کراچی میں اورنگی میں فائرنگ سے ایک نو جوان ہلاک جبکہ شریف آباد میں کار نذر آتش کر دی گئی۔نا معلوم شرپسندوں نے اورنگی میں فائرنگ کر کے ٹیلی فون کیبنٹ اڑا دیا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٤ دسمبر)

 

٭کراچی میں فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں ٥ افراد جا ں بحق ہو گئے۔ اورنگی میں دہشت گردوں نے ٤ افراد کو بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر کے پھینک دیا۔نا معلوم مقام سے اغواءکر کے ہاتھ پیر باند کر تشدد کے بعد قتل اور پھر لاش کو جلاکر بوری میں بند کر کے اسٹیڈیم روڈ پر آرمی اسٹور کے قریب پھینک دی۔اورنگی سیکٹر گیارہ سے بوری میں بند ٣ لاشیں ملیں۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٥ دسمبر)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی فاشسٹ،نسل پرست حکومت مہاجروں پر وہ چنگیزی و یزیدی مظالم مطالم ڈا رہی ہے جس کا کسی مہذب معاشرے میں تصور بھی محال ہے۔

(جسارت،جنگ۔٥ دسمبر)

 

٭اورنگی میں مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کی متعدد وارداتو ں میں ملوث ملزم ہلاک ہو گیا جبکہ نعیم شری دیگر سا تھیو ں کے ہمراہ موقع سے فرار ہو نے میں کامیاب ہو گیا۔پولیس مقابلے کے بعد رینجرز نے قرب و جوار کا محا صرہ کر کے گھر گھر تلاشی لی لیکن نعیم شری کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔پولیس کے مطابق پولیس کی جوابی فائرنگ سے ملزم واجد علی عرف صدر ہلاک ہو گیا۔جس کے قبضہ سے ایک کلاشنکوف اور ایک مسروقہ موٹر سائیکل بر آمد ہوئی۔پولیس کے مطابق مقابلے میں ہلاک ہو نے والا ملزم ٦ پولیس اہلکاروں سمیت ١٢ افراد کے قتل کے الزام میں مطلوب تھا۔دریں اثناءہلاک ہونے والے واجد علی کے والد نے الزام لگایا ہے کہ واجد علی کو پولیس نے پیر اور منگل ی درمیانی شب نارتھ کراچی سے گرفتار کیا تھا اور ایک گھنٹے بعد اسے جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا۔

(جنگ،DAWN۔٦ دسمبر)

 

٭رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے گزشتہ روز گلبرگ تھانہ کے علاقہ سمن آباد سے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بڑے بھائی نا صر حسین اور ان کے بیٹے عارف حسین کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ عمر رسیدہ نا صر حسین کو پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے بدھ کی شب اور ان کے بیٹے عارف حسین کو گزشتہ شب حراست میں لیا۔الطاف حسین کے بہنوئی پہلے ہی پولیس اور رینجرز کی حراست میں ہیں۔

(جسارت،DAWN۔٨ دسمبر)

 

٭ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے فیسلہ کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنماو
¿ں اور کارکنوں کے اہل خانہ کی بڑھتی ہوئی گفتاریوں اور ان پر حراست کے دوران ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف ٠١ دسمبر بروز اتوار کو سندھ بھر میں یوم احتجاج منایا جائے گا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٩ دسمبر)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بڑے بھائی نا صر حسین اور ان کے صاحبزادے عارف حسین کو آج قتل کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق آج صبح گڈاپ تھانے کے علاقہ میں جام گو ٹھ سے تقریباً ٢ کلو میٹر کے فاصلے پر خواجہ چوک اور ٹھڈو نالہ کے قریب ٢ افراد کی لاشیں ملیں۔جنہیں ہا تھ پیر باندھ کر سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔بعد ازاں یہ لاشیں علاقہ میں پھینک دی گئیں۔جنہیں ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال لایا گیا۔رات گئے دونو ں مقتولین کو ٥٥ سالہ نا صر حسین اور ٥٣ سالہ عارف حسین کی حیثیت سے شنا خت کر لیا گیا۔ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بڑے بھائی نا صر حسین اور ان کے صاحبزادے عارف حسین کے قتل کی اطلاف شہر میں رات گئے جنگل کی آگ کی طر ح پھیل گئی۔

