|
|

|
Home Year by Year Review
|
٭وزیر داخلہ میجر جنرل نصیر اللہ بابر نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے کہا ہے کہ الطاف بھائی مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کریں اور ہتھیار کا راسطہ چھوڑ دیں۔وہ ایک مقامی روزنامہ سے گفتگو کر رہے تھے۔ (جسارت،جنگ۔٤ جولائی) ٭وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ کراچی میں دہشت گردوں کے سا تھ حکومت نے فیصلہ کن آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اور اس ضمن میں تمام سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر عوام کی جان و مال کا تحفظ کیا جائے گا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم کراچی کا سیاسی حل چاہتے ہیں لہٰذہ ضروری ہے کہ مذاکرات کی میز پر آنے سے قبل ایم کیو ایم اپنے دہشت گروں کو غیر مسلح کرے۔ (جسارت۔٤ جولائی) ٭اورنگی ٹاو ¿ن میں بڑے پیمانے پر و ¿پریشن کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں قتل غارت گری کی وارداتوں میں نمایا ں کمی واقع ہوئی ہے۔اس کے با وجود فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں ٨ افراد جا ں بحق اور ٤ پولیس اہلکاروں سمیت ٧ افراد زخمی ہو گئے۔اورنگی توسیعی میں پولیس پارٹی پر بھی حملہ کیا گیا جس سے ایک کانسٹیبل جا ں بحق ہوا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٥ جولائی) ٭ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کی پریس کانفرنس کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے انٹیلی جنس بیورو کے اہلکاروں نے ایک ٩١ سالہ دہشت گرد کو اخبار نویسوں کے سامنے پیش کیا۔جس نے لیا قت آباد میں KMC کے ٠١ اہلکاروں کے قتل میں ملوث ہونے کے علاوہ ڈکیتی،قتل کی متعدد وارداتوں کا اعتراف کیا اس نو عمر دہشت گرد نے منگل کو اسلام آباد کے ایک مقامی ہو ٹل میں پر ہجوم پریس کانفرنس کو بتایا کہ ایم کیو ایم نے اس سے دہشت گر دی کی یہ وارداتیں زبر دستی اور ڈرا دھمکا کر کر وائی ہیں۔ایم کیو ایم کا سا تھ نہ دینے پر انہیں اور ان کے اہل خانہ کو قتل کر نے کی دھمکی دی جا تی تھی۔نو جوان نے اپنا نام سعید الدین عرف چیتا بتایا۔ایم کیو ایم میں شمولیت کے بارے میں اس نے بتایا کہ جاوید بچھو اور ریحان کانا نامی ایم کیو ایم کے دو کارکن اس کے پڑو سی تھے جن سے اس کی دوستی تھی۔ان لڑکو ں نے سعید الدین کا نام اس کی اپنی خواہش پر ایم کیو ایم کے یو نٹ نمبر ٥٦١ میں لکھ دیا۔جس کے بعد انہو ں نے اپنی پہلی واردات بابا نامی ایک شخص کے کہنے پر کی جسے الطاف حسین وارداتیں کر نے کی ہدایت دیاتا تھا۔جبکہ اس نے کبھی بھی با با کو نہیں دیکھا۔سعید الدین عرف چیتا نے بتایا کہ اس نے اپنے گروپ کے ٥ دوسرے سا تھیوں ارشد کے ٹو،ریحان کانا،ندیم کمانڈو،جا وید بچھو اور علی موٹا کے ہمراہ ڈکیتی کی چھو ٹی چھوٹی وارداتیں کیں واردات کے بعد لوٹی ہوئی رقم بابا کے پاس جمع کرا دیتے اور انعام کے طور پر انہیں ٥۔٥ سو روپے ملا کر تے۔قتل کی پہلی واردات کے تفصیل بتاتے ہوئے چیتا نے کہا کہ بابا کے کہنے پر اس نے ریحان کانا کی قیادت میں ایک پولیس موبائل پر حملہ کر دیا۔ریحان کانا نے اس واردات میں پہلی مرتبہ راکٹ لانچر استعمال کیا۔یہ واردات ٠١ جون کے روز کی۔اس واردات میں ٣ پولیس والے مارے گئے۔سعید الدین نے بتایا کہ جون ہی میں الطاف حسین نے جانب سے ہڑتال کی کال پر بابا نے انہیں حکم دیا کہ ڈاک خانہ لیاقت آباد پر جا کر کھڑے ہو جاو¿۔یہ اپنے گروپ کے ٦ سا تھیو ں سمیت مذکورہ جگہ پر گیا اور ہوائی فائرنگ کی۔جس کے بعد رینجرز سے ان کا مقابلہ ہوا جس کے نتیجہ میں ٤ راہ گیر ہلاک ہوئے۔ہڑتال کے دواسرے روز لیاقت آباد نمبر ٠١ میں حقیقی کے سا تھ جھڑپو ں میں ٥ افراد ان کی گو لیو ں کا نشانہ بنے۔سعید الدین نے بتایا کہ اگلی رات انہو ں نے اپنے گروپ کے لڑکو ں کے ہمراہ بابا کے کہنے پر لیا قت ڈاک خانہ پر را کٹ لانچر سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ٤ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔اپنی سب سے بڑی واردات کی تفصیل بتاتے ہوئے سعید الدین عرف چیتا نے بتایا کہ ٥١ جون کی صبح ١١ بجے بابا نے انہیں حکم دیا کہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ لیاقت آباد نمبر ٠١ میں KMC والوں پر فائرنگ کر نی ہے۔بابا کے حکم پر لڑکے جمع ہوئے۔ہم ایک شیراڈ کار اور ٤ مو ٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر KMC کی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔تیسری منزل پر دروازہ کھولتے ہی فائر کھول دیئے اور پھر لفٹ سے نیچے آگئے۔واپسی پر فوج کے جوانوں سے ہمارا فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔چیتا نے بتایا کہ اس واردات کے بعد الطاف حسین کا حکم آیا کہ سب ادھر ادھر ہو جاو۔میں اپنے سیٹھ سے تنخواہ لیکر بہاول پور چچا کے پاس آرہا تھا کہ بغیر ٹکٹ سفر کر نے پر مجھے CIAپولیس نے پکڑ لیا۔اس نے بتایا کہ ایم کیو ایم میں جو ایک بار نام لکھوا دیتا ہے موت ہی اسے ایم کیو ایم سے جدا کر سکتی ہے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٥ جولائی) ٭دہشت گردوں کے خلاف کلاکوٹ کے علاقے عثمان آباد،کو رنگی اور زمان ٹاو ¿ن میں بڑے پیمانے پر آپریشن کا آگا ز کر دیا گیا۔جس کے دوران صرف کورنگی کے علاقے میں ٧ اور شہر کے دیگر علاقوں میں ٤ افراد جا ں بحق اور اور کورنگی کے ٨١ افراد سمیت ٤٢ افراد زخمی ہوئے۔پولیس نے کورنگی کے علاقے میں ایک اسکول کے اندر قائم ٹار چر سیل پر قبضہ کر کے مورچے بنا لئے اور کورنگی کی خندقیں بھر دی ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق کلا کوٹ کے علاقے عثمان آباد اور کورنگی نا صر کالونی اور زمان ٹاو ¿ن کے بعض علاقوں میں گزشتہ رات اچانک پولیس اور رینجرز نے بڑے پیمانے پر مشترکہ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔کورنگی اور زمان ٹاو ¿ن کے علاقوں میں ایم کیو ایم الطاف گروپ سے تعلق رکھنے والے سینکڑو ں مسلح نو جوان قانون نافذ کر نے والے اداروں کے گھیرے میں آ گئے ہیں۔جس کی وجہ سے علاقے میں دا خل ہو نے پر قانون نا فذ کر نے والوں کو سخت مزاحمت کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔علاقے میں سڑکو ں پر خندقیں کھودی گئی ہیں۔۔مسلح نو جوانوں نے کورنگی صنعتی علاقے میں داخل ہو کر پولیس کی بکتر بند پر فائرنگ کی اور راکٹ مارے۔بڑی تعداد میں گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٦ جولائی) ٭کراچی کی صورتحال پر اپنے تبصرہ میں بی بی سی نے بتایا کہ کراچی کے دوسرے بڑے صنعتی علاقے کورنگی میں صورتحال خراب ہے۔ایک تہائی علاقے کو پولیس اور رینجرز نے گھیر رکھا ہے۔مسلح جتھو ں کی جانب سے شدید مزحمت کی جا رہی ہے۔اب تک ٤ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔٥٨۔٠٨ مسلح نو جوان روپوش ہیں۔