|
|

|
Home Year by Year Review
|
٭ملی یکجہتی کونسل اور جمعیت علماءپاکستان(ن) کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی نے کہا ہے کہ کراچی کے حالات کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر عائد ہوتی ہے۔یہ دو گروپوں کی لڑائی ہے اور اس کی ذمہ داری الطاف حسین پر ہے۔انہو ں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی پر ورش کر نے والا سابق صدر ضیاءالحق تھے جنہو ں نے غوث علی شاہ کے ذریعے اس کو پر وان چڑھایا۔وہ لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ (جسارت۔٣ جون) ٭ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر پولیس اور رینجرز کے چھاپے کے رد عمل میں شروع ہونے والے ہنگامے اور پر تشدد واقعات میں شہر کے شورش زدہ علاقوں میں نا معلوم افراد کی فائرنگ سے نیوی کے افسر اور دو پولیس اہلکاروں سمیت ٨ افراد جا ں بحق اور ٦ پولیس اہلکاروں سمیت ٥٤ افراد زخمی ہو گئے۔مسلح نو جوانوں کے گروہوں نے ٦٢ گاڑیوں،متعدد پیٹرول پمپوں اور سیاسی مخالفین کے مکانوں کو نذ ر آتش کر دیا۔ضلع وسطی سب سے زیادہ متاثر رہا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٤ جون) ٭ایم کیو ایم الطاف کے مرکزی دفتر پر جمعہ کے روز چھاپے کے خلاف ہفتہ کے روز اندرون سندھ مختلف شہروں میں غیر اعلانیہ ہڑتال رہی جس کے دوران تشدد کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔مختلف شہروں میں ڈیڑھ درجن گا ڑیا ں جالدی گئیں۔حیدرآباد اور لطیف آباد میں نظام زندگی درہم بر ہم رہا۔جہا ں دو پوسٹ آفس اور ٨ گا ڑیا ں جلادی گئیں۔جبکہ فائرنگ سے قانون نافذ کر نے والے ٢ اہلکاروں سمیت ایک درجن افراد زخمی ہو گئے۔پولیس ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے ایک یونٹ انچارج اور ایک سرکل انچار سمیت ٩١ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٤ جون) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ حکومت خود دہشت گردی میں ملوث ہے۔وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویوں میں انہو ں نے کہا کہ ہمارے پاس ہزاروں ثبوت اس امر کے ہیں کہ حکومت جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کر رہی ہے۔انہو ں نے کہا کہ اسلحہ ایم کیو ایم کے پاس نہیں ،جاگیر دار اور وڈیروں کے پاس ہے۔انہو ں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم نے اپنے الفاط پر معافی نہ مانگی تو پھر کوئی میری بھی نہیں سنے گا اور عوام کا جو بھی رد عمل ہو گاوہ منطقی اور فطری ہو گا۔ (جسارت،جنگ۔٤ جون) ٭پاکستان رینجرز کے ترجامن نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو ٠٩ پر دوبارہ چھاپہ مارنے اور اور اس دوران خواتین سے بدتمیزیاور لوٹ کھسوٹ کی سختی سے تردید کر تے ہوئے وضاحت کی ہے کہ انہیں حساس اداروں کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ چند بدنام دہشت گرد بھاری مقدار میں اسلحہ ،نقد رقم اور دہشت گردی کے لئے نئی ہدایات کے لئے ٠٩ پر جمع ہیں ۔اس اطلاع پر پولیس اور رینجرز کی مشترکہ ٹیم نے لیڈی سرچر اور مجسٹریٹ کی نگرانی میں سوا تین بجے شب چھاپہ مارا اور اس دوران مرکز پر کوئی مرد کارکن موجود نہیں تھا۔شمیم اور ستارہ باجی کی تلاشی لیڈی سرچر نے لی۔نائن زیرو سے چند متنازعہ مواد اور وڈیو کیسٹس قبضے میں لی گئی۔جبکہ ہزاروں روپے نقدی لوٹنے اور توڑ پھوڑ کے الزامات بالکل بے بنیاد اور لغو ہیں۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٤ جون) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ بے نظیر زرداری نے ملک توڑنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔اور اس منصوبے کے مطابق وہ آئی بی(IB) کو اپنی ذاتی فوج میں تبدیل کر رہی ہیں۔ بے نظیر حکومت نے سندھ میں آئی بی کو ہدایت دی ہے کہ ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ مہاجروں اور فوج کے درمیان تصادم ہو جائے۔انہو ں نے کہا کہ بے نظیر زرداری کی یہ خواہش اس وقت سے ہے جب وہ جلا وطن تھیں اور نجی محفلوں میں کھلے عام کہتی تھیں کہ میں پاکستان توڑ کر اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لوں گی۔انہوں نے کہا کہ مہاجروں کا نہ پوری فوج سے نہ کل جھگڑا تھا نہ آج ہے۔ہمارا اختلاف سرف چند متعصب جرنیلوں سے ہے جو بے نظیر کے ہا تھو ں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قتل کرنا اور قتل کرانا پیپلز پارٹی کی ریت ہے،روایت ہے اور ثقافت کا حصہ ہے۔الطاف حسین نے کہا کہ صدر مملکت میں نہ تو جرائت اظہار ہے اور نہ ہی اخلاقی جرائت۔جب وہ صدر بننے کی خاطر ووٹ لینے کے لئے مجھ سے بات کر سکتے ہیں تو موجودہ صورتھال پر وہ مجھ سے بات کیوں نہیں کر سکتے؟ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم انٹرنیشل سیکریٹیریٹ میں مہاجروں سمیت مختلف قومیتوں کے افراد پو مشتمل ایک وفد سے گفتگو کر تے ہوئے کیا۔ (جسارت،جنگ۔٥ جون) ٭ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر پولیس اور رینجرز کے چھاپے کے رد عمل میں شروع ہونے والے ہنگامے ،توڑ پھوڑ،جلاو ¿ گھیراو ¿ اور فائرنگ کے واقعات میں مختلف علاقوں میں ٢١ افراد جاں بحق اور ٩١ زخمی ہو گئے۔جبکہ ٤٢ گاڑیوں،٤ مکانوں،پیٹرول پمپ اور ایک بینک کو نذر آتش کر دیا گیا۔سعود آباد ،نارتھ ناظم آباد اور تیموریہ تھانوں پر حملے اور رینجرز کی چیک پوسٹ پر بھی فائرنگ کی گئی۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٥ جون) ٭کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز ٠٩ پر چھاپے اور لوگوں کی ہلاکت پر ایم کیو ایم کی جانب سے ہفتہ کو دی جانے والی ہڑتال پر حیدر آباد اور لطیف آباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں بھی اتوار کو بھی ہڑتال رہی۔فائرنگ اور کریکر پھینکے جانے کے واقعات کے علاوہ کئی گاڑیو ں کو نذر آتش کر دیا گیا۔لطیف آباد نمبر ٨ کے ایک تھا نے پر حملہ کے علاوہ ایک صوبائی مشیر کے گھر پر بھی کریکر پھینکا گیا۔ (جسارت،جنگ۔٥ جون) ٭وزیر داخلہ نصیر اللہ با بر نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس اس امر کا نا قابل تردیدی ثبوت موجود ہے کہ ایم کیو ایم الطاف گروپ کے بعض رہنمائقبائلی علاقوں اسلحہ اور ایمونیشن کی خریداری اور اسے کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں پہنچانے کی کاروائی میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے الطاف گروپ کے سینیٹر زاہد اختر اور دیگر ٤ افراد کو صوبہ سرحد سے اسلحہ کراچی اسمگل کر نے کی کوششوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا ہے جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ الطاف گروپ قبائلی علاقوں سے اسلحہ کی خریداری اور اسے کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں پہنچانے کی کاروائی میں ملوث ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ الطاف حسین پر جو مقدمے ہیں وہ واپس نہیں ہو ں گے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ الطاف گروپ کو باہر سے پیسہ مل رہا ہے۔ (جسارت،جنگ۔٥ جون) ٭ایم کیو ایم نے مرکز اور حکومت سندھ کے خلاف ایک اور رٹ دائر کر دی۔بیرسٹر فاروق حسن نے ایم کیو ایم الطاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے خلاف آئینی پٹیشن دائر کر دی ہے۔ (جسارت۔٥ جون) ٭شہر کے مختلف علاقوں میں جلاو ¿ گھیراو ¿،توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے واقعات میں ٣ پولیس اہلکاروں سمیت ٢١ افراد کو قتل،١٤ کو زخمی،٢١ گاڑیا ں ایک بینک،ایک پوسٹ آفس کو نذر آتش کر دیا گیا۔مسلح افراد نے شہر کے مختلف علاقوں میں اندھا دھن فائرنگ کر کے دکانیں اور کاروباری مراکز بند اور ٹریفک معطل کرادی۔بکتر بند گاڑی پر دستی بم سے حملہ کیا گیا۔