(جسارت،جنگ۔٠١ دسمبر)

 

٭کراچی میں فائرنگ،جلاو
¿ گھیراو
¿ اور دہشت گردی کی مختلف وارداتو ں میں ٥ افراد جا ں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔جبکہ کئی گا ڑیا نذر آتش کر دی گئیں۔

(جسارت،DAWN۔٠١ دسمبر)

 

٭ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے حکومت کے ہا تھو ں الطاف حسین کے بڑے بھائی ناصر حسین اور بھتیجا عارف حسین کے سفاکانہ قتل کو سیاسی انتقام،سفاکی اور درندگی کی بد ترین مثال قرار دیتے ہوئے اس سانحہ پر ٣ روزہ یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٠١ دسمبر)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بڑے بھائی نا صر حسین اور ان کے صاحبزادے عارف حسین کے قتل پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی جانب سے ٣ روزہ سوگ کے پہلے دن اتوار کو کراچی میں پولیس و رینجرز کے مسلسل گشت کے با وجود نامعلوم فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔جس سے ایک خاتون سمیت ٨ افراد جا ں بحق اور ٣ پولیس اہلکاروں سمیت ٦ افراد زخمی ہوئے۔ایک بینک اور ٨ گا ڑیو ں کو جلا دیا گیا۔ہلاک ہونے والوں میں پیپلز پار ٹی کے ٤ کارکن بھی شامل ہیں۔حیدر آباد میں پولیس اور شرپسندوں میں جھڑپیں ہوئیں،بکتر بند پر حملہ کیا گیا جس سے ٢ پولیس اہلکاروں سمیت ٦ افراد زخمی ہو گئے۔٧ بینک نذر آتش کر دیئے گئے۔پولیس نے ٥١ افراد کو گرفتار کر لیا۔دوسری جانب ایم کیو ایم رابکہ کمیٹی نے تیسرے روز سوگ کی اپیل واپس لے لی ہے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔١١ دسمبر)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ میرے شہید تحریکی سا تھیو ں کی طر ح میرے بڑے بھائی اور بھتیجہ بھی معصوم اور بے گناہ تھے۔اس کا سیاست سے دور کا تعلق بھی نہیں تھا۔لیکن اس کے با وجود ظالم حکمرانو ں نے انہیں بے رحمی سے قتل کر دیا۔انہو ں نے کہا کہ میرے بھائی اور بھتیجے کا قتل ایک منظم سازش اور سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ جسے تیار کر نے اور اس پر عمل در آمد کی ذمہ داری صدر مملکت فاروق لغاری،وزیر اعظم بے نظیر زرداری،وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر،گورنر سندھ کمال اظفر،اور وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ پر عائد ہو تی ہے۔لہٰذا میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کر تا ہو ں کہ وہ میرے بھائی نا صر حسین اور بھتیجے عارف حسین کے قتل کا مقدمہ مذکورہ ارباب اختیار کے خلاف درج کریں اور کھلی عدالتو ں میں مقدمہ چلائیں۔

(جنگ،DAWN١١ دسمبر)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بڑے بھائی نا صر حسین اور ان کے صاحبزادے عارف حسین کے المناک قتل پر ہونے والی ہڑتال کے دوسرے روز شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور جلاو
¿ گھیراو
¿ کا سلسلہ جاری رہا۔مختلف علاقوں میں محا صرے اور چھاپے بھی جاری رہے۔شرپسندوں نے پیٹرول پمپ،ڈاکخانہ اور متدد گا ڑیا ں نذر آتش کر دیں۔فائرنگ سے ٣ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔کراچی میں دو روزہ ہڑتال کے باعث حکومت کے ریونیو کی مد میں ایک ارب روپے کا خصارہ ہوا۔جبکہ تاجروں اور صنعت کاروں کو ہڑتال کے باعث دو دنو ں میں ٠١ ارب روپے کا نقصان بر داشت کر نا پڑا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٢١ دسمبر)