علاقہ میں ایمبولینس کا داخلہ بھی ممکن نہیں۔( جسارت٦ جولائی) کورنگی میں مسلح افراد اور رینجرز اور پولیس کی فائرنگ سے ٨ سالہ بچے سمیت ٤١ افراد جا ں بحق اور ٣٢ زخمی ہو گئے۔شہر کے دیگر علاقوں میں فائرنگ سے ٤ افراد جا ں بحق ہوئے۔رات گئے کورنگی میں رینجرز کے ہیڈ کوارٹر پر ٥١ تا ٠٢ راکٹ دا غے گئے جس کے بعد اچانک علاقے میں زبر دست فائرنگ شرع ہو گئی۔قانون نافذ کر نے والوں سے مقابلے کے لئے عوام سے اذانوں کے ذریعے با ہر نکلنے کی اپیلیں کی گئیں۔پولیس اور ایدھی ذرائع کے مطابق منگل کی صبح سے کورنگی کے علاقے میں شروع کئے جانے والے آپریشن کے دوران جمعرات کو مزید ٣١ لاشیں اور ٨١ زخمیوں کو جناح اسپتال پہنچایا گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٧ جولائی) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے رینجرز کے ہا تھوں کورنگی میں مہاجروں کے قتل عام پر شدید رد عمل کا اظہار کر تے ہوئے صدر پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے مطالبہ کیا ہے کہ کورنگی میں صرف ٦٣ گھنٹو ں کے دوران ٥٢ مہاجروں کے قتل پر رینجرز کے سربراہ سمیت اس قتل عام میں ملوث تمام وحشی درندوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور ان پر قتل کا مقدمہ چلایا جائے۔انہو ں نے کہا کہ مہاجر بستیوں کو روانڈا اور بوسنیا بنا دیا گیا ہے اور رینجرز کے اہلکار پیپلز پارٹی کے دہشت گردوں کے سا تھ مل کر گلی گلی مہا جروں کا لہو بہا رہے ہیں۔الطاف حسین نے الزام عائد کیا کہ رینجرز کی گا ڑیو ں کے ذریعے مضافاتی علاقوں میں پی پی کے دہشت گردوں میں اسلحہ تقسیم کیا جا رہا ہے اور ان کے ذریعے مہاجر بستیوں میں قتل و غارت گری کرائی جا رہی ہے۔دوسری جانب انہو ں نے مہا جر قوم سے اپیل کی کہ اورنگی ٹاو ¿ن،عثمان آباد ،ملیر اور کورنگی سمیت دیگر علاقوں میں مہاجروں کے قتل عام پر مورخہ ٧ اور ٨ جولائی بروز جمعہ اور ہفتہ ایام سوگ منائیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ہر ہفتہ دو روز ہڑتال کا فیصلہ بر قرار ہے۔لیکن میں کوم کے ہر فرد سے اپیل کر تا ہوں کہ آپ بروز جمعہ اور ہفتہ کی ہڑتال کے سا تھ سا تھ ساگ بھی منائیں۔ (جسارت۔٧ جولائی) ٭ایم کیو ایم کی جانب سے مطالبات کی منظوری تک دو روزہ ہڑتال کے دوسرے مرحلے کے پہلے روز جمعہ کو ایم کیو ایم الطاف کے سابق کونسلر اسلم سبزواری سمیت ٧ افراد ہلاک ہوئے ان میں سے ٦ کو اغواءاور تشدد کے بعد گولی مار کر ہلاک کیا گیا اور لاشیں پھینک دی گئیں۔جبکہ ٨ افراد زخمی ہو گئے اور ٣ گا ڑیو ں کو نذ ر آتش کیا گیا۔گلبہار اور لیاقت آباد کی سڑکو ں پر جھا ڑیا ں اور پتھر بکھیر دیئے گئے۔اردو بازار،سٹی اسٹیشن اور برنس روڈ کے علاقے میں دھماکے بھی ہوئے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٨ جولائی) ٭ایم کیو ایم کی طرف سے ہفتہ وار ہڑتال کی اپیل پر شہر مکمل طور پر بند رہا۔ حیدر آباد اور لطیف آباد کے علاقوں میں فائرنگ اور دھماکو ں سے ایک بچی سمیت ٣ افراد زخمی ہوئے۔لطیف آباد تھانہ بی سیکشن کے SHO کی موبائل پر کریکر پھینکا گیا۔مگر کوئی نقصان نہیں ہوا۔دیگر علاقوں میں بھی پولیس موبائیلوں پر کریکر پھینکنے کی اطلاع ملی ہے۔پولیس اور رینجرز نے تلاشیوں اور گرفتارویوں کا سلسلہ جاری رکھا۔لطیف آباد ٹیلی فون ایکسچینج کے قریب ایک ناکارہ ٹینک شکن بم بر آمد ہوا۔ (جسارت،DAWN۔٨ جولائی) ٭سابق حق پرست کونسلر اسلم سبزواری کی پولیس کی تحویل میں بدترین تشدد کے باعث ہلاکت پر ایم کیو ایم نے اجتماعی سوگ میں مزید دو روزکا اضافہ کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کے مطابق اسلم سبزواری کو حراست میں لیکر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کر دیا گیا۔چنانچہ اس نسل پرست حکومت کے خلاف پر امن احتجاج ہی ہمارا راستہ ہے۔چنانچہ فرزانہ سلطان سے زیادتی کے حوالے سے جاری ہفتہ وار دوروزہ سوگ میں مزید دوروز کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔رابطہ کمیٹی کے اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر اسلم سبزواری کے بہیمانہ قتل میں ملوث پولیس اور سرکاری ایجنسیوں کے اہلکاروں اور حکام کو گرفتار کیا جائے اور مقتول کے لواحقین کو ٥ لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے۔اعلامیہ کے مطابق پیر تک یہ مطالبات منظور نہ کئے گئے تو ایم کیو ایم سوگ کے بعد اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔دریں اثناءالطاف حسین نے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٨ جولائی) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عبد الوحید کے نام اپنے ایک خط میں لکھا ہے کہ سندھ کے شہروں میں گزشتہ سالوں سے معصوم مہاجروں کو قتل غارت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن اب ان کی نسل کشی کا عمل بھی زور و شور سے کیا جا رہا ہے۔گزشتہ ایک ہفتہ سے کراچی،حیدر آباد اور سندھ کے شہروں میں حکومت کے ریاستی مظالم ہلاکو خان اور چنگیز خان کے مظالم کا نمونہ ہیش کر رہے ہیں۔حکومت نے دہشت گردوں کو مہاجر بستیو ں پر حملے کر نے کی کھلی چھوٹ دے دی تاکہ شہر میں لسانی فسادات پھو ٹ پڑیں۔٥ جولائی ٥٩٩١ءکو رینجرز نے کورنگی کے علاقے کا محاصرہ کر کے اس پر حملہ کر دیا،٨ سے زائد مہاجر قتل کر دیئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔اللہ جانتا ہے جناح پور کی سازش ایم کیو ایم والوں نے یا الطاف حسین نے تیار نہیں کی تھی۔جنرل صاحب! انتہا دیکھئے کہ کسی نقل اتارنے کے ماہر سے میری آواز کی نقل اتاری گئی اور میری آواز کے جعلی ٹیپ فوج کے حکام نے اعلیٰ شخصیات کو سنوائے۔ایک پاکستانی ہونے کے ناطے آپ سے یہ سوال کرنا میرا حق ہے کہ یہ رینجرز کیا بلا ہے ؟ آیا یہ حکومت کے ماتحت ہے یا فوج کے؟اگر یہ حکومت کے ماتحت ہے تو پھر اس کے سربراہان سویلین ہو نے چاہئیں۔لیکن آپ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ رینجرز کے جتنے بھی کمانڈنگ افسران اور سربراہ ہیں وہ پاک آرمی کے ریگولر افسران اور جرنیل ہیں۔آج پوری قوم کا یہ سوال ہے کہ جو ظلم رینجرز کر رہی ہے اس ظلم میں فوج کے ریگولر افسران اور جرنیل کیو ں ملوث ہو رہے ہیں؟جنرل صاحب اگر آپ نے میرے اس خط کو بھی ردی کی ٹو کری کی نذر کر دیا تو پھر یاد رکھیئے کہ قدرت کا مکافات عمل مظلوموں کو انصاف فراہم کر تا ہے۔جس کے نتیجے میں بہت کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ وہ کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہو جاتا ہے جس کی تلاشی ممکن نہیں ہوتی۔انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ حکومت نے ایم کیو ایم حقیقی کو اسلحہ فراہم کیا ہے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٨ جولائی) ٭ایم کیو ایم الطاف گروپ کی جانب سے گزشتہ ٥١ دنوں کے دوران ٦ دن ہڑتال کے باعث کراچی میں ٨٢ ارب روپے کا نقصان ہوا۔