بکہ حیدرآباد میں تیسرے دن بھی شرپسندوں نے پیٹرول چھڑک کر سرکاری گاڑی سمیت ٥ نجی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔اورنگی ٹاو ¿ن کے علاقے میں نا معلوم افراد نے امریکن قونصل خانے کی گاڑی چھین کر نذ آتش کر دی۔رینجرز کی چوکی اور تھانے پر بھی حملہ کیا گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٦ جون) ٭سندھ کے وزیر اعلیٰ سید عبدللہ شاہ سے پیر کی صبح نیو سندھ سیکریٹریٹ میں ان کے دفتر میں ایم کیو ایم کی مذاکراتی ٹیم کے رکن اجمل دہلوی نے ملاقات کی۔کراچی میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔با خبر ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے بعد اجمل دہلوی لندن روانہ ہو گئے۔ (جسارت۔٦ جون) ٭گورنر سندھ کمال اظفر نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم ایک منظم سازش کے تحت کراچی کے حالات خراب کر رہی ہے۔حکومت کراچی کا مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے لیکن الطاف حسین اپنے مقاصد کی تکمیل میں دہشت گردی پھیلا کر ملک میں خوف و ہراس پھیلانا چا ہتے ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن ٹی پر الطاف حسین کی میڈیا کو ریج اس بات کا ثبوت ہے کہ ایم کیو ایم ایک سازش کے تحت عام شہریوں کا قتل عام کر کے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔وہ پیر کو گورنر پنجاب چوہدری الطاف مر حوم کے آبائی گاو ¿ں میں ان کے صاحبزادے اور بھائیوں سے تعزیت کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ (جنگ۔٦ جون) ٭ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر پولیس اور رینجرز کے چھاپے کے رد عمل میں شروع ہونے والے ہنگامے کے دوران منگل کو فائرنگ کے واقعات میں ایم کیو ایم کے ایک کارکن،پیپلز پارٹی کے دو کارکنان اور ایک نو جوان خاتون سمیت ٩ افراد ہلاک اور پولیس کانسٹیبل سمیت ٦ افراد زخمی ہو گئے۔پیپلز پارٹی کے کارکن دو سگے بھائیوں کو اورنگی میں اغواءکے بعد قتل کیا گیا جبکہ مسلح افراد نے ایم کیو ایم کے کارکن کو لیاقت آباد میں گھر میں گھس کر ہلاک کیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٧ جون ) ٭وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم الطاف گروپ کے سا تھ اس وقت تک مذاکرات شروع نہیں کئے جا سکتے جب تک وہ اسلحہ پھینک نہیں دیتے۔انہو ں نے کہا کہ ایم کیو ایم الطاف میں دہشت گرد عناصر موجود ہیں جو کراچی میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ ہم دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کر سکتے۔ (جسارت،DAWN۔٧ جون) ٭دہشت گردی ،اسلحہ کی اسمگلنگ اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث ایم کیو ایم الطاف کے رہنماءمحمد عارف قریشی نے مقامی عدالت (پشاور) میں اعتراف جرم کر تے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ الطاف حسین دہشت گردی کی موجودہ لہر کے ذمہ دار ہیں۔اور گولا بارود اور راکٹ لانچر کی خریداری کے لئے الطاف حسین نے اسے لنڈن میں ٤ ہزار پونڈ کی رقم دی تھی۔ملزم محمد عارف قریشی ملیر کراچی کا باشندہ ہے۔گزشتہ دنوں CIDپولیس نے نے پشاور ایئر پورٹ سے ایم کیو ایم کے ٣ کارکنوں کے ہمراہ گرفتارا کیا تھا۔اور بعد ازاں اس کی نشاندہی پر ٠٠١ بم،راکٹ لانچر اور دوسرا اسلحہ بر آمد کر لیا تھا۔جسے تخریب کاری کی غرض سے کراچی اسمگل کیا جانا تھا۔ (جسارت،DAWN۔٧ جون) ٭وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کراچی میں کسی بھی نئے فوجی آپریشن کے امکان کو مسترد کر تے ہوئے ایم کیو ایم کو مذاکرات کی مشروط دعوت دی ہے۔انہو ں نے کہا کہ ہم الطاف اور حقیقی گروپ سمیت کراچی میں تمام گروپوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اسلحہ پھینک کر امن کی طرف آئیں۔الطاف حسین اپنے سا تھیوں کو غیر مسلح کر کے مجرموں کو قانون کے حوالے کریں۔الطاف گروپ کے لوگ کراچی میں دہشت گردوی میں ملوث رہے ہیں۔عظیم طارق،صلاح الدین اور اس طرح کے بہت سے دوسرے معززین کو الطاف گروپ نے مروایا ہے۔انہو نے کہا کہ ایم کیو ایم کی لڑائی حکومت کے سا تھ نہیں بلکہ ریا ست کے سا تھ ہے۔ہم آج بھی ان سے لہتے ہیں اسلحہ پھینک دو۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٨ جون) ٭دہشت گردی کی وارداتوں میں بدھ کو ٣ پولیس اہلکار قتل اور ٣ زخمی ہو گئے۔ایس ڈی ایم لانڈھی کورنگی کیپٹن لیاقت کی سوزوکی پو ٹھو ہار پر ییلو کیب میں سوار ٤ کلاشن کو بردوروں نے فائرنگ کی جس سے ان کا گن مین اور ڈروئیور ہلاک ہوئے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٨ جون) ٭اسلحہ و گولا بارود اسمگل کر نے کے الزام میں گرفتار ایم کیو ایم کے کارکن سید اصغر کا ظمی نے بھی مقامی عدالت(پشاور) میں اعتراف جرم کر لیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کراچی میں دہشت گردی کے لئے درہ آدم خیل سے اسلحہ اسمگل کر نے کی کوشش کر رہے تھے۔اپنے اقبالی بیان میں انہو ں نے کہا کہ جنوری ٥٩٩١ء میں عارف قریش نے مجھے بلا کر کہا کہ الطاف حسین کی ہدایت ہے کہ ایم کیو ایم کے لئے اسلحہ خریدنا ہے۔انہو ں نے کہا کہ ہم نے درہ آدم خیل میں حاجی دین محمد سے ایک راکٹ لانچر اور گرنیڈ وغیرہ خریدے تا ہم واپسی پر پولیس نے کو ہا ٹ رود پر گرفتار کر لیا۔ (جسارت۔،DAWN۔٨ جون) ٭کراچی میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک کانسٹیبل سمیت ٣ افراد ہلاک اور ٧ سالہ بچی سمیت ٣ افراد زخمی ہو گئے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٩ جون) ٭عوامی قیادت پارٹی کے سربراہ جنرل(ر) مرزا اسلم بیگ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم میں نے نہیں بلکہ جنرل ضیاءالحق نے بنائی تھی۔میں تو ٨٨ءمیں ضیاءالحق کی موت کے بعد منظر عام پر آیا جب تک ایم کیو ایم ایک بڑی قوت بن چکی تھی۔پشاور کلب میں عشائیے کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں بنانا یا توڑنا فوج ،آمروں یا ڈکٹیٹروں کا کام نہیں یہ خود بنتی اور ٹوٹتی ہیں۔اسلم بیگ نے الزام لگایا کہ بد قسمتی سے حکومت نے ایم کیو ایم کے ایک گروپ کو کندھوں پر بٹھا رکھا ہے اگر حکومت ایسا نہ کر تی تو یہ دونوں آپس میں لڑ کر ختم ہو جاتے۔ (جنگ۔٩ جون) ٭اغواء،فائرنگ،تشدد اور قتک کی وارداتوں میں جمعہ اور ہفتہ کے دن ٧١ افراد جا ں بحق اور ٤ زخمی ہو گئے۔ہلاک ہونے والوں میں ٥ پولیس اہلکار اور ایک حقیقی کا کارکن بھی شامل ہے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔١١ جون) ٭دہشت گردی کی وارداتوں کے دوران پہلی بار کلفٹن کے علاقوں میں زبردست اندھا دھن فائرنگ اور دو مقامات پر راکٹ دا غے گئے۔دہشت گردی کی دیگر وارداتوں میں اتوار کو ٣ سالہ بچی سمیت ٨ افراد جا ں بحق اور ٤ خواتین سمیت ٨ افراد زخمی ہو گئے۔ASP کی گا ڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٢١ جون) ٭کراچی میں جاری پر تشدد کاروئیوں کے نتیجے میں پیر کے روز دو پولیس اہلکاروں سمیت ٠١ افراد جا ں بھق جبکہ رینجر ز کی فائرنگ سے ایک مبینہ دہشت گرد مارا گیا (جسارت،جنگ،DAWN۔٣١ جون) ٭پاکستان نیوی کے لیفٹینٹ عارف نقوی کو ناظم آباد میں ان کی رہائش گاہ کے باہر گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔دہشت گردی کی دوسری وارداتوں میں مجموعی طور پر ٦ افراد جا ں بحق اور ٣ زخمی ہو گئے۔دیگر جا ں بحق ہونے والوں میں ایم کیو ایم حقیقی کے ٣ کارکن اور زیر زیمی دنیا سے تعلق رکھنے والے سابق کونسلر،فلم ساز اور ڈسٹری بیو ٹر اسلم نا تھا شامل ہیں۔پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے نا م آباد کا محاصرہ کر کے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔جبکہ رات گئے شاہ فیصل کالونی ،ماڈل کالونی،زمان ٹاو ¿ن اور بعض دیگر علاقوں پر بالا دستی کے حصول کے لئے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٤١ جون) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ الطاف حسین سے بات نہیں ہو گی اور ایم کیو ایم کے سنجیدہ لوگوں سے بات ہوگی تو میں آج وزیر اعظم سمیت تمام ارباب اختیار و اقتدار پر واضح کر دینا چاہتا ہو ں کہ کروڑوں عوام مجھے اپنا قائد مانتے ہیں اور جب تک عوام مجھے اپنا قائد مانتے رہیں گے اس وقت تک میں قوم کی رہنمائی کر تا رہوں گا اور جسے بات کر نی ہے اسے الطاف حسین سے ہی بات کر نی ہو گی۔ (جسارت،DAWN٤١ جون) ٭کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور تشدد کے مختلف واقعات میں ٠١ افراد ہلاک اور ٤ زخمی ہو گئے۔ہلاک ہونے والوں میں اک ریٹائرڈ اور ایک زیر تربیت پولیس کانسٹیبل شامل ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں ایک ایم کیو ایم کا کارن بھی شامل ہے۔ (جنگ،DAWN۔٥١ جون) ٭لیاقت آباد سپر مارکیٹ پر رینجرز کی چوکی کی موجودگی میں نا معلوم مسلح دہشت گر دوں نے KMCکے رجسٹرار آفس پر دھاوا بول کر ٤١ افراد کو ایک جگہ جمع کیا اور ان پر گولیا ں برسا دیں۔جس کے نتیجے میں ٠١ افراد موقع پر جا ں بحق اور ٤ شدید زخمی ہو گئے۔دہشت گردی کے دیگر واقعات میں ٠١ افراد جاں بحق اور ٩ زخمی ہو گئے۔مجموعی طور پر ٤٢ افراد جا ں بحق ہوئے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٦١ جون) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے سپرمارکیٹ میں دہشت گردی کے واقع کی شدید مذمت کی ہے ۔انہو ں نے کہا کہ سپر مارکیٹ پر تعینات رینجرز ااور پولیس اہلکاروں کی موجود گی کے با وجود جس منظم انداز میں کاروائی ہوئی ہے اس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ اس میں حکومت اور اس کی ایجنسیاں ملوث ہیں۔ (جنگ،DAWN۔٦١ جون) ٭کراچی میں جمعہ کے روز ایک کوسٹ گارڈ اور ایک پولیس اہلکار سمیت ٩ افراد کو ہلاک اور سپرننڈنٹ ریمانڈ ہوم سمیت ٠١ افراد کو زخمی کر دیا گیا۔جبکہ دو سرکاری گاڑیو ں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ہلاک ہونے والوں میں سے ٢ افراد کو اغواءاور تشدد کے بعد گولی مار دی گئی۔ایک کی لاش کھجی گراو ¿نڈ میں نصب کھنبے سے سے بندھی ہوئی ملی۔نیو کراچی میں حقیقی کے ایک کارکن کو بھی قتل کیا گیا۔حقیقی کے مرکزی رہنماءبدر اقبال کے گھر پر اندھا دھن فائرنگ کی گئی۔ہلاک ہونے والوں میں ایم کیو ایم الطاف کا ایک کارکن بھی شامل ہے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٧١ جون) ٭کراچی میں دہشت گردی اور حالیہ فسادات کی لہر کے بعد کراچی کی صورتحال پر غور کر نے کے لئے ایوان صدر اسلام آباد میں ایک اجلاس ہوا۔جس میں صدر اور وزیر اعظم کے علاوہ اعلیٰ فوجی و سول افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے بعد جاری کر دہ اعلامیہ کے مطابق میں صدر اور وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ان تمام مجرمانہ کاروائیوں کا ارتکاب کر نے والے دہشت گرد ایم کیو ایم (الطاف گروپ) کے کارکن ہیں۔اجلاس نے اس چیز کو بھی محصوص کیا کہ KMCکے دفتر پر حملہ آور دہشت گردوں کی جو شناخت ہوئی ہے وہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ تھانوں پر راکٹ لانچروں کے حملوں میں مبینہ طور پر فہیم کمانڈو اور فاروق دادا ملوث ہیں۔اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ قانون نافذ کر نے والے اداروں اور حکومت کے حامیوں پر حملوں کے ماسٹر مائنڈ ڈاکٹر عمران فاروق ،فاروق دادا اور فہیم کمانڈو ہیں۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٨١ جون) ٭ایم کیو ایم کے متحارب گروہوں کے درمیان جاری محاذ آرائی اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں ہفتے کو ٢١ افراد جا ں بحق اور ایک پولیس افسر سمیت ٠١ افراد زخمی ہو گئے۔گزشتہ ٤٢ گھنٹو ں میں جا ں بحق ہونے والے مقتولین میں ایم کیو ایم حقیقی اور ایم کیو ایم الطاف گروپ کے سرکردہ کارکان شامل ہیں۔نیو کراچی میں ایم کیو ایم حقیقی کے رہنماءبدر اقبال کے گھر پر گزشتہ رات مسلح حملہ کیا گیا جس سے گھر کی چھت پر قائم پولیس پکٹ ڈیوٹی انجام دینے والا سپاہی زخمی ہو گیا۔ہلاک ہونے والوں میں سے ٦ افراد کی بوری بند لاشیں ملیں۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٨١ جون) ٭وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ الطاف حسین نے اپنے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ قانون نافذ کر نے والے ادارے کے ارکان اور سرکاری عمارات پر فائرنگ کروائیں۔اس طرح وہ سرکاری ملازمیں کو دہشت زدہ کر نا چاہتے ہیں۔یہ غلط طریقہ ہے۔ایم کیو ایم ریاست کے اندر ریاست قائم کرنا چاہتی ہے۔جناح پور کے نقشے،حیدر آباد میں فائرنگ ایسے حقائق ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ الطاف حسین کیا چاہتے ہیں۔ (جسارت،جنگ۔٨١ جون) ٭چیئر مین وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم کے پرائیویٹ سیکریٹری۔ایک سابق فوجی اہلکار اور ایک پولیس اہلکار سمیت ٧ افراد شہر میں جاری دہشت گردی اور قتل و غارت گری کے دوران جا ں بحق اور ایک پولیس کانسٹیبل سمیت ٥ افراد زخمی ہو گئے۔مسلح جیپ سواروں نے غازی رینجرز کے ہیڈ کوارٹر پر فائرنگ کی اور دو راکٹ فائر کئے جو پھٹ نہیں سکے۔ہلاک ہونے والوں میں ایک ایم کیو ایم کا کارکن بھی شامل ہے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٩١ جون) ٭متحار ب گروپوں کے درمیان جاری محاز آرائی اور دہشت گردی کے واقعات میں ٧ افراد جاں بحق اور ٦ زخمی ہو گئے۔ہلاک شدگان میں ایک سب انسپکٹر سمیت ٣ پولیس اہلکار شامل ہیں۔نیو کراچی میں ایم کیو ایم کے رہنماءبدر اقبال کے گھر پر ایک اور حملہ کیا گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٠٢ جون) ٭ایم کیو ایم کے متحار ب گروپوں کے درمیان جاری محاز آرائی اور دہشت گردی کے واقعات میں ٦ افراد جاں بحق اور ٧ زخمی ہو گئے ۔نیو کراچی کے علاقے میں دونوں گروہو ں کے درمیان جگہ جگہ جھڑپو ں کے واقعات تیسرے روز بھی جاری رہے۔جا ں بحق ہونے والوں میں ایم کیو ایم حقیقی،پیپلز پارٹی اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔ (جسارت،DAWN۔١٢ جون) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ صدر مملکت فاروق لغاری مہاجروں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے کراچی نہیں آئے بلکہ وہ مہاجروں کے خلاف ریاستی آپریش کے ٣ سال مکمل ہونے پر جشن فتح منانے کراچی آئے ہیں۔لندن میں خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں مارشل لاءلگانے،ہنگامی حالت نافذ کرنے ،کراچی کو دہشت گردی سے متا ثرہ علاقہ قرار دینے اور چار پانچ لاکھ مہاجروں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔لیکن ہم نے بھی عہد کر لیا ہے کہ چاہے کتنی ہی فوجی طاقت استعمال کر لی جائے اور کتنی ہی گولیا ں استعمال کر لی جائیں ہم بھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ (جسارت،جنگ ١٢ جون) ٭ایم کیو ایم کے متحار ب دھڑوں کے درمیان جاری محاز آرائی اور فائرنگ کے دیگر واقعات میں ایک سپاہی،الطاف گروپ کے دو کارکن اور سپاہ صحابہ کے ایک کارکن سمیت ٢١ افراد ضان بحق اور ٩ افراد زخمی ہو گئے۔کورنگی اور لانڈھی میں دو گروہوں میں مسلح تصادم کے نتیجے میں ایک لڑکی اور ایک ہیڈ کانسٹیبل جا ں بحق ہوئے۔بکتر بند گاڑی پر راکٹ فائر کئے گئے۔ماڈل کالونی میں ایک کوچ کو نذر آتش کر دیا گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٢٢ جون) ٰ٭الطاف حسین کا "مہاجر صوبہ" کا مطالبہ دھوکہ کی ٹٹی ہے جس کی آڑ میں وہ پاکستان کو شکست و ریخت سے دو چار کر کے بالآخر "جناح پور" کی آزاد ساحلی ریا ست قائم کر کے اپنے اصل عزائم کی تکمیل کے خواہاں ہیں۔یہ بات سپریم کورٹ میں ایم کیو ایم کی آئینی پٹیشن پر وفاق پاکستان اور صوبہ سندھ کے جوابی بیان میں کہی گئی۔بیان میں کہا گیا کہ الطارف حسین مہاجر صوبے کے مطالبے کی آڑ میں اپنے خفیہ اور باغیانہ عزائم پورے کر نا چاہتے ہیں۔