powered_by.png, 1 kB
1992 part1 PDF Print E-mail

1992

 

٭ایم کیو ایم کے رہنماءالطاف حسین بدھ کی صبح اچانک جدہ چلے گئے جہاں وہ عمرہ بھی ادا کریں گے۔ان کے ساتھ وفاقی وزیر تعمیرات اور ورکس طارق محمود،رکن قومی اسمبلی سید محمد اسلم اور ایک کارکن محمد خلیل بھی گئے ہیں۔الطاف حسین ١٢ دسمبر ١٩٩١ ءکو لندن سے واپس آئے تھے۔

(جسارت،جنگ،٢ جنوری،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے فوج پر الزام لگایا تھا کہ وہ ایسی پالیسی پر عمل کر رہی ہے جس سے بقول ان کے پاکستان کے مزید ٹکڑے ہو جائیں گے۔انہوں نے فوج پر یہ الزام ٧٨٩١ءایک جلسہءعام سے خطاب کر تے ہوئے لگایا تھا۔اس جلسہ کی وڈیو فلم بطور ثبوت لاہور پریس کلب میں ایم کیو ایم حقیقی کے رہنماو
¿ں نے دکھائی۔بعد میں ایم کیو ایم حقیقی کے رہنماءآفاق احمد اور یونس خان نے مشتر کہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ الطاف حسین دانستہ طور پر ریاست اور فوج کے خلاف کام کر رہے ہیں اور فوج کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہاجر عوام کو ملک دشمنی کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔وہ دشمن جو پاکستان کے لئے مر مٹنے کے بیانات دیتا ہے وہ ملک دشمن سر گر میوں میں مصروف ہے۔اس کی ملک دشمنی کا ثبوت جی ایم سید کی سالگراہ میںشرکت ہے۔جہاں پاکستان کے نقشے کا بنا ہوا کیک پیش کیا گیا ۔اس تقریب میں جب اس کیک پر چھری پھیر کر سندھ کوپاکستان سے علیحدہ کیا گیا تو الطاف حسین نشست سے کھڑے ہو کر تا لیاں بجا بجا کر اس گھناو
¿نے عمل کی تائید کر تے رہے۔پھر اسی تقریب میں سندھو دیش کا قومی ترانہ بجا ئے جانے پر احترام سے کھڑے ہو کر الطاف حسین نے حب الوطنی کا لبادہ اتار دیا۔الطاف حسین نے جی ایم سید کی سالگراہ میں تقریر بھی کی اور جی ایم سید کو دعا دی کہ اللہ سائیں جی ایم سید کو اتنی عمر عطا فر مائے کہ وہ اپنے خواب کو زندگی میں پورا ہوتے ہوئے دیکھیں۔حقیقی کے رہنماو
¿ں نے پریس کلب میں صحا فیوں کو جی ایم سید کی سالگراہ کی تقریب میں الطاف حسین کی تقریر کی فلم بھی دکھائی۔آفاق احمد اور عامر خان نے کہا کہ وہ جو غریب طبقے سے ابھر نے والا لیڈر نظر آتا ہے وہ پڑوسی دشمن ملک کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے کام کر رہا ہے۔

(جسارت،٥ جنوری،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے بلدیہ حیدرآباد کے کونسلر عبدالعزیز مغل کو آج صبح دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔عبد العزیز مغل سابق کونسلر حاجی رشید کے بھائی تھے۔حاجی رشید میئر حیدرآباد آفتاب شیخ پر حملہ میں مارے گئے تھے۔

(جنگ،جسارت،DAWN،٨ جنوری،٢٩٩١)

 

٭وفاقی وزیر داخلہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ملک میں لسانی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر منا فرت پھیلا کر فساد کی آگ بھڑ کانے والوں کو سختی سے کچل دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں لسانی و فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث سماج دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھے ہوئی ہے اور اس سلسلے میں ان ملک دشمنوں کی پشت پناہی کر نے والوں کی فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں۔جس کے بعد حکومت چاروںصونوں میں خصو صاًکراچی و حید ر آباد میں لسانی و فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کر نے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹے گی اور اس میں ملوث کسی با اثر شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت یا فرقہ سے ہو۔