حکومت کو براہ راست ریونیو کی مد میں ٦ ارب روپے کا خصارہ ہوا۔یو ٹیلیٹی بلز سے ٠٣ ارب ریونیو وصول نہیں ہوا۔یو میہ اجرت پر کام کر نے والے ٨ لاکھ محنت کش بے روزگار ہو گئے۔اسٹاک مارکیٹ بھی مندی کا شکار ہو گئی۔ (جسارت۔٨ جولائی) ٭کورنگی ڈیڑھ،٢ اور نا صر کالونی میں بدھ سے کیا جانے والا محاصرہ جمعہ کی صبح ختم کر دیا گیا۔تقریباً ٦٩ گھنٹے کے محاصرے کے دوران ایڈھی ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر ٦٢ افراد ہلاک اور ٤٣ زخمی ہوئے۔سرکاری ذرائع کے مطابق محاصرے کے دوران ٠١ افراد گرفتار ہوئے جن کے قبضہ سے ایک ایس ایم جی،ایک رپیٹر،ایک مارک ٥ اور ایم ایل ایم جی بھی بر آمد ہوئی۔انہو ں نے بتایا کہ نا معلوم مسلح افراد نے پولیس پارٹی اور قانون نا فذ کر نے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جبکہ جوابی فائرنگ میں ٧١ افراد جا ں بحق اور ٢٢ زخمی ہوئے۔جبکہ ٠١ افراد گرفتار کر لئے گئے۔پولیس ان سے مزید تفتیش کر رہی ہے۔دیگر سرکاری ذرائع کے مطابق کورنگی کے متا ثرہ علاقوں میں ٠٠٢ مسلح نو جوانوں نے پولیس اور قانون نافذ کر نے والے اہلکاروں سے مسلح مقابلہ کیا۔ان میں سے ٠٥ نو جوان شدت پسند تھے۔ان تمام کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا۔ (جسارت۔٨ جولائی) ±٭قتل،اقدام قتل،اغواءاور تشدد کی متعدد وارداتوں میں مطلوب سابق حق پرست کونسلر اسلم سبرواری گرفتار ی کے چند گھنٹو ں بعد ہلاک ہو گیا۔ہلاکت کی وجہ دل کا دورہ بتائی جاتی ہے۔حکومت سندھ نے اسلم سبزواری کی گرفتاری کے لئے ٥١ لاکھ انعام مقرر کر رکھا تھا۔پولیس کے مطابق اسپیشل پولیس پارٹی ضلع وسطی نے اسلم سبزواری کو لیاقت آباد نمبر ٤ سے جمعرات کی شب اس وقت گرفتار کیا جب وہ زخموں سے نڈھال سڑک پار کر رہا تھا۔اسلم سبزواری کو گرفتاری کے بعد اسپیشل پارٹی گلبرگ میں اپنے پاس لے گئی۔متوفی نے پولیس کو بتایا کہ وہ دہشت گردوں کی قید سے ٤٢ گھنٹے قبل ہی آزاد ہو کر نکلا ہے جہا ں دھشت گردوں نے اس پر تشدد کیا۔اسی دوران متوفی پر دل کا دورہ پڑا پولیس اسے جناح اسپتال لے گئی جہا ں ڈاکڑتو ں نے بتایا کہ اسلم سبزواری ہلاک ہو گیا ہے۔پولیس کے مطابق اسلم سبزواری کے خلاف فوج،رینجرز اور پولیس اہلکاروں سمیت ٠٥ سے زائد افراد کو قتل کر نے الزامات میں مقدمات درج ہیں۔ (جنگ،DAWN۔٨ جولائی) ٭ایم کیو ایم کی اپیل پر ہفتہ وار دو روزہ سوگ کے دوسرے دن شہر کے مختلف علاقوں میں رینجرز کی چوکی،پولیس کی بکتر بند اور موبائلو ں پر فائرنگ اور اغواءاور تشدد کے دیگر واقعات میں رینجرز اہلکار،ایم کیو ایم الفلاح یونٹ کے انچارج اور نو جوان خاتون سمیت ٣١ افراد جا ں بحق اور ٣١ زخمی ہو گئے۔رینجرز اور پولیس نے کورنگی سیکٹر ڈیڑھ میں آپریشن کا سلسلہ جا ری رکھا۔جبکہ کورنگی نمبر ٦ کا محاصرہ کر کے تلاشی شورع کر دی گئی۔مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی فائرنگ اور ٣ گا ڑیا ں نذر آتش کر دی گئیں۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٩ جولائی) ٭کورنگی اور اورنگی ٹاو¿ن میں مسلح گروہ دوبارہ داخل ہو گئے ہیں۔خصوصاًاورنگی ٹاون سیکٹر ٢١،٥١،٠١ اور دیگر حساس علاقوں میں مسلح گرینڈ آپریشن کے بعد دوبارہ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔انہو ں نے علاقے میں بھر دی جانے والی خندقیں دوبارہ کھول دی ہیں۔اور مسلح افرد نے علاقے میں گشت بھی شروع کر دیا ہے۔ (جسارت۔٩ جولائی) ٭کراچی میں اتوار کے روز جگہ جگہ فائرنگ،اغواءاور تشدد کی وارداتوں کے نتیجہ میں ٠١ افراد جا ں بحق اور ٨١ افراد زخمی ہوئے۔جبکہ ٣ گا ڑیو ں،ایک بینک،کو نذر آتش کر دیا گیا۔شہر بھر میں قانون نافذ کر نے والے اداروں کی گا ڑیو ں پر بھی فائرنگ کی گئی۔خواجہ اجمیر نگری میں مشاورتی کونسلر اسلم شاہ اور پیپلز پارٹی کے رہنماءمحمد یوسف کو دہشت گردوں نے ہلاک کر دیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٠١ جولائی) ٭وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو لندن سے فرار ہونے نہیں دیا جائے گا۔جلد ہی انہیں انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر لیا جائے گا۔کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف آپتیشن جاری رہے گا۔ اور حکومت ایم کیو ایم کا کوئی بھی نا جائز مطالبہ تسلیم نہیں کر ے گی۔ نصیر اللہ بابر نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی گرفتاری کے لئے ہماری ٹیم لند پہنچ چکی ہے۔انہیں جلد ہی انٹر پول کے ذریعے گرفتار کر کے وطن واپس لایا جائے گا۔ اور غداری اور بے گناہ لوگوں کو قتل کر نے پر مقدمات چلائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ٨٨ءاور٠٩ءکی حکومتیں الطاف حسین سے کوئی معاہدہ نہ کر تیں اور قاتلوں کو معافی نہ دیتیں تو آج یہ ھالات نہ ہو تے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک سندھی روز نامے کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ (جسارت۔٠١ جولائی) ٭حیدر آباد اور لطیف آباد سمیت اندرون سندھ کے متعدد شہروں میں ایم کیو ایم کی ہڑتال پر اتوار کو تیسرے روز بھی مکمل ہڑتال رہی۔شرپسندوں اور قانون نافذ کر نے والوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں سعید عرف سعیدو ہلاک اور ٨ افراد زخمی ہو گئے۔فائرنگ سے رینجرز کا ایک اہلکار بھی زخمی ہوا۔حیدر آباد میں دو تھانو ں پر حملے کئے گئے،فائر بریگیڈ،پولیس کی بکتر بند،گا ڑیو ں پر فائرنگ،پیٹرول پمپ اور پولیس موبائل نذر آتش کر دی گئی۔جبکہ پولیس اور دیگر فورسز نے حیدر آباد،لطیف آباد کے ٨ تھانوں کے ٠١ علاقوں کا محاصرہ کر کے ٠٥١ افراد کو گرفتار کر لیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٠١ جولائی) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے خیر سگالی کے طور پر یوم سوگ کو ایک دن قبل ختم کر نے کے اعلا کے سا تھ ہی شہر بھر میں امن و امان کی سورتحال حیرت انگیز طور پر بہتر ہو گئی۔تا ہم متحارب گروپو ں میں جاری محاذ آرائی کے نتیجے میں پیر کو ٧ افراد جا ں بحق اور پولیس کانسٹیبل سمیت ٢١ افراد زخمی ہو گئے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔١١ جولائی) ٭ایم کیو ایم کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اجمل دہلوی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم ٨١ نکات کی منظوری کے بغیر حکومت سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔اگر حکو مت نے ان ٨١ نکات میں سے ایک ایک بھی نقتہ تسلیم نہ کیا تو اس کا مطلب مذاکرات کی ناکامی ہو گا۔اور اس صورتحال میں ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت علیحدہ صوبہ کا مطالبہ کر سکتی ہے اور سندھ کی تقسیم نا گزیر ہو جائے گی۔