وہ پاکستان توڑ کر اور سرزمین سندھ کے وسیع علاقے کاٹ کر کراچی ڈویژن اور راجستھان کی بھارتی سرحد اور ضلع ٹھٹھہ کے ساحلی علاقوں تک پھیلی ہوئی آزاد ساحلی ریاست ''جناح پور' قائم کرنا چاہتے ہیں۔جن میں حیدر آباد،میر پور خاص اور تھر پارکر کا علاقہ بھی شامل ہے۔ (جسارت،جنگ۔٢٢ جون) ٭گورنر سندھ بیرسٹر کمال اظفر نے معزز شہریوں کی رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے ایم کیو ایم کو غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔جبکہ دوسری جانب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے گورنر سندھ کمال اظفر کی جانب سے ایم کیو ایم کو غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گورنر سندھ کون ہوتے ہیں ہمیں مذاکرات کی دعوت دینے والے؟انہو ں نے کہا کہ کمال اظفر کے پاس عوامی مینڈیٹ نہین ۔بی بی سی سے باتیں کر تے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو وزیر اعظم یا صدر مذاکرات کی پیشکش کریں۔ (جسارت۔٢٢ جون) ٭دہشت گردی کے مختلف واقعات میںشہر میں جمعرات کو ایک سپاہی اور ایم کیو ایم حقیقی کے ٣ کارکنوں سمیت ٥ افراد ہلاک جبکہ ایک خاتون سمیت ٦ افراد زخمی ہو گئے۔جبکہ مغرب کے وقت شہر کے وسطی علاقوں میں ایم کیو ایم کے متحارب گرپوں کے درمیان مورچہ بند فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔ ٣٢ جون) ٭گزشتہ پیر کے روز پیپلز پارٹی کے عہدیدار اور مشاورتی کونسل کے رکن مشاورتی کونسل کے رکن نعیم قریشی نے پیپلز پارٹی اور حقیقی دہشت گردوں کے ہمراہ مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے کارکن شاہد فیروز کے گھر پر حملہ کر کے اس کی نو جوان بہن فرزانہ کو بے آبرو کیا۔کراچی پریس کلب میں ایم کیو ایم شعبہ خواتین کی مسز شمیم خلیل نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مبینہ واردات کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ عین اس روز کی گئی جب صدر فاروق لغاری کراچی میں امن و امان کے مسئلے پر اجلاس کی صدارت کر نے اور وفود سے ملاقات کے لئے کراچی میں موجود تھے۔دہشت گرد جاتے ہوئے گھر سے ٠٦ ہزار روپے کے زیورات ،نقدی اور پرائز بانڈ لوٹ لئے اور فاتحانہ انداز میں"جئے بھٹو" کے نعرے لگاتے ہوئے سرکاری نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں میں وہاں سے فرار ہو گئے۔ایم کیو ایم کی پریس ریلیز کے مطابق نعیم قریشی کا ایک بیٹا اور دو بھتیجے بھی ایم کیو ایم حقیقی گروپ میں ہیں اور متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔مسز شمیم جلیل نے عینی شاہدوں کے حوالے سے بتایا کہ نعیم قریشی اور دیگر دہشت گرد شاہد فیروز کے گھر کا دروازہ توڑ کر داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ شروع کر دی۔گھر میں شاہد فیروز کی والدہ،بھائی،دو کمسن بھتیجیاں ،چھوٹی بہن اور محلہ کے ایک بزرگ موجود تھے۔شاہد فیروز کے طھائی اور ماں پر تشدد کر نے کے بعد وہ ٦١ سالہ فرزانہ کی طرف متوجہ ہوئے اور شاہد فیروز کا پتہ پوچھا۔پریس ریلیز کے مطابق بعد ازاں انہو ں نے باری باری فرزانہ کو ہوس کا نشانہ بنایا۔پریس کلب میں پریس کانفرنس کے موقع پر آنسہ فرزانہ،ان کی والدہ مسمات رشیدہ اور دیگر خواتین بھی موجود تھیں۔پریس کانفرنس کے دوران آنسہ فرزانہ بیٹھی روتی رہی۔( (جسارت،جنگ،DAWN۔٣٢ جون) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے قوم کے تمام افراد خصوصاً نو جوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بربریت کا نشانہ بننے والی بیٹیوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔انہو ں نے قوم کے نام ایک خط میں کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے مہاجر قوم کو بد ترین ریاستی آپریشن کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اب بات ہمارے نو جوانوں کے قتل سے بڑھ کر ہماری بہنوں،بیٹیوں کی عزتوں تک پہنچ چکی ہے۔میں ان حالات میں قوم سے کہتا ہوں کہ خدارا مایوس نہ ہونا تمھیں اپنی مدد آپ کے اصول پر اپنے آپ کو تیار کرنا ہو گا۔انہو ں نے کہا کہ آج میں قوم کا درد رکھنے والے تمام بزرگوں اور ماو ¿ں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور فرزانہ سلطان کو اپنی بیٹی بنا کر دنیا ں کو بتا دیں کہ مہا جر قوم پوری طرح جا گ اٹھی ہے۔ (جسارت،جنگ۔٣٢ جون) ٭ایم کیو ایم الطاف گروپ47 AK- رائفلوں ،راکٹ سے پھینکنے والے گرنیڈز،ٹینک شکن میزائلوں اور زمین سے فضاءمیں مار کر نے والے میزائلوں سے پوری طرح مسلح ہے۔یہ بات وفاق پاکستان اور صوبہ سندھ کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کئے جانے والے بیان میں کہی گئی۔بیان میں کہا گیا کہ ایم کیو ایم سیاسی جماعتوں کے ایکٹ مجریہ ٦٧ ءکے تحت کوئی رجسٹرڈ جماعت نہیں ہے۔اس کے حامیوں اور امیدواروں سے کسی نظریہ یا پرو گرام سے وفاداری کانہیں بلکہ الطاف حسین کی ذات سے وفاداری کا عہد لیا جاتا ہے۔ (جسارت،جنگ ،DAWN۔٣٢ جون) ٭ایم کیو ایم کے ایک روپوش کارکن کی بہن کی عصمت کے واقعے کے منظر عام پر آنے کے فوراً بعد کراچی میں جمعرات ہی سے حالات کشیدہ اور فائرنگ زدہ ہو گئے۔جمعرات کو ضلع وسطی کے بعض حصوں میں شروع ہونے والی فائرنگ جمعہ کو پورے شہر میں پھیل گئی۔ایم کیو ایم کے متحارب گرپو ں میں مورچہ بند فائرنگ کے علاوہ نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایم کیو ایم الطاف گروپ کے سابق مرکزی سیکریٹری مالیات ،سابق رکن قومی اسمبلی سید محمد اسلم کے بھائی،تحریک قائد الطاف حسین اور سابق قائم مقام وزیر اعلیٰ سندھ طارق جاوید کے انتہائی قریبی سا تھی ایس ایم طارق اور تین پولیس اہلکاروں سمیت ٢٢ افراد ہلاک جبکہ شہر بھر میں خواتین اور معصوم بچوں سمیت ٠٣ افراد زخمی ہو گئے۔ضلع وسطی کی ایک سرکاری گاڑی سمیت ٨١ گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔کورنگی نمبر ٢ میں پولیس کی بکتر بند گا ڑی پر راکٹ داغا گیا ۔لیاقت آباد میں پیلی کو ٹھی پر بھی راکٹ داغا گیا۔ایس ایم طارق کق جوہر آباد فیڈرل بی ایریا بلاک ٤١ میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔وہ موقع پر ہی جا ں بحق ہو گئے۔کئی جگہو ں پر شر پسندوں اور پولیس کے درمیان مورچہ بند مقابلے بھی ہوئے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٤٢ جون) ٭حکومت سندھ نے ایم کیو ایم الطاف گروپ کے ایک کارکن شاہد فیروز کی ہمشیرہ فرزانہ سلطان کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعہ پر عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس ضمن میں عدالتی کمیشن تشکیل دیں گے۔ادھر ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی شعیب بخاری نے متاثرہ لڑی کے ہمراہ تھانہ شریف آباد میں واقعہ کی رپورٹ درج کرادی ہے۔اس ضمن میں جب APP نے نعیم قریشی سے رابطہ کیا تو ٠٦ سالہ مشاورتی کونسل کے رکن نعیم قریشی نے بتایا کہ اس کو محض سیاسی بنا پر بدنام کیا جا رہا ہے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٤٢ جون) ٭فرزانہ سلطان کے سا تھ زیادتی کی خبر حیدر آباد پہنچتے ہی شہر بھر میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔حیدر آباد اور لطیف آباد رات بھر فائرنگ سے گونجتے رہے۔فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں ٢ افراد ہلاک اور ٢ گاڑیا ں نذر آتش کر دی گئیں۔پولیس اور مظاہرین میں فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔گا ڑی کھاتہ میں پولیس موبائل پر بھی حملہ کیا گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٤٢ جون) ٭ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فرزانہ سلطان کے سا تھ کی جانے والی درندگی پر مورخہ ٤٢،٥٢ اور٦٢ جون بروز ہفتہ،اتوار اور پیر ٣ روز تک پر امن سوگ منائیں۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٤٢ جون) ٭ایم کیو ایم کے کارکن شاہد فیروز کی بہن فرزانہ سلطان سے کی جانے والی مبینہ زیادتی پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی جانب سے ٣ روزہ پر امن سوگ کی اپیل کے جواب میں ہفتے کی صبح مسلح کار سواروں نے ضلع وسطی کے مختلف علاقوں میں خصوصاً اور کراچی کے دیگر علاقوں میں عموماً جگہ جگہ فائرگ کر کے دکانیں بند کرا دی گئیں۔