 

٭لیاقت آباد کے علاقہ میں لیاقت آباد پولیس کے مطابق ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بھائی کی تدفین کے موقع پر سخت انتظامات کئے گئے تھے۔بعض افراد علقہ میں آئے،انہیں بکتر بند گاڑی نے روکنے کا اشارہ کیا ،جس پر ٹیکسی میں سوار افراد نے تین ہٹی کی طرف فرار ہونے کی کوشش کی۔رینجرز کی جوابی فائرنگ سے ٣ افراد موقع پر چل بسے جبکہ ایک فرار ہو نے میں کامیاب ہو گیا۔پولیس نے ملزمان کے قبضہ سے ایک کلاشنکوف اور ٣ پستول بر آمد کر لئے۔جبکہ مختلف علاقوں میں فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں ٢ افراد جا ں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔محکمہءٹیلی فون کے گودام کو آگ لگا دی گئی اور متعدد گا ڑیا ں نذر آتش کر دی گئیں۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٣١ دسمبر)

 

٭امریکی محکمہءخارجہ نے کہا ہے کہ کراچی میں حالیہ تشدد کے خاتمہ کا بہترین راستہ میز پر سودے بازی ہے۔حکومت اور ایم کیو ایم مذاکرات شروع کریں۔محکمہءکارجہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور انتہائی اہم بندر گاہ کراچی میں اس سل کے آغاز سے تقریباً ٨١ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

(جسارت،DAWN۔٣١ دسمبر)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ میرے بھائی اور بھتیجے کے قتل میں عبداللہ شاہ براہ راست ملوث ہیں۔انہو ں نے کہا کہ منصوبہ سازوں کو صدر،وزیر اعظم ،گورنر سندھ اور وزیر داخلہ کا کملم تعاون اور معاونت حا صل ہے۔الطاف حسین نے محب وطن پاکستانیو ں کے نام اپنے ایک خط میں کہا ہے کہ میرے پاس اپنے بھائی اور بھتیجے کی گرفتاری اور ان کے بھیانک قتل کے ٹھوس ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔میرے پاس ٹھو س ثبوت موجود ہیں کہ میرے بھائی اور بھتیجے کے قتل میں حکومت ملوث ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ براہ راست ملوث ہیں۔انہو ں نے کہا کہ اگر حکومت اس قتل میں ملوث نہیں تو بین الاقوامی ججو ں پر مشتمل کمیشن تشکیل دے جہا ں وہ قاتلو ں کے خلاف ثبوت و شواہد پیش کر سکیں۔

(جسارت،جنگ۔٤١ ستمبر)

 

٭کراچی میں بدھ کو ایک بچی اور ایک خاتون سمیت ٦ افراد ہلاک ہو گئے۔(جسارت،ڈان۔٤١ دسمبر)

 

٭کراچی کے مختلف علاقوں میں نا معلوم افراد کی فائرنگ سے ٤ افراد ہلاک ہو گئے۔اورنگی توسیعی کے علاقہولایت شاہ کالونی میں پولیس کی فائرنگ سے ایک نو جوان افتخار احمد ہلاک ہو گیا۔علاقہ پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر انہو ں نے علاقہ میں ناکہ بندی کر کے ملزم کی گرفتاری کے لئے چھاپہ مارا۔ملزم نے پولیس پر فائرنگ کر تے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی۔پولیس کی جوابی فائرنگ سے ملزم افتخار اخمد شدید زخمی ہوا۔جو طبی امداد ملنے سے پہلے چل بسا۔پولیس نے مارے جانے والے ملزم کے قبضہ سے ایک سیون ایم ایم رائفل اور ایک ٹی ٹی پستول بر آمد کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں مارا جانے والا افتخار احمد ایم کیو ایم کا رکن بتایا جاتا ہے۔(جسارت،ڈان۔٥١ دسمبر)شہر کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے جاری سلسلے کی زد میں آکر آج بھی ٨ افراد لقمہ اجل بن گئے۔لیاقت آباد میں ٢ بھائیو ں کو قتل کر کے لاشیں پھینک دی گئیںَ