انہو ں نے کہا کہ نئے صوبے کی تشکیل کی صورت میں اس کا نام بھی رکھنا ہو گا جسے جنوبی سندھ یا کوئی مناسب نام دیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لئے شہر اور دیہی علاقوں کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کل منگل کی شام اسلام آباد پارلیمنٹ ہاو ¿س میں شروع ہو رہے ہیں۔وہ پیر کو اپنے دفتر میں اخبار نویسوں سے غیر رسمی بات چیت کر رہے تھے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔١١ جولائی) ٭ایم کیو ایم حیدر آباد یونٹ نمبر ٠٢ کے سیکریٹری سعید عرف شیرو جو گزشتہ روز پولیس فائرنگ سے ہلاک ہوا تھا آج مقامی قبرستان میں سپر د خاک کر دیا گیا۔ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق سعید احمد صدیقی اپنے عزیز کی عیادت کے لئے جا رہے تھے کہ پولیس اور رینجرز کی بلا جواز فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہو گئے۔آج تلک چاڑی کے علاقے میں پولیس اور شرپسندوں کے مابین فائرنگ سے بھگدڑ مچ گئی۔گزشتہ رات بکتر بند گا ڑی اور پولیس موبائل پر فائرنگ بھی کی گئی تا ہم جوابی فائرنگ سے شرپسند فرار ہو گئے۔شاہی بازار کے وسیع علاقے کے محاصرے میں پولیس اور رینجرز کی پیش قدمی روکنے کے لئے رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔پولیس نے متعدد مقامات پر چھاپے مار کر نو جوانوں کو گرفتار کر لیا۔ (جسارت۔١١ جولائی) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ سرکاری ایجنسیاں ملکی سرحدو ں کا دفاع کر نے اور ملک دشمنوں پر نگاہ رکھنے کے بجائے ظالم حکمرانوں و جاگیر داروں اور ان کے ظالمانہ نظام کی محافظ بن گئی ہے اور حکومت سے سیاسی مخالفین خصوصاً ایم کیو ایم کو کچلنے کی گھناو ¿ نی سازش میں مصروف ہیں۔الطاف حسین نے کہا کہ IBآئی بی اور دیگر ایجنسیوں نے سرحد ،پنجاب اور بلو چستان سے متحدہ قومی مومنٹ کے سیکڑوں عہدیداروں اور کارکنوں کو اغواءکر رکھا ہے۔انہو ں نے کہا کہ ان عہدیداروں اور کارکنوں کو حراست کے دوران نہ صرف بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ سرکاری ایجنسیاں ان کی برین واشنگ کے لئے گھٹیا اور نیچ حربے استعمال کر رہی ہیں۔ (جسارت۔جنگ۔١١جولائی) ٭حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان کراچی کے مسئلے پر ہونے والے مذاکرات کے دوران ایم کیو ایم کے وفد نے حکومت سے کراچی میں جاری منی آپریشن فوری طور پر بند کر نے کا مطالبہ کیا جسے حکومت نے نرم الفاظ میں مسترد ک ردیا۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے وفد نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ مذاکرات کو جاری رکھنے اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے ساز گار ماحول کا قیام ضروری ہے تا ہم کراچی میں ایم کیو ایم کے سرگرم کارکنوں کے خلاف جاری حالیہ آپریشن سے مذاکرات کو نقصان پہنچے گا۔اس آپریشن کو جذبہ خیر سگاری کے طور پر روک دیا جائے چاہے عارضی طور پر ہی روکا جائے۔اس مطالبے کے جواب میں حکومتی وفد نے مو ¿قف اختیار کیا کہ آپریشن ایم کیو ایم یا اس کے کارکنان کے خاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف جاری ہے۔یہ پورے شہر میں نہیں بلکہ بعض مخصوص علاقوں میں ہو رہا ہے۔اس مطالبے کو فوری طور پر تسلیم کرنا ممکن نہیں۔تاہم اس نکتہ کو مذاکرات میں شامل کیا جا سکتا ہے۔مذاکرات کا پہلا دور منگل کے روز اختتام پذیر ہوا جو تین گھنٹے جاری رہا۔حکومت اور ایم کیو ایم کے مذاکراتی ٹیم کے ارکان مذاکرات کے اختتام پر اخبار نویسوں سے ملے بغیر چلے گئے۔اور ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں مذاکرات کو کامیاب قرار دیا گیا۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں طے پایا ہے کہ ٣١ جولائی کو شام ٥ بجے پارلیمنٹ ہاو ¿س کے کمیٹی روم میں مذاکرات کا دوسرا دور ہو گا۔بیان کے مطابق آج کے اجلاس میں ایم کیو ایم کی مذاکراتی کمیٹی ٨١ مطالبات کو بھی زیر تذکرہ لائی جس میں تفصیل سے بات چیت ٣١ جولائی کے مذاکراتی دور میں ہو گی۔اس دور میں سرکاری کمیٹی بھی اپنے نکات مذاکرات کے لئے پیش کرے گی۔سرکاری کمیٹی میں وفاقی وزیر این ڈی خان(سربراہ) ،آفاق شاہد اور ظیر اکرم ندیم شامل ہیں۔ایم کیو ایم کی مذاکراتی کمیٹی اجمل دہلوی(سربراہ)شعیب بخاری،قاضی خالد،طارق جاوید اور شیخ لیاقت حسین پر مشتمل تھی۔ایم کیو ایم کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اجمل دہلوی نے کہا کہ ٨١ نکات پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی۔مذاکرات غیر ملکی دباو پر ہو رہے ہیں۔فوج میں سازشی جنرل موجود ہیں۔جن کی نشاندہی ایم کیو ایم نے کر دی ہے۔اجمل دہلوی نے مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا دارو مدار اپنے ٨١ نکات کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کی ٹیم ان نکات پر اپنے مو ¿قف سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور ان نکات پر مکمل عمل در آمد ہی کی صورت میں مذاکرات آگے بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کے دوران صوبے کی تقسیم کی بات نہیں ہو گی لیکن اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو مجبوراً ہم علیحدہ صوبے کی بات کر سکتے ہیں۔ (جسارت،جنگ۔٢١ جولائی) ٭ایم کیو ایم اور حکومت کے مذاکرات کے موقع پر شہر بھر میں قتل غارت گری کا بازار دوبارہ گرم ہو گیا۔مسلح افراد کی کاروائیوں کے نتیجے میں پولیس کی بکتر بند پر سوار اے ایس آئی،ہیڈ کانسٹیبل،عباسی شہید اسپتال کے کنسلٹنٹ اور ایک خاتون سمیت ٤١ افراد جا ں بحق ہو گئے۔ہلاک ہونے والوں میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے کارکن بھی شامل ہیں۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٢١ جولائی) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ایم کیو ایم کی جانب سے جاری جمعہ اور ہفتہ کے احتجاج کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔انہو ں نے یہ فیصلہ رابطہ کمیٹی کے اراکین سے صلاح مشورے کے بعد کیا۔انہو ں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے خیر سگالی کا ایک اور قدم ہے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٣١ جولائی) ٭دہشت گردی،اغواءاور فائرنگ کے واقعات میں پولیس انٹیلی جنس افسر سمیت بدھ کو مزید ٩ افراد جا ں بحق اور ٣ زخمی ہو گئے۔کھجی گراو ¿نڈ سے تشدد شدہ لاشیں بر آمد ہوئیں جبکہ علامہ اقبال کالونی سے ایک شخص کی بوری بند لاش بر آمد ہوئی۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٣١ جولائی) ٭حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان جمعرات کی شام کراچی میں دور پارلیمنٹ ہاو ¿س کی کمیٹی روم میں ایک دن کے وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ قانون و انصاف کے وزیر پروفیسر این ڈی خان نے مذاکرات کی ابتداءمیں حکومت کی طرف سے ١٢ نکاتی ایجنڈا ایم کیو ایم کی مذاکراتی ٹیم کے قائد اجمل دہلوی کو ایم کیو ایم کے ٨١ نکاتی ایجنڈے کے جواب میں پیش کیا۔