متعدد پیٹرول پمپ،بینکوں،KESCٹیلی کام ،ایکسائز سمیت دیگر سرکاری دفاتر،ٹرکوں ،بسوں ،کوطوں منی بسوں اور کاروں سمیت ١٢ گاڑیاں نذر آتش کر دی گئیں۔یوم سوگ کی خلاف ورزی کر تے ہوئے سڑکو ں پر گا ڑیا ں لانے والے ٨١ افراد کو گولیا ں مار کر ہلاک اور ٩ کو زخمی کر دیا گیا۔شرپسندوں نے پشاور سے کرچی آنے والی چناب ایکپریس کو اورنگی اسٹیشن نا ظم آباد بڑا میدان پر روک کر آگ لگا دی جس سے ٹرین کی بعض بو گیو ں کو شدید نقصان پہنچا تا ہم ٹرین مسافروں سے خالی تھی۔اس ٹرین کو منگھو پیر اسٹیشن پہنچنا تھا۔جبکہ شہر میں تجارتی و صنعتی سرگرمیوں سمیت معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔ایک دن کے سوگ میں ٥ ارب روپے سے زائد کا خدشہ ہے۔جبکہ نوائے وقت اور TheNationکے دفتر پر شدید فائرنگ کی گئی اور راکٹ داگا گیا۔تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اخباری دفاتر پر اس قسم کا یہ پہلا حملہ ہے۔ (جسار،جنگ،DAWN۔٥٢ جون) ٭ایم کیو ایم کی جانب سے یوم سوگ پر کراچی کی طرح اندرون سندھ میں بھی نظام زندگی متا ثر رہا اور پر تشدد واقعات میں متعدد افراد زخمی اور درجنوں گا ڑیا ں نذر آتش کر دی گئیں۔حیدر آباد میں دو پولیس تھانوں،پولیس کی گشتی پارٹی اور رینجرز کی ایک چوکی پر حملہ کیا گیا۔شدید فائرنگ کے باعث پورا شہر اور لطیف آباد مکمل بند رہا۔پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ (جسارت،جنگ۔٥٢ جون) ٭ایم کیو ایم نے اپنے ٦ فوری مطالبات جا ری کر تے ہوئے حکومت کو الٹی میٹم دیا ہے کہ ان مطالبات کو ٨٤ گھنٹوں میں پورا کیا جائے۔اگر اس مدت میں یہ مطالبات پورے نہ کئے گئے تو پیر کی شام ایم کیو ایم آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔مطالبات مندرجہ ذیل ہیں۔ ١۔میر پور خاص کے ٢١ عہدیداران و کارکان کی رہائی۔ ٢۔آنسہ رئیس فاطمہ اور قمر منصور کو غیر قانونی حراست سے بازیاب کرایا جائے۔ ٣۔حشام الظفر،سینیٹر زاہد اختر اور دیگر کی بازیابی۔ ٤۔ایم کیو ایم کے اسیر کارکنوں کی کراچی جیلوں میں واپسی۔ ٥۔فرزانہ سلطان کی آبرو پر ڈاکہ ڈالنے والے پیپلز پار ٹی کے نامزد کونسلر نعیم قریشی اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری اور سزا اور فرزانہ سلطان کو ہ١ لاکھ روپے دیئے جائیں۔ ٦۔ایم ایم طارق کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٥٢ جون) ٭وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ کراچی کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔بلکہ الطاگ گروپ کی کراوائیاں جونیجو دور سے شرع ہوئی تھی۔حکومت اس مسئلے کا سیاسی حل چاہتی ہے۔اس لئے ہم نے الطاف گروپ سے ہتھیار پھینک دینے کی اپیل کی ہے۔اگر الطاف حسین بھی عظیم طارق کی طرح دہشت گردی کی مذمت کریں تو پھر کراچی کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔درحقیقت کراچی میں ایم کیو ایم کے دو دھڑوں کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔انہو ں نے کہا کہ الطاف حسین ریاست کو نشانہ بنا رہا ہے۔اس کے دہشت گردوں کی تربیت بھارت میں ہو رہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں ایس ایم طارق کے قتل کی بھر پور مذمت کر تی ہو ں ۔وہ کراچی کے بہا در بیٹے تھے جنہو ں نے ایم کیو ایم سے علیحدگی کے وقت اعلان کیا تھا کہ میں فاشزم اور ٹارچر سیلوں کے سا تھ نہیں چل سکتا۔یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں نے ایس ایم طارق کو مار دیا۔انہو ں نے کہا کہ عظیم احمد طارق اور ایس ایم طارق کو حب الوطنی کے جرم میں قتل کیا گیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایم کیو ایم کو کراچی میں قتل غارت گردی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا وہ ہتھیار پھینک کر مذاکرات کی میز پر آئیں۔وہ ہفتہ کو پارلیمنٹ ہاو ¿س میں اپنے چیمبر میں صحافیں سے بات چیت کر رہی تھیں۔۔دوسری جانب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ ایس ایم طارق کے قتل میں حکومت اور سرکاری ایجنسیاں ملوث ہیں۔ ( جسارت،جنگ،DAWN۔٥٢ جون) ٭ہفتہ کو کراچی میں فرزانہ سلطان کا جو مبینہ طور پر اجتماعی بے حرمتی کا شکار ہوئی تھی طبی معائنہ کیا گیا۔کراچی پولیس سرجن آفیس کی لیڈی میڈیکو لیگل افسر نے تیسرے پہر طبی معائنے کے بعد اپنی ابتدائی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اجتماعی بے حرمتی کا فوری طور پر کوئی ثبوت نہیں ملا۔لڑکی کے جسم پر تشدد یا مزاحمت کے کوئی نشانات نہیں پائے جاتے۔تفصلی رپورٹ بعد میں پیش کی جائے گی۔ (جنگ،DAWN۔٥٢ جون) ٭ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی جانب سے پر امن سوگ کے دوسرے دن فائرنگ کے نتیجے میں ٥٣ افراد جاں بحق اور ٤٢ زخمی ہو گئے۔شرپسندوں نے بینکوں،٣٢ گاڑیوں اور ایک کونسلر آفس کو نذر آتش کر دیا۔لیاقت آاد تھانے اور ٹیلی ویژن کی عمارت پر راکٹ فائر کئے گئے۔ مختلف علاقوں سے اعضاءبریدہ لاشیں بر آمد ہوئیں۔سوگ کے دوسرے روز شہر مفلوج اور اربوں روپے کا نقصان ہوا۔پولیس اور رینجرز نے بعض علاقوں کا محاصرہ کر کے متعدد نو جوانوں کو گرفتار کر لیا۔ جبکہ حیدر آباد میں فائرنگ سے ٠١ سالہ بچی جا ں بحق اور پولیس کے سپاہیوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔سوگ کے دوسرے روز سی آئی سینٹر کے انچارج DSPکے گھر پر بھی فائرنگ کی گئی۔MCBکی شاخ نذر آتش کر دی گئی۔اس کے علاوہ واپڈا دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔شرپسندوں نے ٹرین پر بھی حملہ کیا اور کریکر پھینکے جس سے ٢ افراد زخمی ہو گئے۔پولیس نے چھاپے مار کر ایم کیو ایم کے کارکنان کو گرفتار کر لیاجس کے سبب شہر میں اشتعل پھیل گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٦٢ جون) ٭وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کو ریاست کے خلاف جنگ میں کراچی کے عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ الطاف کے دہشت گردوں نے کراچی میں عوام کو یر غمال بنا رکھا ہے۔انہیں بیرون ملک سے اسلحہ اور تربیت مل رہی ہے۔اور وہ دوسروں کے ہا تھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ کراچی میں نہ حقوق کی لڑائی ہے اور نہ ہی حکومت کو گرانے کے لئے قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا جا رہا ہے۔بلکہ الطاف گروپ اپنے دہشت گردوں کے ذریعہ ریاست کے اندر ریا ست بنانے کے لئے کوشاں ہے۔انہو ں نے مزید کہا کہ الطاف گروپ ہتھیار پھینک دے اور ملک کی سلامتی ،استحکام اور ترقی کے خلاف سازشیں بند کر دے تو حکومت ہر وقت اس سے بات چیت کر نے کے لئے تیار ہے۔ (جسارت۔٦٢ جون) ٭ایم کیو ایم الطاف گروپ کے ایک گرفتار کارکن محمد تقی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اور ان کا گروپ الطاف حسین کی ہدایت پر درجنوں افراد کو قتل کر چکے ہیں۔جن میں قانون نافذ کر نے والے ادارے کے اہلکار بھی شامل ہیں۔اسلام آباد میں صحافیوں کے سامنے اس نے اعتراف کیا کہ کراچی کے حالات میں ایم کیو ایم الطاف گروپ اور حقیقی کا ہا تھ ہے۔تقی کو کچھ عرصہ قبل کراچی ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔اس کو ملک صفدر اور ماموں بھی کہا جاتا ہے۔تقی کے مطابق وہ اور اس کے سا تھی جاوید لنگڑا،شاہد قریشی،نعیم چشمہ،مجید دھوبی،تسلیم کاکا،سہیل اکبر،ندیم کمانڈو،مرشد اور طارق وغیرہ کئی دفعہ بھارت جا چکے ہیں۔اسے فاروق ستار کے خط کی بنا پر صرف ایک گھنٹے میں بھارتی ویزا مل گیا تھا۔