(جسارت۔٧١ دسمبر)

 

٭ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج جاوید قیصر نے ایم کیو ایم (الطاف ) کے قائد الطاف حسین،جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عمران فاروق،سلیم

شہزاد،صفدر باقری سمیت ٠٢ رہنماو
¿ں و کارکنان کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں۔اورنگی تھانے نے ١٢ جون ٢٩٩١ءکو محمد عثمان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا جس میں مدعی نے قانونی تقاضے پورے کر نے کے بعد ایک پلاٹ خریدا تھا۔ایم کیو ایم الطاف کے کارکنو ں نے اس پلاٹ کے عیوض ٣ لاکھ روپے طلب کئے بصورت دیگر پلاٹ کالی کر نے کا حکم دیا تھا۔بعد ازاں کارکنان نے اسے اغواءکیا اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

(جسارت۔٨١ دسمبر)

 

٭حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان ڈیڈ لاک ختم کراکے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرانے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔اور سندھ نیشنل کے چیئر مین اور سندھ اسمبلی کے رکن ممتاز علی بھٹو اور سابق گورنر سندھ محمود اے ہارون ایم کیو ایم کو اس بات پر آمادہ کر نے میں ناکام رہے ہیں کہ حکومت سے مذاکرات دوبارہ شرع کئے جائیں۔با خبر ذرائع کے مطابق ممتاز علی بھٹو اور محمود اے ہارون سمیت بعض سیاستداتو ں کے توسط سے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے ایم کیو ایم الطاف کو دوبارہ مذاکرات شروع کر نے پر آمادہ کر نے کی کوشش کی تھی۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم الطاف گروپ نے حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کر نے سے انکار کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات میں جو ڈیڈ لاک ہے اسے ختم کر نے کے لئے حکومت ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سمیت اہم لوگو ں کے خلاف مقدمات واپس لے،وزیر اعلیٰ سندھ کو تبدیل کیا جائے اور آپریشن کو روکا جائے۔

(جسارت۔٠٢ دسمبر)

 

٭شریف آباد اور کورنگی کے علاقوں میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کی زد میں آکر ایک تاجر سمیت ٣ افراد جا ں بھق اور کئی زخمی ہو گئے۔الکرم اسکوائر کے اطراف میں دن بھر فائرنگ ،پتھراو
¿ اور پولیس مقابلے ،محاسرے اور گرفتاریو ں کا سلسلہ جاری رہا۔مشتعل افراد نے ایک ٹرک اور بینک کو آگ لگا دی۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٠٢ دسمبر)

 

٭پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی بلاک ٦ میں واقع امام بارگاہ پر مسلح دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی جس سے ٢ نمازی شہید اور ٤ شدید زخمی ہوئے۔پولیس کی جوابی فائرنگ سے ٢ دہشت گرد مارے گئے۔جبکہ باقی دو کو گرفتار کر لیا گیا۔دیگر واقعات میں ٢ افراد ہلاک ہوئے۔

(جسارت،جنگ۔١٢ دسمبر)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کراچی میں مہاجرو ں کی نسل کشی اور ریاستی دہشت گردی جاری ہے۔وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں انہو ں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سینکڑو ں کارکنو ں کارکنو ں کو قانون نافذ کر نے والوں کی حراست میں قتل کیا جا چکا ہے۔عالمی اداروں کو چاہئے کہ وہ غیر ملکی ججوں پر مشتمل ایک کمیشن سندھ بھیجیں تاکہ وہ وہا ں صورتحال کا جائزہ لے کر خود فیصلہ کریں کہ دہشت گرد ی کون کر رہا ہے۔

(جسارت،جنگ۔٢٢ دسمبر)

 