مذاکرات کے با ضابطہ آغاز کے فوری بعد حکومت کی طرف سے ١٢ نکاتی ایجنڈا پیش کر نے سے صورتحال ڈرامائی شکل اختیار کر گئی ہے۔حکومت نے ایم کیو ایم کو جو ١٢ نکاتی ایجنڈا پیش کیا اس میں ایم کیو ایم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر کھلے عام کراچی میں ہڑتال،سرکاری و پروئیویٹ املاک کو نقصان نہ پہنچانے کا اعلان کرے۔الطاف گروپ کے قائد اپنے کارکنوں پولیس اسٹیشنوں پر ہتھیار ڈالنے اور جو کارکن غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں خود کو قانون کے حوالے کریں۔حکومت کی طرف سے الطاف گروپ سے کہا گیا ہے کہ کہ وہ کراچی میں پنجابیوں،پٹھانو ں ،سندھیوں ،بلوچوں اور مہاجروں کے دیگر مخالفین کے قتل کا سلسلہ بند کرے اور اپنے نعروں کے جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے اور ٹی وی ،وی سی آر بیچو اور کلاشن کوف خریدو© کے نعروں کو بھی واپس لینے کا اعلان کرے۔اس کے علاوہ ایم کیو ایم بھارت میں قائم اپنے کیمپ بند کرے،جاوید لنگڑے کو واپس بلائے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٤١ جولائی) ٭ایم کیو ایم کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اجمل دہلوی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان میں حکومت تبدیل ہو جائے تو کراچی میں حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔کیو ں کہ جام سادق علی کے دور میں ایم کیو ایم کو کوئی پریشانی نہیں تھی۔انہو ں نے کہا کہ ایم کیو ایم کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کا ارادہ نہ پہلے رکھتی تھی نہ اب،تاہم انتظامی بہتری کے لئے اگر صوبے تقسیم کر دیئے جائیں تو کیا قباحت ہے۔وہ راولپنڈی پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انہو ں نے الزام لگایا کہ پولیس۔رینجرز اور سرکاری ایجنسیاں کراچی میں مہاجروں کا قتل کر رہی ہیں،جواب میں پھولوں کی بارش نہیں کی جا سکتی۔انہو ں نے بتایا کہ ابتدائی مذاکرات میں بعض معاملے طے ہوئے ہیں،بدھ کو نقطہ بہ نقطہ بات ہوگی۔انہو ں نے کہا کہ یہ آخری موقع ہے اگر کوئی معاملہ طے نہ ہو سکا تو لاشوں کے انبار لگیں گے۔ (جسارت،جنگ۔ ٤١ جولائی) ٭ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران بھی کراچی کے مختلف علاقوں دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان اور ایم کیو ایم کے متحارب گروپوں کے درمیان محاز آرائی جاری رہی۔فائرنگ ،اغواءاور تشدد کے واقعات میں ایم کیو ایم حقیقی کے کارکن اور پیپلز پارٹی وارڈ کے صدر اور ٨ سالہ بچی سمیت ٧ افراد جاں بحق اور ٢ خواتین سمیت ٨ افراد زخمی ہو گئے۔رفاہ عام میں پولیس کو گھیر لیا گیا،رات گئے تک مقابلہ جاری رہا۔نیو کراچی میں بس نذر آتش کر دی گئی۔ (جسارت،جنگ ،DAW۔٤١ جولائی) ٭کورنگی نمبر ٦ کے ایک مقام پر قبضہ کر کے مورچہ بند ٹارچر سیل قائم کر نے والے دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے زبر دست مقابلے کے دوران ٥ دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے۔پولیس کو بھاری مقدار میں اسلحہ ہا تھ لگا۔مقابلے میں ایک ہیڈ کانسٹیبل جا ں بحق اور ایک سپاہی زخمی ہو گیا۔دہشت گردوں کا تعلق ایم کیو ایم الطاف گروپ سے بتایا جاتا ہے۔واقعہ کے بعد مشتعل نو جوانوں نے ٦ گا ڑیا ں نذر آتش کر دین۔ہلاک ہونے والوں میں عمران چھوٹا،انیس کمانڈو،راو خالد،شفاعت اور غضنفر عرف طفر شامل ہیں۔ان کے دیگر ساتھی پولیس کا گھیر تو ڑ کر فرار ہو گئے۔ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضہ سے ٣ کلاشن کوف،٠٥١ گولیان،٧ ایم ایم رائفل،٣ ٹی ٹی پستول اور سینکڑو راونڈ بر آمد ہوئے ۔عمران چھوٹا قتل ،اقدام قتل،ڈکیتی ہنگامہ آرائی کے درجن بھر سے زائد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٤١ جولائی) ٭وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ کراچی میں حالات بہتر بنانے کے لئے ایم کیو ایم الطاف گروپ سے مذاکرات جاری ہیں۔کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدرات کر تے ہوئے انہو ں نے کہا کہ الطاف گروپ نے مذاکرات کا دوسرا دور کراچی میں منعقد کرانے کا مطالبہ کیا تھا اور ماحول کو خوش گوار بنانے کے لئے یہ مطالبہ مان لیا گیا ہے۔انہو ں نے کہا کہ یہ دور اتوار کو ہو گا۔ایک جگہ انہو ں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کراچی کے حالات جلد درست ہوں لیکن دہشت گردوں نے بھارت میں پاکستان کے خلاف تربیتی کیمپ بنا رکھا ہےجسے جاوید لنگڑا اور ان کے دیگر سا تھی چلا رہے ہیں۔انہو ں نے یہ بھی کہا کہ ایم کیو ایم کی طرفر سے الگ صوبے کا مطالبہ نیا نہیں ہے۔وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ الگ صوبہ ۔۔۔۔۔۔ہمارا منصوبہ اس لئے وہ لسانی بنیادوں پر دوسری زبان بولنے والوں کا خاتمہ بھی کر رہے ہیں۔ (جسارت،جنگ۔٥١ جولائی) ٭کراچی میں جمعہ کو دو بوسیدہ لاشوں سمیت ٤ لاشیں ملیں۔جنہیں مختلف علاقوں سے اغواءکر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔لیاقت آباد اور گجر نالہ کے قریب ایم کیو ایم کے متحارب گرپوں کے درمیان دن بھر وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔پاک کالونی میں بکتر بند گاڑی پر شدید فائرنگ کی گئی۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٥١ جولائی) ٭ایم کیو ایم کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اجمل دہلوی نے کہا ہے کہ حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔حکومت نے بدنیتی پر مبنی ١٢ نکات پیش کر کے مذاکرات کو دانستہ سبو تا ژ کر دیا ہے۔انہو ں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو کراچی میں ہو نے والی خونریزی روکنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔اس نے مذاکرات کا ڈھونگ رچایا تھا۔پیپلز پارٹی کی حکومت کے ١٢ نکات سے خون کی بو آتی ہے۔انہو ں نے کہا کہ یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ بے نظیر بھٹو اس ملک سے اپنے باپ کی پھانسی کا انتقام لینے کے راستے پر گامزن ہیں۔وہ اسلام آباد سے کراچی واپسی پر ایم کیو ایم کے مرکز ٠٩ پر پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ (جسارت،جنگ۔٥١ جولائی) ٭ایم کیو ایم کی مذاکراتی ٹیم کے رکن شعیب بخاری نے کہا ہے کہ سندھ میں آپریشن کلین اپ کے آغاز سے اب تک قانون نافذ کر نے والی ایجنسیوں کے اہلکار مہاجروں سے اربوں روپے رشوت وصول کر چکے ہیں۔انہو ں نے مزید کہا کہ آرمی کی انٹیلی جنس ونگ FITایف آئی ٹی سمیت قانون نافذ کر نے والی ایجنسیوں اور پولیس نے دیئے گئے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔انہو ں نے کہا کہ ان ایجنسیوں کے اہلکار مہاجر راہگیروں ،گا ڑی سواروں اور دکانداروں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دیکر رقوم وصول کر تے رہے ہیں۔ (جسارت۔٥١ جالوئی) ٭شہر کے مختلف علاقوں میں اغواء،فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں ٢١ افراد جا ں بحق اور اور خاتون سمیت ٥ افراد زخمی ہو گئے۔بہم پورا اور نارتھ کراچی سے بوری بند لاشیں بر آمد ہوئیں۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٦١ جولائی) ٭ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی رانا صفدر کو آج تین دہشت گردوں سمیت اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔آج شام FIAکے حکام رانا صفدر،اسد جاوید،عمار سلیم اور اشرف صدیقی کو اسلام آباد لے گئے جہاں انہیں اڈیالہ جیل میں رکھا جائے گا۔FIA کے حکام کے مطابق تینو ں گرفتار دہشت گردوں پر بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ (جسارت۔٦١ جولائی) CIAاور ڈسٹرکٹ ساو ¿تھ پولیس نے جمعہ کی رات ٦ دہشت گردوں کو سرخ رنگ کی جیپ میں جاتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ان کے قبضہ سے ٣ ٹی ٹی پستول،٢ رپیٹر،٠٠٥١ راو¿نڈ اور کافی مقدار میں آتش گیر مادہبر آمد کیا گیا۔پولیس کے مطابق ساو¿تھ پولیس کی ایک ٹیم نے آرام باغ کے علاقے میں سرخ رنگ کی ایک جیپ کو روکا جس میں ٦ مشکوک افراد سوار تھے۔جس پر انہوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی اور قرب جوار کی گلیوں میں فرار ہو گئے۔تا ہم پولیس نے ان کا پیچھا جاری رکھا اور ان پر قابو پا کر ان سے اسلحة بر آمد کر لیا۔پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں دہشت گردوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا تعلق الطاف گروپ سے ہے اور وہ اپنے سرغنہ شہد ہاشمی کے احکامات پر کاروائیاں کر تے تھے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٦١ جولائی) ٭کراچی اتوار کو بھی فائرنگ کی زد میں رہا۔شہر بھر میں فائرنگ ،اغواءاور تشدد کے واقعات میں ایک فوجی کلرک ،مقامی روزنامے کے صحافی اور پیپلز پارٹی کے ایک کارکن سمیت ٩ افراد ہلاک جبکہ ٣ خواتین سمیت ٤١ افراد زخمی ہو گئے۔اورنگی توسیعی میں پیپلز پارٹی کے کارکن کو گھر سے اغواءکر کے گولی ماردی گئی۔بفر زون، نیو کراچی اور الفلاح سے ٣ مغویوں کی لاشیں ملیں۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٧١ جولائی) ٭ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کو دہشت گردی،قتل عام اور دیگر درجنوں مقدمات میں مطلوب ہونے کے باعث انٹرپول کے ذریعہ حکومت پاکستان کی جانب سے طلب کر نے کی درخواست کا باقائدہ جواد دے دیا گیا ہے اور انٹر پول نے حکومت پاکستان کو مطلع کیا ہے کہ اس کیس کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس بارے میں جلد ہی فیصلہ کر لیا جائے گا۔وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق حکومت نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ بر طانیہ کی حکومت کو الطاف حسین کی کاروائیوں کے حوالے سے رابطہ کر کے پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا جائے کہ الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بر طانیہ کی سرزمیں استعمال کر رہے ہیں۔ (جسارت،جنگ۔٧١ جولائی) ٭وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ حکومت ایم کیو ایم سے کھلے دل سے مذاکرات کر رہی ہے۔چند دہشت گرد اپنے مذموم عزائم کے لئے معصوم شہریوں کی جان و مال سے کھیلتے ہوئے حکومت کو کمزور اور بلیک میل کر نے میں قطعی طور پر کامیاب نہیں ہو سکتے۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ایم کیو ایم کے سا تھ جاری مذاکرات میں کسی قسم کا ڈیڈ لاک پیدا نہ ہو اور یہ مذاکرات نتیجہ خیز انجام تک پہنچیں۔انہو ں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کا دہشت گرد گروپ اپنی تخریبی کاروائیاں ترک کر کے اسلحة پھینک دے۔یہ بات وزیر اعظم ہاوس میں اراکین اسمبلی سے ملاقات کے دوران کہی۔ (جسارت،جنگ۔٧١ جولائی) ٭حکومت نے اتوار کو یہاں(کراچی) میں مذاکرات کے تیسرے دور میں الطاف گروپ کی ٹیم پر واضح کر دیا ہے کہ حکومت دو قومی نظریئے کے خلاف کسی چیز کو برداشت نہیں کرے گی۔انڈیا ٹو ڈے میں شائع ہونے والے الطاف حسین کے حالیہ انٹرویو میں کنفیڈریشن کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے الطاف گروپ پر واضح کر دیا ہے کہ یہ مطالبہ دو قومی نظریہ کے قطعی خلاف ہے اور ملک کے مفادات کے خلاف ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے الطاف حسین کی ٹیم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کے لیڈ رکو انڈیا ٹو ڈے کے انٹرویو کی وضا حت کرنی چاہیئے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی نا انصافیوں کی مذمت کر نی چاہئے اور اپنے کارکنوں کو جلتی پر تیل ڈالنے سے احتراز کر نے کے لئے کہا جائے اور انہیں کراچی میں امن و امن قائم کر نے کے حکومت کے اقدامات میں تعاون کر نا چاہئے۔انہو ں نے کہا کہ الطاف حسین کا رویہ اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔الطاف حسین جب دھمکیو ں کے بجائے امن کی بات کر تے ہیں تو کراچی میں اس وقت تک خونریزی بند ہوتی ہے جب تک وہ تشدد کی زبان میں بات نہیں کر تے۔حکومت اور ایم کیو ایم الطاف گروپ کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور گورنر ہاوس میں ہوا بعد ازاں دونوں مذاکراتی ٹیموں کے سربراہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے تیسرے دور میں انہو ں نے کراچی میں امن امان کی صورتحال پر غور کیا۔صحافیوں کو آج گورنر ہاوس میں جانے کی اجازت نیہں دی گئیں۔ (جسارت۔٧١ جولائی) ٭دہشت گردی،اغوائ،تشدد اور فائرنگ کے واقعات کے باعث مزید ٤١ افراد جا ں بحق اور ٩١ زخمی ہو گئے۔صرف گلبہار میں ٥ لاشیں بر آمد ہوئیں۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٨١ جولائی) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ سندھ کے شہروں میں پائی جانے والی بے چینی کی ذمہ دار حکومت ہے۔اس کی ایجنسیاں اور پالتو حقیقی دہشت گرد ہیں۔اس لئے حکومت دنیا میں اپنی بدنامی چھپانے اور حقائق کا رخ موڑنے کے لئے لسانی فسادات کی سازش تیار کر کے اس پر عمل کرنا چاہتی ہے۔انہو ں نے کہا کہ لسانی فسادات کرانا پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے۔ (جسارت،جنگ۔٨١ جولائی) ٭وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے کہا ہے کہ کراچی میں الطاف گروپ کے دہشت گرد علاقائی اور لسانی فسادات کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور اس مقصدکے لئے فوری طور پر کراچی میں بسنے والے پٹھانوں،بلوچوں اور پنجابیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ایم کیو ایم کی اس دہشت گردی کے باعث پٹھان اور بلوچ کراچی سے نقل مکانی کر کے جا رہے ہیں۔ (جسارت،DAWN۔٨١ جولائی) ٭حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور پیر کو یہاں کراچی میں مکمل ہو گیا۔