(جنگ،١١ جنوری،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف سازشوں کو سرکاری پشت پناہی حا صل ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کراچی میں وزیر اعظم کی صدارت میں سندھ کے انتظامی امور کے حوالے سے منعقد ہونے والے اہم اجلاس میں ایم کیو ایم کی صوبائی اور وفاقی سطح پر شریک حکومت ہونے کے با وجود نظر انداز کر نا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیر اعظم اب ایم کیو ایم کو شریک حکومت نہیں سمجھتے اور ان کے نزدیک ایم کیو ایم کی حیثیت ایک قابل اعتماد حلیف کی نہیں بلکہ عام سیاسی جماعت کی رہ گئی ہے۔وہ جدہ میں جدہ یونٹ کے کارکنان کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ حیدر آباد میں منتخب حق پرست کونسلر کا بہیمانہ قتل اور لانڈھی سیکٹر کے کارکن کا رینجرز کی جانب سے اغواءاس بات کا ثبوت ہے کہ ان سازشوں کو سرکاری پشت پناہی حا صل ہے۔ایم کیو ایم کے خلاف سازشوں کا وزیر اعظم نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ ہم پر الزامات لگانے والے یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔

(جسارت،جنگ،٧١ جنوری،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے چیئر مین عظیم احمد طارق نے کہا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کو ملکی نظام چلانے کا موقع ملا تو ٥ سال کے اندر پاکستان کو تمام شعبوں میں ترقی دیکر کوریا اور جاپان جیسا خود کفیل ،خوشحال اور خود کفیل ممالک کی صف میں لا کر کھڑا کر دیا جائے گا اور چالیس پچاس سال سے سرخ فیتے میں بندھے اور سرد خانے میں پڑے ہوئے قومی ترقی کے منصوبوں کو فائلوں سے نکال کر عملی شکل دی جائے گی تاکہ پچاس سال کا ترقی کا سفر ٥ سال میں مکمل کیا جا سکے۔

(جنگ،٨٢ جنوری،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پیر کی شام جدہ سے لندن پہنچ گئے۔

(جسارت،جنگ،DAWN،٩٢ جنوری،٢٩٩١)

 

٭الطا ف حسین علیحدگی پسند تنظیم سے مل کر سندھو دیش کے گھناو
¿نے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔سندھ کی صورتحال ملک توڑنے کے لئے بگاڑی گئی ہے۔یہ بات ایم کیو ایم حقیقی کے عامر خان،سردار خان اور نعیم اختر نے دبئی میں ایک مشتر کہ پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ آج سوبہ سندھ کے سیاسی حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں پاکستان کی ٤٤ سالہ تاریخ میں اس قدر بد ترین صورتحال کبھی رو نماءنہیں ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم الطاف گروپ بظاہر پاکستان سے محبت کا اعلان کر تا ہے لیکن عملی طور پر براہ راست پاکستان دشمنی میں پیش پیش ہے۔الطاف حسین نے ملکی سلامتی کے خلاف در پردہ سازشیں کر تے ہوئے پیرونی ممالک کے سفرا سے خفیہ ملا قاتیں کیں۔اس کے بعد الطاف حسین نے بلدیہ کراچی،قومی و صوبائی اسمبلی کے نمائندوں کا غلط استعمال شروع کر دیا۔ان کو اپنا اصل کردار دا کرنے کے بجائے اپنی ذاتی تشہیر کے لئے استعمال کر نا شروع کر دیا۔الطاف حسین نے کروڑوں روپیہ بیرون ملک منتقل کیا اور یہ رقم اس نے قربانی کی کھالوں،زکوٰة فطرہ اور دیگر ذرائع سے حا صل کی تھی۔اس رقم سے امریکہ میں ہوٹل او ر دیگر جائیدادیں خریدی گئیں اور اپنے خاندانوں کو بیرون ملک منتقل کیا۔اختلاف کرنے والے لوگوں کے گھر جلا ڈالے ۔گھروں میں موجود بوڑ ھوں پر بد ترین تشدد کیا گیا،خواتین کے ساتھ بے رحمانہ اور شرمناک سلوک کیا گیا اور نو جوانوں کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کر وادیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اب تک ٣٣ لا شیں بر آمد ہو چکی ہیں جبکہ درجنوں افراد کو اغواءکر کے بند رکھا ہوا ہے۔بد ترین ظلم یہ ہے کہ انہیں اجتمائی پھانسیاں دی جاتی ہیں اور چہروں اور جسموں سے کھال نوچ ڈالی جاتی ہے۔