تقی کے مطابق جاوید لنگڑا کے دو ماموں بھارت میں BJP میں ہیںاور کافی رسوخ کے حامل ہیں۔تقی نے انکشاف کیا کہ خداداد کا لونی میں انہو ں نے عمران فاروق اور سلیم شہزاد کی ہدایت پر ٤ سندھیو ں کو قتل کیا،حقیقی کے ٤ کارکنوں کو ٹارچر سیل میں ٠١ روز رکھنے کے بعد پھانسی دے دی۔حقیقی کے ہی مراد پریڈی اور کامران کو قتل کیا۔قاسم اور ندیم کو بھی ہمارے گروپ نے قتل کیا۔یہ کاروائیاں آپریشن کلین اپ تک جاری رہیں۔ہمیں ہدایت جاوید لنگڑا کے توسط سے ملتی تھیں جو الطاف حسین جاری کر تے تھے۔آپریشن کے دوران ہم روپوش ہو گئے۔پھر اوپر سے ملتان میں جمع ہونے کی ہدایت پر وہاں چلے گئے۔ندیم کمانڈو،نعیم چشمہ،مجید دھوبی،پر ویز،نا در اقبال وغیرہ ہمارے سا تھ تھے۔٣٩ ءکے انتخابات میں واپس کراچی پہنچے۔اب ایم کیو ایم کے دو چینل بن گئے ہیں ایک کو فاروق ستار اور دوسرے کو جا وید لنگڑا ڈیل کر رہے تھے۔ہمیں الطاف حسین کی جانب سے منحرف ایم پی اے شمیم احمد کے قتل کا حکم ملا۔تقی نے انلشاف کیا کہ ایڈیٹر تکبیر کا قتل الطاف حسین کے حکم پر عامر،رانو اور ظہیر نے اقبال عرف بالی(الطاف حسین کا سابق باڈی گارڈ)مارا گیا۔عظیم احمد طارق کو قتل کرنے کے بعد حشام الظفر اور خالد مقبول صدیقی اسلام آباد میں روپوش ہوئے۔عظیم احمد طارق کو الطاف حسین کے خلاف بولنے پر قتل کیا گیا۔اس نے کہا کہ میرے اس بیان کو الطاف حسین کے خلاف بیان حلفی تصور کیا جائے اور مہاجر نو جوانوں سے اپیل کی کہ وہ سچ اور جھوٹ کو پر کھیں اور اسلحہ پھینک کر بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرائیں۔تقی نے کہا کہ میں اقرار کر تا ہوں کہ میں نے اتنے قتل کئے،یہ قتل مجھ سے کرائے گئے۔میں نے یہ قتل جرم سمجھ کر نہیں تحریک کے لئے کئے اور میں اپنی غلطی پر نادم ہوں۔حکومت نے تقی کی گرفاتری پر ٥ لاکھ انعام مقرر کیا تھا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٦٢ جون) ٭حکومت سندھ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر فرزانہ سلطان کے خاندان کو ڈاکٹر عائشہ کی طرف سے دی گئی ڈاکٹر ی رپورٹ قابل قبول نہیں تو وہ پاکستان یا بیرون ملک کسی بھی اہل ڈاکٹر کو نامزد کر سکتے ہیں تاکہ اس پر ایک بار پھر رائے لی جا سکے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سول اسپتال کراچی کی اسسٹنٹ پروفیسر گائنا کالوجی ڈاکٹر عائشہ کی ڈاکٹری رپورٹ ہفتے کے روز جاری کی گئی تھی اور اس میں کہا گیا تھا کہ فرزانہ سلطان کے جسم پر ایسے نشانات نہیں ملے جن سے یہ بات ثابت ہو کہ اس کے سا تھ زیادتی ہوئی ہے۔ (جسارت،جنگ٦٢ جون) ٭تین روزہ سوگ کے آخری دن مسلح افراد کی فائرنگ سے صوبائی وزیر نا در مگسی کے ڈرائیور،دو پولیس اہلکاروںاور ایئر فورس کے آپریٹر سمیت ٢٢ افراد جاں بحق اور ١٢ زخمی ہو گئے۔اس طرح تین روزہ سوگ کے دوران جا ں بحق ہونے والوں کی تعداد ٥٧ اور زخمیوں کی تعداد ٠٠١ سے زائد ہو گئی ہے۔پیر کو شرپسندوں نے ٣ بلدیاتی دفاتر،ڈاک خانہ،کونسلر آفس اور یو ٹیلٹی اسٹور کو نذر آتش کر دیا۔جبکہ PTV کے دفتر پر چوتھی با حملہ کیا گیا۔پولیس کی بکتر بند پر راکٹ چلایا گیا۔سعید آباد میں ایک ہی بوری میں ٥ لاشیں بر آمد ہوئیں۔جبکہ ١١ گا ڑیوں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٧٢ جون) ٭ایم کیو ایم کی جانب سے تین روزہ سوگ کی اپیل پر تیسرے دن بھی کراچی میں معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج رہے اور پوری دنیا سے تین دن تک تجارتی و صنعتی رابطے بحال نہ ہو سکے۔تین روزہ سوگ کے دوران ٤١ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ (جسارت۔٧٢ جون) ٭کراچی کے مختلف مقامات پر جاری ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعات میں PTVسینٹر،پیر صاحب پگارا کی رہائش گاہ،پولیس کی بکتر بند گا ڑیوں،اخبار کے دفتر اور تھانوں سمیت مختلف مقامات پر ٧٦ راکٹ فائر کئے تاہم لیاقت آباد میں ایک راکٹ لگنے سے ٤ افراد ہلاک ہوئے۔اس کے علاوہ کسی مقام پر راکٹ لگنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ (جنگ۔٧٢ جون) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ مہاجر عوام اپنا الگ صوبہ چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ہر مہاجر کی آواز بن چکی ہے کہ جب تک ہم الگ صوبہ نہیں حاصل کر تے اس وقت تک ہمیں جائز حقوق نہیں ملیں گے۔انہو ں نے کہا کہ ایم کیو ایم مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور اس نے الگ صوبے کا مطالبہ نہیں کیا۔لیکن اگر حکومت کی جانب سے نسل کشی جاری رہی تو ایم کیو ایم کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔سوائے اس کے کہ لوگوں کی الگ صوبے کی آواز کو قبول کرے۔ (،DAWN۔٧٢ جون) ٭کراچی میں گزشتہ تین دنوں کے دوران پر تشدد ہنگاموں میں تقریباً ٥٧ افراد کی ہلاکتوں کے بعد اگرچہ شہر میں معمولات زندگی شروع ہو گئے ہیں تا ہم منگل کو بھی شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں دو پالیس اہلکاروں اور ایک فوجی اہلکار سمیت ٤١ افراد جاں بحق اور ٧ زخمی ہو گئے۔جبکہ جگہ جگہ متحارب گروپوں کے درمیان مورچہ بند فائرنگ ہوئی۔بوریوں میں بند ١١ لاشیں ملیں۔بوریوں بند لاشیں عزیز آباد،کھجی گراو ¿نڈ،ملیر،نا ظم آباد اور چمن سینما کے قریب ملی۔اورنگی میں رینجرز داخل ہو گئی۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٨٢ جون) ٭الطاف حسین کے قابل اعتماد ساتھی،قریبی رفیق اور مہاجر قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سیکریٹری اطلاعات حشام الظفر نے منگل کے روز اسلام آباد میں پی آئی ڈی(PID) پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس خطاب کر تے ہوئے ایم کیو ایم کی دہشت گردی کی لرزہ خیز وارداتوں،اہم افراد کے قتل کے منصوبوں،ایم کیو ایم کی مستقبل کی پالیسی اور کراچی کی موجودہ صورتحال میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے کردار کے بارے میں تفصیلات اخبار نویسوں کے سامنے پیش کی ہیں۔حشام الظفر کو گزشتہ دنوں اسلام آباد میں روپوشی کے دوران گرفتار کیا گیا ہے اور آج کل وہ FIA کے زیر تفتیش ہیں۔یہ پریس کانفرنس بھی FIAکے اہلکاروں کی موجودگی میں انہوں نے منعقد کی۔حشام الظفر نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم کا موجودہ لائحہ عمل اور مستقبل کی پالیس پر اظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ الطاف حسین کی ہدایت پر صوبے بھر میں مہاجروں میں مایوسی کی کیفیت پیدا کرنے کا پرو گرام بنایا گیا تھا۔اس مقصد کے لئے کراچی اور حیدر آباد میں دہشت گردی کی وارداتوں کا سہارا لیا گیا ہے۔اس صورتحال میں عوام کی دلوں میں یہ سوال ڈالا جائے گا کہ اس صورتحال کا انجام کیا ہے۔اس کے بعد عوام میں علیحدہ صوبے کا مطالبہ پھیلایا جائے گا۔جس کے بعد ایک بار پھر دہشت گردی کی لہر پیدا کی جائے گی۔جس سے عوام میں یہ تاثر پختہ ہو جائے گا کہ علیحدہ صوبے کے علاوہ مہاجر عوام کے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔٨١ نکات تسلیم نہ کئے جانے پر اس دہشت گردی میں مزید شدت پیدا کی جائے گی جو رواں سال میں جاری رہے گی۔جس کے بعد مارچ ٦٩٩١ءمیں ایم کیو ایم باقائدہ اعلان کرے گی کہ علیحدہ صوبے کے لئے ریفرنڈم کرایا جائے۔حشام الظفر نے کہا کہ یہاں تک کی منصونہ بندی تو میرے علم میں ہے۔اس کے بعد منطقی طور پر الطاف حسین کی نیت اور ذہنیت کے بل پر میں یہ کہہ سکتا ہو ں کہ اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے الطاف حسین اچانک مشرقی پاکستان کی طرز پر علیحدی کا نعرہ لگا دے گا۔کراچی کی علیحدگی کے لئے بھارت کی خدمات بھی حا سل کی جائیں گی جو مسئلہ کشمیر کو براہ راست کراچی سے منسلک کر کے دونوں مسائل کے ایک سا تھ حل کی ضرورت پر زور دے گا۔علیحدہ صوبے کی حدود کے بارے میں ایم کیو ایم کی منصوبہ بندی کے بارے میں حشام الظفر نے بتائا کہ یہ صوبہ کراچی،حیدر آباد،میر پور خاص اور نواب شاہ پر مشتمل ہو گا۔