جس میں فریقین نے امن و امان کی بحالی پر مکمل اتفاق کیا تاکہ مذاکرات کی رفتار تیز اور مطالبات کے لئے جو پیش کئے ہیں ان پر غور کر کے عمل در آمد شروع ہو سکے۔مذاکرات کا چوتھا دور ٠٢ جولائی سے شروع ہو گا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٨١ جولائی) ٭کراچی میں مسلح دہشت گردوں اور نا معلوم افراد نے لسانی فسادات کی سازش کے لئے عثمان آباد میں ایک مکان میں گھس کر دو خواتین اور ایک مرد کو ہلاک کر دیا اور دو کو شدید زخمی کر دیا۔مقتولیں اور زخمی ہو نے والے سندھی بولنے والے تھے۔فائرنگ ،اغواءاور تشدد کے دیگر واقعات میں مزید دو خواتین اور ایک انسپکٹر سمیت ٧ افراد جا ں بحق اور ٦ زخمی ہو گئے۔مجموعی طور پر ٠١ افراد ہلاک ہوئے۔شہر کے مختلف مقامات نئی لسانی کشیدگی کی لپیٹ میں آگئے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٩١ جولائی) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے مدیر اعلیٰ جسارت محمود احمد مدنی کے نام اپنے ایک خط میں کہا ہے کہ "دو قومی نظریہ " کے متعلق انہوں نے جن خیالات کا اظہار اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کیا تھا وہ ان خیالات پر بدستور قائم ہیں۔انہو ں نے کہا کہ میں نے دو قومی نظریہ کو کبھی غلط قرار نہیں دیا۔لیکن معاملہ دو قومی نظریہ کو تسلیم کر نے یا نہ کر نے کا نہیں بلکہ اس نظریہ پر عمل در آمد کا ہے۔الطاف حسین نے بر طانیہ میں آباد مختلف شعبو ں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں سے گفتگو کر تے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مذکورہ انٹرویو میں میں نے یہ کہا تھا کہ"دو قومی نظریہ" در اصل نظریہ ضرورت کے تحت وجود میں آیا تھا۔ورنہ بر صغیر کے مسلمان بشمول پاکستان کے مسلمان اور ہندو صدیو ں سے اپنے اپنے مذاہب پر قائم رہتے چلے آئے تھے۔انہو ں نے کہا کہ دو قومی نظریہ اپنی جگہ درست تھا لیکن پاکستان کے بد عنوان حکمرانو ں نے اس کا غلط استعمال کیا۔انہو ں نے کہا کہ میں عوام کو بتا دینا چاہتا ہو ں کہ پاکستان کے بعض بد عنوان جرنیل اور جمہوریت اور غریبوں کے مفادات کے دعوے کر نے والے بد عنوان سیاست دانو ں نے با ہمی گٹھ جو ڑ سے بنگالی مسلمانوں کے خلاف سازش کی تھی اور دو قومی نظریہ کو دفن کر نے کا عمل کر تے ہوئے کہا تھا کہ "ادھر ہم ادھر تم" دوسری طرف بعض بد عوان جرنیلو ں نے دو قومی نظریہ کو یکسر فراموش کر تے ہوئے کہا تھا کہ " ہمیں انسان نہیں زمین چاہئے"۔وفد کے شرکاءکے ایک سوال کے جواب میں الطاف حسین نے کہا کہ میں نے کبھی بھی اور کہیں بھی ساوتھ ایشاءکے ممالک کی کنفیڈریشن کی بات نہیں کی تا ہم یہ ضرور کہا تھا کہ ساوتھ ایشاءکے ممالک کی اکثریت غربت اور افالس کا شکار ہے ان ممالک کے حکمران اور چند مخصوص خاندان تو ضرور عیش کر رہے ہیں مگر ان ممالک کے عوام عمومی طور پر غربت اور افالس و پریشانیوں کا شکار ہیں لہٰذا ہمیں دنیا کے مہذب ممالک سے سبق سیکھنا چاہئے۔دریں اثنا ءالطاف حسین نے کہا کہ حکومت رینجرز و پولیس اور حقیقی دہشت گردوں کے ذریعہ مہا جروں کی نسل کشی کرا رہی ہے ۔انہو ں نے کہا کہ مو جودہ وزیر دا خلہ معتصب اور مہاجر دشمن ہو نے کے سا تھا سا تھسرکاری ایجنسیو ں کے تنخواہ یافتہ ایجنٹ ہیں اور مہا جروں کا قتل عام کروا کر مذاکرات کو سبو تاث کر نے کا عمل کر رہے ہیں۔ (جسارت،جنگ۔٩١ جولائی) ٭وفاقی وزیر داخلہ میجر جنرل(ر) نصیر اللہ با بر نے کہا ہے کہ کراچی میں امن و امان قائم کر نے کے لئے ایم کیو ایم پر پابندی لگانے سے کچھ نہیں ہو گا۔انہو ں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو سیاسی عمل کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔کراچی میں صرف ایک گروہ کے پاس اسلحہ ہے دوسرے نہتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ الطاف حسین کو چونکہ ایک عدالت مجرم قرار دے چکی ہے اس لئے وہ ملزم نہیں بلکہ مجرم ہے۔انہو ں نے کہا کہ کراچی میں نہتے عوام کا قتل عام الطاف گروپ کر وا رہا ہے۔اگر وہ ایسا نہیں کر تے تو الطاف حسین اپنے لو گو ں کو کیو ں نہیں کہتا کہ کہ وہ ہتھیار پھینک دیں۔الطاف حسین کا فہیم کمانڈو دہشت گر دی کی وارداتو ں میں ملوث ہے۔انہو ں نے کہا کہ الطاف حسین کی انٹر پول کے ذریعے گرفتاری کا عمل جاری ہے البتہ اس میں تھوڑا وقت ضرور لگے گا۔حکومت ہر ممکن طریقے سے الطاف حسین کو وطن واپس لائے گی۔انہو ں نے کہا کہ اشتایق اظہر کا بھانجا دہشت گردی میں ملوث ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کی مذاکراتی کمیٹی کا ایک رکن متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہے لیکن حکومت نے خیر سگالی کے طور پر انہیں حراست میں نہیں لیا۔نصیر اللہ بابر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کراچی میں جو لوگ دہشت گردی کر رہے ہیں ان میں سے اکثر بھارت سے تربیت یافتہ ہے۔اس صورتحال میں اگر ایم کیو ایم کی قیادت اسلحہ پھینکنے پر راضی بھی ہو جاتی ہے تو یہ لوگ اپنی قیادت سے بھی با غی ہو جائیں گے لہٰذا ان دہشت گردوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ (جسارت ٩١ جولائی) ٭شہر کے مختلف علاقوں میں اغواء،فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں بدھ کو ٤٢ افراد جا ں بحق اور ٦ زخمی ہوئے۔ مسلح دہشت گردوں نے شاہ فیصل کالونی پھاٹک پر دو فوجیوں کی لاشیں قتل کر کے ٹیکسی میں ڈال دیں۔دہشت گردی کا شکار ہونے والوں میں ٢ خواتین اور ٢ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔مختلف علاقوں سے بوری بند لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔مختلف علاقوں میں ایم کیو ایم اور قانون نافذ کر نے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ہلاک ہونے والوں میں ایم کیو ایم کے دو کارکنان بھی شامل ہیں۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٠٢ جولائی) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور قائد حزب اختلاف محمد نواز شریف سے بدھ کی رات سینٹرل لندن میں واقع ان کے فلیٹ پر ملاقات کی۔بعد میں نواز شریف نے الطاف حسین کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔حکومت ایم کیو ایم مذاکرات اور امن فارمولے پر تبادلہ خیال ہوا۔ (جسارت،جنگ۔٠٢ جولائی) ٭وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ حکومت ایم کیو ایم کے تمام جائز مطالبات تسلیم کر لے گی تا ہم اسے دہشت گردی کا راستہ چھوڑنا ہو گا اور اپنے مسلح کارکنوں کو ہدایت کرنا ہو گی کہ وہ اسلحہ پھینک کر پر امن شہری بن جائیں۔جب تک ایم کیو ایم کے کارکنوں کے پاس ہتھیار رہیں گے کراچی میں دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔ (جسارت۔٠٢ جولائی) ٭مسلح دہشت گردوں کی کاروائیوں کے نتیجے میں جمعرات کو ایک پولیس اہلکار سمیت ٤ افراد جا ں بحق اور گزشتہ دنوں کے دو زخمی چل بسے۔