٭سی آئی اے کراچی نے کورنگی کے علاقہ سے  ایم کیو ایم کے یونٹ انچارج سمیت ٦ ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے اسلحہ بر آمد کر لیا۔ملزمان نے متدد گا ڑیا ں چھیننے اور کئی افراد کو قتل کر نے کا اعتراف کیا ہے۔گرفتار ہونے والوں میں الطاف گروپ کے یونٹ انچارچ انیس احمد خان اور اس کے پانچ سا تھیو ں مجید،محمد پرویز،علی محمد،عبداللہ،عاشق علی اور آصف شامل ہیں۔ملزمان کے قبضہ سے ٣ کلاشنکوف،٣ پستول اور بھاری مقدار میں گولیا ں بر آمد کر لی گئیں۔ملزمان علاقہ میں پولیس پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد کو قتل اور متعدد گا ڑیا ں چھیننے کا اعتراف کر لیا ہے۔ابتدائی تفتیش کے دورانملزمان ٩٢ موٹر سائکل چھیننے،٦١ گا ڑیا ں جلانے کے علاوہ مختلف علاقوں میں فائرنگ کر نے،جبری چندہ وصول کرنے میں ملوث رہے ہیں۔

(جسارت،DAWN۔٢٢ دسمبر)

 

 

٭شہر کے مختلف علاقوں میں ایم کیو ایم حقیقی کے ایک کارکن سمیت ٣ افراد کو قتل کیا گیا۔لانڈھی میں پوسٹر لگانے والے حقیقی کے کارکنو ں پر سرکاری نمبر پلیٹ والی گا ڑی سے فائر نگ کی گئی۔جبکہ ٢ لاشیں اورنگی اور ضیاءکالونی سی ملیں۔

(جسارت،جنگ۔٣٢ دسمبر)

 

٭لیاقت آباد میں پولیس کی فائرنگ سے ایم کیو ایم کا کارکن ہلاک ہو گیا۔پولیس کے مطابق انہیں خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا تھا کہ علاقہ میں بعض دہشت گرد موجود ہیں۔پولیس جونہی لیاقت آباد پہنچی تو ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کی۔پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک ملزم خالد رضا عرف ٹونی جو پولیس کو ٩ سنگین مقدمات میں مطلوب تھا زخمی ہو گیا۔جبکہ فہیم کنکٹا ،جا وید اختر،اسلم چور اور دیگر ملزمان فرار ہو گئے۔زخمی ملزم کو اسپتال لایا جا رہا تھا کہ وہ چل بسا۔جبکہ کورنگی میں دہشت گردں نے ٥ افراد کو قتل کر کے لاشیں پھینک دیں۔

(جسارت،DAWN۔٥٢ دسمبر )

 

٭وزیر داخلہ میجر جنرل(ر) نصیر اللہ بابر نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم ہتھیار پھینک کر سیاسی سرگرمیں شروع کرے تو حکومت اسے تحفظ اور مدد فراہم کرے گی۔ایسی سیاسی سرگرمیوں کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آیا تو میں ذمہ دار ہو ںگا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ میں مہاجروں کا دل سے احترام کر تا ہو ں۔انہو ں نے پاکستان کے لئے بے انتہا قربانیا ں دین۔کراچی کے حالات خراب کر نے میں صرف مہاجروں کا ایک چھو ٹا سا الطاف گروپ ملوث ہے۔وہی اس صورتحال کا ذمہ دار ہے۔انہو ں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے دہشت گرد پولیس مقابلو ں میں مارے جاتے ہیں ،ہمیں مہاجروں سے دشمنی نہیں۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٨٢ دسمبر)

 