ضلع ٹھٹھہ اس صوبے میں شامل ہیں ہو گا۔حشام الظفر نے بتایا کہ اس وقت کراچی میں ایم کیو ایم کے مختلف گروپ دہشت گردی کی واردات کر کے پھر زیر زمین چلے جاتے ہیں۔ان دہشت گردوں نے کراچی کو مختلف سیکٹروں میں بانٹ رکھا ہے۔ اور الطاف حسین کی ہدایت ملنے پر یہ کاروائی کر تے ہیں۔یہ گروپ فروری ٤٩٩١ءسے تشکیل دیئے گئے تھے۔ان میں مندرجہ ذیل گروپ شامل ہیں۔ ١۔خالد تقی بٹ گروپ ،یہ گروپ متعدد پولیس اہلکاروں اور حقیقی کے کارکنوں کے قتل اور فائرنگ کی وارداتوں میں ملوث ہے۔حقیقی کے منصور چاچا کا قتل بھی اس گروپ نے کیا تھا۔ ٢۔فاروق دادا گروپ،یہ گروپ عید الفطر کے موقع پر بلدیہ کے علاقہ میں آرمی کیپٹن،رینجرز کے افسران اور ایس ایچ او بلدیہ کے قتل میں ملوث ہے۔ ٣۔فہیم کمانڈو گروپ،ایس ایچ او بہا در علی کا قتل ان کا اہم کارنامہ ہے۔ ٤۔مبین ٹنڈا گروپ،یہ ایم کیو ایم حقیقی کے سراج احمد خان کے قتل میں ملوث ہے۔ ٥۔جاوید خان گروپ لانڈھی کورنگی کے علاقے میں بے شمار پولیس اور حقیقی کے لوگوں کے قتل کر چکا ہے۔ ٦۔اصغر گروپ ٧۔جاوید مائیکل گروپ ٨۔خالد انجم گروپ،یہ گروپ صرف حقیقی کے لوگوں کا قتل کر نے اور ڈاکے ڈالنے کا کام کرتا ہے۔ ٩۔کمال انصاری عرف پارہ گروپ۔ اور آخری گروپ محمد شاہدکا ہے ۔ ایم کیو ایم کی دہشت گردی کی کاروائی کے طریقہ کار کی تفصیل بتاتے ہوئے حشام الظفر نے بتایا کہ الطاف حسین کا فیصلہ حتمی ہو تا تھا۔اس کے نیچے مرکزی کمیٹی کا سربراہ چیئر مین ہو تا تھا۔اس کے بعد ضلع کی سطح پر زون،علاقہ کی سطح پر سیکٹر اور بلدیاتی سطح پر یونٹ ہو تے ہیں۔آج کل زون ختم کر کے مرکز اور سیکٹر میں براہ راست رابطہ ہے۔٢٩ءکے آپریشن کے شروع ہوتے ہی یہ نظام توڑ دیا گیا تھا۔اب کاروائیوں کے لئے ہدایات لندن سے الطاف حسین کا سیکریٹری ندیم نصرتجاری کر تا ہے۔کارائی کے بعد رپورٹ سینٹر لندن تک پہنچائی جاتی ہے۔بعض اوقات الطاف حسین ہدایات براہ راست عمران فاروق،سلیم شہزاد یا کسی اور کے ذریعے جاری کرتا ہے۔مثلاً حال ہی میں ایم اے جلیل لندن سے براہ راست کراچی میں مسلح جدو جہد شروع کر نے کی ہدایت لے کر اسلام آباد آئے۔حشام الظفر نے بتایا کہ ایم کیو ایم ہر وقت ایک ہٹ لسٹ تیار رکھتی ہے جس میں سے نام کٹنے کے سا تھ سا تھ اضافہ ہو تا رہتا ہے۔اس لسٹ کی مظوری بھی الطاف حسین دیتاہے۔ایم کیو ایم کے "پارٹی کور "دہشت گردوں کے بارے میں حشام الظفر نے بتایا کہ ان کی تعداد ٠٥١ کے قریب ہے۔جن میں عمران فاروق،سلیم شہزاد،صفدر باقری ،جاوید لنگڑا،اشفاق چیف،خالد مقبول سدیقی وغیرہ شامل ہیں۔ایم کیو ایم کو اسلحہ کی فراہمی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ مقامی اسلحہ ڈیلروں کے علاوہ ANP سرحد اور لو کل رہنماءایم کیو ایم کو اسلحہ فراہم کر تے ہیں۔جس کے لئے سرمائی جبری چندہ اور کراچی کے بڑے بڑے بزنس مینوں کی سپورٹ سے حاصل کیا جاتا ہے۔حشام الظفر نے عظیم طارق کے قتل کی تفصیلات بھی بتائیں جس کی منصوبہ بندی میں وہ خود بھی شامل تھے۔یہ قتل اختلافات کے بعد الطاف حسین کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔حشام الظفر نے انکشاف کیا کہ ٢٩ءمیں شروع ہونے والے گرینڈ آپریشن کے بارے میں جام صادق علی اوع چوہدری نثار علی خان نے الطاف حسین کو ایک سال قبل ہی آگاہ کر دیا تھا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٨٢ جون) ٭ڈسٹرکٹ و سیشن جج محترمہ مہہ جبین پر مشتمل تحقیقاتی ٹریبونل کے سامنے فرزانہ سلطان کیس میں ایک اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر سرفراز خان تنولی کی وساطت سے سول اسپتال کراچی کی گائنا کولو جسٹ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ خان،وو من میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر نیر حق کی طبی رپورٹ اور بیان قلم بند ہوا۔ڈاکٹر نیر نے بتایا کہ فرزانہ سلطان شریف آباد تھانہ کے وساطت سے میرے پاس لائی گئی تھی۔ابتدائی طبی معائنہ میں لکھا گیا ہے کہ اس کے جسم پر بظاہر تشدد کا کوئی نشان نہیں تھا۔بعد ازاں میں تفصلی معائنے اور ماہرانہ رائے کے لئے اس کو مذکورہ پروفیسر کے پاس بھیج دیا۔پروفیسر ڈاکٹر عائشہ خان نے طبی رپورٹ پیش کر تے ہوئے ٹریبونل کو بتایا کہ فرزانہ سلطان کے جسم کے کسی بھی حصے پر تشدد کا کوئی نشان نہیں تھا۔تا ہم مقام مخصو صہ پر( Old tears) کے معمولی نشانات تھے جو کہ کسی حد تک ٹھیک ہو چکے تھے۔اس کے سا تھ جسنی اختلاط کے شواہد ملتے ہیں تا ہم یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسے اجتماعی بے حرمتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اسکنگ اور پیشاب ٹیسٹ رپورٹوں سے حاملہ ہونا بھی ظاہر نہیں ہوتا۔دریں اناءفرزانہ سلطان کے سمن عدم تعمیل پر واپس آگئے۔شریف آباد تھانے کے انچارج اور تحقیقاتی افسر نے ٹریبونل کو بتایا کہ مدعی کے گھر پر تالا پڑا ہے وہ کسی نا معلوم مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٨٢ جون) ٭وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں بات اب دہشت گردی سے آگے بڑھ کر بغاوت تک پہنچ چکی ہے۔کیوں کہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ ہم علیحدہ صوبہ چاہتے ہیں۔اور اس سے بھی آگے جا سکتے ہیں۔ (جسارت۔٨٢ جون) کراچی میں تین روز کے دوران مجموعی طور پر ٧٥ گاڑیاں نذر آتش کی گئیں جن کی مجموعی مالیت ٣ کروڑ ٧٥ لاکھ روپے ہے۔ان گاڑیوں میں سب سے زیادہ تعداد منی بسوں کی ہے جو کہ ٣٣ ہے۔(٨٢ جون)وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی لندن میں فوری گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری کر رہی ہے اور اس سلسلے میں انٹر پول سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔کیو ں کہ ان کے خلاف مختلف عدالتوں میں فوجداری مقدمات زیر سماعت ہیں اور فوج کے ایک افسر کو غواءکرنے کے الزام میں وہ سزا یافتہ بھی ہیں۔وہ اسٹیٹ گیسٹ ہاو ¿س کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ انٹرپول کو وارنٹ گرفتاری بھجوائے جا رہے ہیں جن کے سا تھ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے کراچی میں ہڑتال کی اپیلوں اور تشدد کی کاروئیوں میں ان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی شہادتوں پر مبنی دستاویز بھی منسلک کی گئی ہیں۔علاوہ ازیں وزارت خارجہ بھی اس ضمن میں برطانوی وزارت کارجہ سے سفارتی سطح پر رابطہ قائم کر رہی ہے۔ (جنگ،DAWN۔٩٢ جون) ٭کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں ٧ سالہ بچی سمیت ٧ افراد جاں بحق اور ٦ زخی ہو گئے۔(جنگ۔٩٢ جون) ٭شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں ٥١ افراد جا ں بحق اور ٢١ زخمی ہو گئے۔جبکہ ٤١ گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔بوری میں بند لاشیں ملنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٠٣ جون) ٭ایم کیو ایم کے سینیٹر زاہد اختر نے خود ساختہ جلا وطن رہنماءالطاف حسین کو دہشت گردی کی کاروائی میں ملوث قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ الطاف حسین نے جون کے مہینے میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو،ان کے شوہر اور بچوں کو قتل کر نے کا منسوبہ بنایا تھا۔یہ انکشاف انہوں نے جمعرات کی شام پی آئی ڈی پریس روم اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔یہ کانفرنس اس سلسلے کی تیسری کانفرنس ہے۔جس میں اس سے قبل خالد تقی اور حشام الظفر بھی اقرار جرم کر چکے ہین۔سینیٹر زاہد اختر بھی باقی دونوں گواہوں کی طرح FIA کے اہلکاروں کے سا تھ پریس روم میں داخل ہوئے۔سینیٹر زاہد اختر جن ہا تھ اپنا لکھا ہوا بیان پڑھتے ہوئے واضح طور پر کانپ رہے تھے الطاف حسین یا کسی اور کا براہ راست نام لینے سے گریز کیا۔تا ہم صحا فیوں کی جانب سے الطاف حسین کا نام لینے پر انہوں نے اس کی تصدیق کی۔