ناظم آباد سے ٠٧ سالہ شخص کی لاش ملی اس کی جیب میں©" مخبری کا انجام" کی پرچی پائی گئی۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔١٢ جولائی) ٭گورنمنٹ سیفی پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ نارتھ ناظم آباد میں داخلے کے لئے آنے والے طلبہ پر مسلح لڑکوں نے اندھا دھن فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں اسلامی جمعیت طلبہ کا ایک کارکن عمیر محمد خان جا ں بحق اور ٦ دیگر کارکنان زخمی ہو گئے۔فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہونے والا راہ گیر بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔تصادم APMSOاور اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں میں ہوا۔دوسرا ہلاک ہونے والا APMSO کا کارکن بتایا جاتا ہے جس نے عباسی شہید اسپتال میں دم توڑا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔١٢ جولائی) ٭حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور تین دن کے وقفہ سے اسلام آباد میں شروع ہوا۔مذاکرات رات گیارہ بجے تک جاری رہے۔مذاکرات کے چوتھے دور کو نا مکمل قرار دیا گیا ہے۔مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چو تھے دور کا دوسرا اجلاس سوموار ٤٢ جولائی کو گورنر ہاوس کراچی میں ہو گا۔بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے مذاکرات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے وقت جب فریقین مذاکرات کی میز پر ہیں کراچی میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ کا سبب کیا ہے اور تمام دنوں سے زیادہ افراد قتل ہونے کی وجہ کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ فریقین اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔انتہائی با خبر ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے وفد کا کہنا یہ تھا کہ رینجرز اور حکومتی ایجنسیاں اس قتل غارت کی ذمہ دار ہیں جبکہ سرکاری وفد ان سب کاروائیوں کو ایم کیو ایم کے کھاتے میں ڈال رہا تھا۔ (جسارت،جنگ۔١٢ جولائی ) ٭مسلح دہشت گردوں اور سینکڑو ں افراد کی نقل مکانی کے بعد رضویہ سوسائٹی،گلبہار،جہانگیر آباد،وحید آباد،عثمان آباد اور چمن سینما کے قرب و جوار کی آبادی کا محاصرہ کر لیا گیا۔محاصرہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب شروع کیا گیا۔محاصرے اور گھر گھر تلاشی کے کام میں ایک ہزار ایک سو قانون نافذ کر نے والے اہلکاروں کے علاوہ پولیس کی بھاری نفری شامل تھی۔اس فورس کو بکتر بند گا ڑیو ں کی مدد بھی حا سل تھی۔بدنام زمانہ کھجی گراونڈ کو رینجرز نے اپنا بیس کیمپ بنا لیا۔٧ مشتبہ دہشت گردوں سمیت ٠٢ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔کھجی گراونڈ سے گزشتہ تین ماہ کے دوران ٥٣ لاشیں ملی ہیں ۔ڈپٹی کمشنر سینٹرل خسرو پرویز نے کھجی گراونڈ میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ محاصرہ کئے جانے والا علاقہ گزشتہ ٢ ماہ سے ایم کیو ایم الطاف گروپ کی دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا تھا۔رینجرز کے کمانڈنٹ نے بتایا کہ تمام علاقہ دہشت گردوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔انہو ں نے بتایا کہ انہوں نے ٧ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔صحافیوں کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس علاقے میں روزانہ ٥ سے ٠٢ افراد کو ہلاک کیا جا رہا تھا۔ایک اندازے کے مکطابق گزشتہ چند ہفتو ں کے دوران ٩٦ پختونوں،٠٨ پنجابیو ں اور ٣ بلوچوں کو ہلاک کیا گیا۔ایم کیو ایم حقیقی اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس تمام دہشت گر دی کا ذمہ دار الطاف گروپ ہے۔اس موقع پر صحافیو ں کو کھجی گراونڈ اور ٹار چر سیلو ں کا دورہ بھی کرایا گیا۔وہا ں انسانی آلائشیں،رسیاں،خون آلود کپڑے بر آمد ہوئے۔ایزا رسانی میں استعمال ہو نے والے آلات اور ڈرل مشین بھی بر آمد ہوئیں۔ایک مکان سے دھماکہ خیز مادہ بر آمد ہوا۔گرفتار ہونے والوں میں سے ٦ کا تعلق ایم کیو ایم سے بتایا جا تا ہے۔ (جسارت،جنگ۔٢٢ جولائی) ٭کراچی میں جمعہ کے روز فائرنگ اور ایزا رسانی کے واقعات میں ایک سپاہی اور ایک محافظ سمیت ٩ افراد جا ں بحق اور ٣ افراد زخمی ہو گئے۔نا ظم آباد سے ٢ بوری بند لاشی بر آمد ہوئیں۔بریگیڈ میں حقیقی کے کارکن کو قتل کیا گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٢٢ جولائی) ٭حکومت سے مذاکرات کر نے والی ایم کیو ایم کی ٹیم کے سربراہ اجمل دہلوی نے صدر مملکت سردار فاروق احمد خان لغاری سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات میں کامیابی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔صدر براہ راست مد ا خلت کر کے مذاکرات کی کامیابی کے لئے ڈیڈ لائن دیں اور اگر حکومت ان کی دی گئی تاریخ تک مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار نہ کرے تو وہ اپنی آٹھویں ترمیم کا اختیار استعمال کریں۔ (جسارت۔٢٢ جولائی) ٭وفاقی وزیر داخلہ میجر جنرل(ر) نصیر اللہ با بر نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ایک طرف تو برطانیہ جمہوریت اور انسانی حقوق کا بڑا چیمپیئن بنتا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور انسانیت کے سنگین جرائم میں ملوث افراد کی پشت پناہی کر نے والے الطاف حسین کو سیاسی پناہ دی ہوئی ہے۔وہ آج گلبہار میں بدنام زمانہ کھجی گراونڈ کے دورے کے بعد اظہار خیال کر رہے تھے۔وزیر داخلہ نے کھجی گراونڈ کو انسانی مذبحہ خانہ قرار دیا۔انہو ں نے کہا کہ کھجی گراونڈ کو ایم کیو ایمم الطاف گروپ نے مقتل بنا رکھا تھا۔ (جسارت،جنگ۔٢٢ جولائی) ٭وزیر داخلہ نصیر اللہ خان بابر نے کہا ہے کہ الطاف گروپپ لاشوں کی سیاست چھوڑ کر ہتھیار ڈال دے۔اب بہت ہو گیا اور انہوں نے عوام کو کافی سزا دے دی۔انہو ں نے یہ بات ہفتہ کو اسٹیٹ گیسٹ ہاو¿س کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہی۔کھجی گراو¿نڈ کے دورے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہاں انہوں نے وہ مقام دیکھا جہاں لوگوں کو گولی ماری جاتی تھی اور گول پوسٹ پر پھانسی دی جاتی تھی۔وزیر داخلہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ FIAایف آئی اے نے برطانیہ کو الطاف حسین کے خلاف متعلقہ ریکارڈ اور ثبوت بھیج دیئے ہیں اور ہمیں توقع ہے کہ انٹرپول کے ذریعے دو تین ماہ میں الطاف حسین کو پاکستان لایا جائے گا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت پاکستان کے پاس شواہد موجود ہیں کہ بھارت ایم کیو ایم کے کارکنوں کو دریائے گومتی کے پار قائم کئے گئے ٹرینگ کیمپ میں دہشت گردی کی تربیت دے رہا ہے۔انہوں نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کی سیاست چھوڑ دیں وہ اس قوم کو کافی سزا دے چکے ہیں۔ (جنگ،DAWN۔٣٢ جولائی)
|
|