٭اورنگی ٹاو
¿ن کے مبینہ پولیس مقابلے میں ایم کیو ایم الطاف کے سا بق کونسلر سید شبیر حسین عابدی ہلاک جبکہ ٦ افراد فرار ہو گئے۔ہلاک ہونے والے سے ایک کلاشنکوف بر آمد ہوئی۔وہ متعدد سنگین جرائم میں ملوث و مطلوب تھے۔پولیس ذرائع کے مطابق عابدیاپنے دیگر ٦ سا تھیو ں کے ہمراہ اورنگی توسیعی میں محمد شکیل کے گھر پر حملہ آور ہوا اور اسے ہلاک کر دیا۔وہ منصور نگر میں رہتا اور تھانے آتا جاتا تھا۔دہشت گرد اسے پولیس کا مخبر سمجھتے تھے۔اس کے گھر پر حملے اور شکیل کو ہلاک کر نے کی اطلاع اورنگی ٹاو
¿ن تھا نے کی گشتی پولیس کو ملی۔پولیس پار ٹی نے ملزم کا پیچھا کیا اور سیکٹر ١١ میں ملزمان اور پولیس کے درمیان مبینہ مقابلہ ہوا جس میں عابدی ہلاک اور اس کے سا تھی فرار ہو گئے۔دریں اثناءایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے شبیر حسین عابدی کے قتل کو ما ورائے عدالت قرار دیا ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر مملکت،وزیر اعظم،وفاقی وزیر داخلہ،گورنر سندھ اور دیگر رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام پر مقدمہ درج کر نے کا حکم جاری کریں۔

(جسارت،جنگ،،DAWN۔٨٢ دسمبر)

 

 

٭شہر کے مختلف علاقوں میں بدھ کو اغوائ،تشدد اور دہشت گردی کے واقعات میں ٣ افراد ہلاک اور ٢ زخمی ہو گئے۔ملیر میں بوری بند لاش بر آمد ہوئی۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٨٢ دسمبر)

 

٭سانحہ سمن آباد میں ٥١ افراد کے سفاکانہ قتل کے ٦١ مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے۔سانحہ ٢ نومبر ٥٩٩١ءکو پیش آیا تھا۔گلبر تھانہ نے زخمی نتھو خان کی رپورٹ پر مقدمہ درج کیا ہے۔انسداد دہشت گر دی کی خصوصی عدالت کے جج عبد المجید بھٹی نے مفرور ملزمان ایم کیو ایم کے ریحان کانا،فہیم کنکٹا،نعیم شری،محمد رضا،ندیم پٹنی،ندیم بچھو اور دیگر کو اشتہاری قرار دے دیا ۔

(جسارت،جنگ۔٨٢ دسمبر)

 

٭کراچی میں جمعرات کو نا معلوم دہشت گردوں نے اغوائ،تشدد اور فائرنگ کر کے ٢ کاقنسٹیبلو ں سمیت ٤ افراد کو ہلاک اور ٢ خواتین سمیت ٨ افراد کو زخمی کر دیا۔لیاقت آباد سے کانسٹیبل کی بوری بند لاش ملی۔

(جنگ۔٩٢ دسمبر)

 

٭شہر کے مختلف علقوں میں فائرنگ سے ٧ افراد ہلاک ہو گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ایم اے جنا ح روڈ اور صدر میں ٢ منی بسوں کو آگ لگا دی گئی۔۔نا معلوم شر پسندوں کی فائرنگ سے ٤،پولیس کی فائرنگ سے ٢ اور رینجرز کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا۔پولیس اور رینجرز کے ہا تھو مارے جانے والو ں کو مقابلے میں ہلاک ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور رینجرز سے مقابلے میں ہلاک ہو نے والو ں میں معراج عرف عباس،محمد ارشد قریشی اور محمد سلیم شامل ہیں۔مقتولین کا تعلق ایم کیو ایم سے بتایا جا تا ہے۔ملزمان ٤ پولیس اہلکاروں سمیت قتل کی ٠٢ سے زائد وارداتو ں،ڈکیتیو ں اور گا ڑیا ں نذر آتش کر نے کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔جبکہ ایم کیو ایم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں نیو کراچی کے ایس ایچ او(SHO) ذیشان کا ظمی نے گرفتار کر کے ہلاک کیا۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٠٣ دسمبر)

 

٭شہر کے مختلف علاقوں میں جاری معمول کے تشدد کے نتیجے میں ہفتہ کے روز کمسن بچے سمیت ٥ افراد جا ں بحق ہو گئے۔جبکہ کئی افراد زخمی ہو گئے۔

(جسارت،جنگ۔١٣ دسمبر)

 

 

 
< Prev   Next >
© 2012 MQM Watch - Exposing MQM Atrocities, Knowledgebase of Mutahidda Quami Movement's Activities
Joomla! is Free Software released under the GNU/GPL License.