انہوں نے بیان میں کہا کہ وہ ٧٨ ءمیں ایم کیو ایم کی ٹکٹ پر کونسلر اور ١٩ءمیں سینیٹر منتخب ہوئے۔انہوں نے اپنا بیان پڑھ کر صحافیوں کو سناتے ہوئے کہا کہ میں نے سینیٹ کی نشست صاف ستھری سیاست کے لئے قبول کی تھی نہ کہ دہشت گردی کے لئے۔ایم کیو ایم کو چند عناصر نے یر غمال بنا لیا ہے۔میں نے ہمیشہ مہاجروں کی بحالی حقوق کے لئے کام کیالیکن جب میرے کانوں نے یہ سنا کہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو،آصف علی زرداری اور ان کے بچوں پر قاتلانہ حملہ کر کے ختم کرنا اور ان کے طارے کو تباہ کر نے کی اطلاع مجھ تک پہنچی تو میں خوف زدہ ہو گیا۔میرا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے ہے اور میں ہمیشہ سے سیاسی مسائل کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر تا رہا ہوں لیکن کراشی میں دہشت گردی اور قتل غارت گری سے متا ثر ہو رہا ہے۔صحافیوں کے اسرار اور الطاف حسین کا نام لیکر سوال کر نے پر سینیٹر زاہد اختر نے اقرار کر تے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کو قتل کرنے کے منصوبے میں الطاف حسین اور ان کے چند رفقاءشامل ہیں جو دہشت گردی کی دیگر بہت سی وارداتوں میں بھی ملوث ہیں۔انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ایم کیو ایم دہشت گرد تنظیم نہیں لیکن اسے چند عناصر نے یرغمال بنا رکھا ہے۔جو ملک کے اندر یا باہر سے دہشت گردی کروا رہے ہیں۔ (جسارت۔٠٣ جون) ٰ٭ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے مہاجر عوام کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ حکومت نے مہاجروں کی نسل کشی کا آغاز کر دیا ہے مہاجر فی الفور تمام احتیاطی تدابیر کر لیں تاکہ ان پر شب خون نہ مارا جاسکے۔ (جسارت،جنگ۔٠٣ جون) ٭وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ انٹرپول کے ذریعے الطاف حسین کی گرفتاری قانونی دائرے کے اندر ایک اقدام ہو گا۔الطاف حسین کی گرفتاری کے لئے حکومت پر اندرون ملک سے بے انتہا دباو ¿ ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا برطانیہ سے مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ نہ ہونے کے سبب پاکستان کی وزارت داخلہ اور پولیس نے انٹرپول کے ذریعے الطاف حسین کی گرفتاری کا فیسلہ کیا ہے۔اور جلد ہی اس کا طریقہ کار وضع کر لیا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ انٹرپول سے پاکستان کے رابطے کے مصداق انٹرپول کے حکام نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ الطاف حسین کی گرفتاری قانونی دائرے میں آتی ہے اور انٹرپول انہیں گرفتار کر نے کا اختیار رکھتی ہے۔دفتر خارجہ کے ترجامن نے بتایا کہ انٹرپول کے حکام کو الطاف حسین کی واپسی کے لئے ریڈ الرٹ نوٹس دے دیا ہے۔ (جسارت،جنگ۔٠٣ جون) ٭کراچی میں جمعہ کو نا معلوم افراد کی فائرنگ ،اغوائ،تشدد کر کے ہلاک کرکے لاشیں پھنکنے کا سلسلہ جاری رہا۔شہر بھر میں ٥١ افراد ہلاک اور ٠١ زخمی ہو گئے۔٢ سرکاری گا ڑیو ں سمیت ٤ گاڑیو ں کو نذر آتش کر دیا گیا۔سرکاری اسپتالوں میں لاشیں رکھنے کے لئے جگہ نہیں رہی۔ضلع وسطی زیادہ متا ثر رہا۔اورنگی میں دو مکانات کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔یکم جولائی) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ حکومت نے آئین اور قانون کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔زیر حراست قیدیوں کو ریڈیو یا ٹیلی ویژن پر پیش کرنا مسلہ بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔زیر حراست رہنماو ¿ں اور کارکنوں کو سرکاری ٹارچرسیلوں میں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور تشدد کے ذریعے ان سے جبری بیانات دولائے جا رہے ہیں۔ (جسارت،جنگ۔یکم جولائی) ٭امریکی انتظامیہ نے کراچی پر سرخ دائرہ لگا کر اسے اسے خطرناک شہر قرار دیتے ہوئے اپنے تمام با شندوں کو کراچی جانے سے منع کر دیا ہے۔دفتر خارجہ کے ایک افسر کے مطابق پاکستان کے امریکی سفارت خانے کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں جاری دہشت گردی آئندہ چند ہفتوں میں اضافہ ہونے کا شدید خدشہ ہے۔اس لئے پاکستان میں مقیم امریکی باشندوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ انتہائی محتاط رہیں اور کراچی کا رخ کر نے سے گریز کریں اور جنوبی ایشاءمیں سفر کر نے والے امریکی براستہ کراچی آنے جانے والی پر وازوں کے بجائے متبادل روٹ بنائیں۔کیوں کہ کراچی میں امن و امان بحال کر نے والے ادارے مکمل طور پر مفلوج ہو چکے ہیں۔ (جسارت۔یکم جولائی) ٭ایم کیو ایم کی جانب سے جمعہ اور ہفتہ کو احتجاج کی اپیل کے بعد جمعہ کو شہری زندگی معطل ہو کر رہ گئی۔دورزہ احتجاج کے پہلے روز کراچی میں جمعہ بازار نہیں لگ سکے،پیٹرول پمپ،ہو ٹل،گلیوں کی دکائیں اور ٹرانسپورٹ بند رہی۔تفریحی مقامات پر بھی سناٹا رہا۔جبکہ حیدر آباد اور لطیف آباد میں جمعرات کی شب شروع ہونے والی فائرنگ اور ہینڈ کریکر کے دھماکوں کا سلسلہ جمعہ کو بھی دن بھر جارہی رہا۔شرپسندوں کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی کی رہائش گاہ اور اور سٹی تھانے پر حملہ اور فائرنگ سمیت ٢١ مقامات پر ہینڈ کریکر سے دھماکے کئے گئے،٣١ مقامات پر شرپسندوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں اور مورچہ بند مقابلے ہوئے۔ (جنگ۔یکم جولائی) ٭ایم کیو ایم کی جانب سے منائے جانے والے سوگ کے دوسرے دن اورنگی ٹاو ¿ن کلاکوٹ،لیاقت آباد ،ناظم آباد،اور کورنگی کے علاقوں میں مسلح افراد اور قانون نافذ کر نے والے اداروں رینجرز اور پولیس کے درمیان زبر دست فائرنگ کے نتیجے میں ٩١ افراد جا ں بحق اور ٦٢ زخمی ہو گئے۔ شرپسندوں کی فائرنگ سے رینجرز کے کیپٹن سمیت ٣ اہلکار زخمی بھی ہوئے۔کلری تھانے کے ASIاور ایک اور شخص کو اغواءکر کے قتل کر کے ان کی لاشیں بوری میں بند کر کے پھینک دی گئیں۔اورنگی میں ریمجرز اور دہشت گر دوں کے درمیان مقابلے میں ٤ شہری ہلاک ہوئے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٢ جولائی) ٭ایس ایس پی غربی شاہد ندیم نے سعید آباد کے علاقے سے محمد ارشد کو گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے ایک ٹی ٹی پستول بر آمد کر لیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ملزم ایم کیو ایم الطاف گروپ کا دہشت گرد ہے۔جس نے متعدد افراد کو اغواءکر کے قتل کر نے کے بعد ان کی لاشیں بوری میں بند کر کے سڑکو ں پر پھینکنے کا اعتراف کیا ہے۔ (جسارت۔٢ جولائی) ٭کراچی میں کئی ہفتوں سے جاری قتل و غارت گری،فائرنگ و دہشت گردی کا سلسلہ آج بھی جاری رہا۔اورنگی کے مختلف علاقوں اور شاہ فیصل کالونی سمیت مختلف مقامات پر ٣١ افراد جا ں بحق اور ٦١ سے زائد زخمی ہو گئے۔صرف اورنگی میں رینجرز کے ایک حولدار،پولیس کے ایک سپاہی اور ایک خاتون سمیت ٨ افراد جا ں بحق ہوئے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٣ جولائی) ٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے عرب اور دنیا ئے اسلام کے دیگر ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کراچی میں مہاجروں کا مبینہ قتل عام بند کرانے کے لئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔وہ عربی زبان کے ایک اخبار کو انٹرویو دے رہے تھے۔انہو ں نے کہا کہ دہشت گردی میں ہمارا کوئی ہا تھ نہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں حکومت اس کی ایجنسیاں اور حقیقی کے دہشت گرد ملوث ہیں۔ (جسارت،جنگ۔٣ جولائی) ٭کراچی کے مختلف علاقوں میں جاری دہشت گردی ،قتل و غارت گری کے باعث ا ¿ج بھی ایک امام مسجد سمیت ٦ افراد جا ںبحق اور ٤ خواتین سمیت ٥١ سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔کلاکوٹ عثمان آباد کے علاقہ میں متحارب گروپوں نے مورچہ بندی کر رکھی ہے۔ (جسارت،جنگ،DAWN۔٤ جولائی)
|
|