(جسارت،٩٢ جنوری،٢٩٩١)

 

٭لانڈھی کورنگی سمیت کراچی ضلع شرقی کے مختلف علاقوں میں دہشت گر دوں نے آج بھی جسارت کے بنڈل لوٹ لئے اور اخباری ایجنٹوں اور ہا کروں کو ہراساں کیا۔انہوں نے جدید اسلحہ کے زور پر ایجنٹوں اور ہا کروں کو دھمکیاں دیں ۔واضح رہے کہ جسارت کے خلاف ایم کیو ایم کے کارکنوں کی تا زہ ترین مہم کا یہ دوسرا روز تھا۔

(جسارت،یکم فروری،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کو اندرونی و بیرونی مشکلات کا سامنا ہے اس موقع پر وزیر اعظم اپنے دوستوں کو اپنے سے دور کر رہے ہیں۔وہ جمعہ کی شام لندن سے عزیز آباد ٹیلی فون پر اپنے کارکنوں اور حامیوں سے خطاب کر رہے تھے۔الطاف حسین نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم نواز شریف کا ہر موقع پر ساتھ دیا ہے اور ان کی تمام پالیسیوں کی حما یت کی ہے لیکن ان کا نعض معاملات میں رویہ بدلہ ہوا نظر آتا ہے۔وزیر اعظم نے بعض معاملات میں ایم کیو ایم سے رابطہ نہیں کیا حالانکہ یہ معاملات ایم کیو ایم سے متعلق تھے۔انہوں نے کہا کہ٠ ایم کیو ایم آئی جے آئی کے ساتھ حکومت میں شامل ہے اس لئے ایم کیو ایم کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا وزیر اعظم نوٹس لیں اور سازشیں کر نے والوں کو بے نقاب کریں۔انہوں نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کریں۔ہماری خیر سگالی کے با وجود ایم کیو ایم کو ختم کر نے کے لئے سرکاری سرپرستی میں سازشیں کی جا رہی ہیں،سرکاری وسائل اور طاقت استعمال کی جا رہی ہے۔

(جسارت،جنگ،٨ فروری،٢٩٩١)

 

٭کراچی کے ضلع شرقی و سطی میں ایم کیو ایم نے جماعت اسلامی کے کارکنوں و متعلقین کو پھر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں اور لانڈھی کے دفتر پر ہلہ بول کر درس قرآن میں شریک افراد پر حملہ کر دیا ۔مسلح افراد ناظم علاقہ کو اغواءکر کے لے گئے۔

(جسارت،٨ فروری،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف جو پہلے پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے ایم کیو ایم کے خلاف سارے انسانیت سوز جرائم اور ازیت رسانی کا مشاہدہ کر چکے ہیں اور انہوں نے آئی جے آئی کی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد مجرموں کے خلاف موثر کاروائی کر نے کا وعدہ کیا تھا اور یہ بھی یقین دلایا تھا کہ آئندہ ایسے غیر انسانی جرائم کا اعادہ نہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے میاں نواز شریف سے دلی تعاون کیا تھا جو ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ہمیں وزیر اعظم سے توقع تھی کہ وہ ایم کیو ایم کے ساتھ کی گئی نا انصافیوں کا خاتمہ کر یں گے لیکن افسوس کی بات ہے کہ میاں نواز شریف کے وزیر اعظم بن جانے کے با وجود منتخب ارکان اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے خلاف انتقامی کاروائی کا تازہ ترین واقعہ کراچی میں پاکستان اسٹیل مل سے ایم کیو ایم کے ٦ ہزار کارکنوں کی برطرفی ہے۔وہ لندن بیڈن پاول حال میں ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔

(جسارت،١١ فروری،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہاکہ ہم نے وزیر اعظم نواز شریف کو اقتدار میں لانے کے لئے ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ۔وزیر اعظم نے حیدرآباد کے عوام کے لئے بڑے واعدے کئے تھے مگر وہ واعدے پورے نہیں کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ جب سے ہم نے متحدہ قومی موومنٹ کے قیام میں پیش رفت کی ہے ہمارے خلاف سازشیں تیز ہو گئی ہیں اور ان سازشوں میں سرکاری ایجنسیاں بھی شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہم سے بے وفائی نہ کریں،ہم سے بے وفائی کرنے والوں سے خدا نے حساب ضرور لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت عوام کو متحدہ کی تشکیل سے نہیں روک سکتی۔وہلندن سے ٹیلی فون کے ذریعے ایم کیو ایم حیدرآباد کے کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔

(جسارت،٥١ فروری،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم حقیقی کے مقامی رہنماءمنصور چاچا کے قریبی عزیز شجاعت علی جنہیں گزشتہ دنوں نا معلوم دہشت گردوں نے گرو مندر پر اندھا دھن فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا کے سوئم میں شرکت کے لئے آنے والے ایم کیو ایم حقیقی کے رہنماو
¿ں و کارکنوں پر فائرنگ کے باعث پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔فائرنگ کے دوران ایک دہشت گرد مارا گیا اور رینجرز کے ایک اہلکار اور ایک خاتون سمیت ٣ افراد زخمی ہوئے۔جبکہ ایم کیو ایم حقیقی کے رہنماءنعیم حشمت،منصور چاچا اور جعفر علی نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ الطاف گروپ کے دہشت گردوں نے سوئم کے دوران بھی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سال سے پورے شہر خصوصاً لائنز ایریا میں جو الطاف گروپ نے دہشت گردی ،قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے اس کا تازہ ترین شکار دو روز قبل ہمارے قریبی ساتھی شجاعت عرف نکے کا سفاکانہ قتل ہے۔

(جسارت،٦١ فروری،٢٩٩١)

 

٭بلدیہ کراچی کے کونسلر اور بلدیہ کراچی کی لینڈ کمیٹی کے چیئر مین نے الطاف حسین اور ان کے گروپ کی جانب سے قتل کی ناکام کو شش کے بعد ایم کیو ایم حقیقی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔کونسلر عابد حسین نے علیحدگی کے اسباب بیان کر تے ہوئے کہا کہ الطاف حسین اور سلیم شہزاد نے عامر خان اور ان کے حمایتیوں کے خاتمہ کے لئے مجھے بار بار استعمال کرنے کی کوششیں کیں ۔جب میں نے ان کے خلاف اقدام سے گریز کیا تو الطاف حسین مجھ سے شدید طور پر ناراض ہو گئے اور سلیم شہزاد نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں ۔سلیم شہزاد نے مجھے الطاف حسین کی رہائش گاہ پر طلب کیا جب میں وہاں پہنچا تو الطاف حسین کے مسلح دہشت گردوں نے مجھے اغواءکر لیا اور کئی روز تک مجھے ایک نا معلوم جگہ پر یر غمال بنایا گیا اور اس دوران مجھ پر بے پناہ تشدد کیا گیا ۔میرے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہفتہ کے روز مجھے وہاں سے بھاگ نکلنے کا موقع ملا ۔انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں دیگر علاقوں کے علاوہ لیاقت آباد بھی اس وقت الطاف گروپ کی غنڈہ گردی کی آماجگا بنا ہوا ہے۔مختلف علاقوں سے نوجوانوں کو اٹھا کر ٹارچر کیا جا تا ہے اور علیحدگی اختیار کر نے والوں کے دوستوں اور عزیز و اقرب سے روز گار چھینا جا رہا ہے۔

(جسارت،٢٢ فروری،٢٩٩١)

 

٭لیاقت آباد میں نا معلوم افراد کی فائرنگ سے انور اویس ہلاک ہو گیا۔علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انور اویس ایم کیو ایم حقیقی کا کارکن تھا۔

(جسارت،٢٢ فر وری،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے کارکنان نے آج سے فطرے و صدقات و دیگر خیرات کی جبری وصولی شروع کر دی ۔مختلف علاقوں سے آنے والی ٹیلی فونز کے ذریعے لوگوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے کارکنان نے ٹولیوں کی شکل میں گشت کر نا شروع کر دیا ہے اور وہ عوام کو اس بات کا پا بند بنانا چاہتے ہیں کہ کہ وہ عید الفطر کے مو قع پر فطرہ صدقات و دیگر خیرات ان کے ذیلی ادارے خدمت خلق کمیٹی کو دیں بصور دیگر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔اس ضمن میں بعض مقامات پر نا خوش گوار واقعات بھی پیش آئے۔

(جسارت،٤١ مارچ،٢٩٩١)

 

٭مہا جر قومی موومنٹ لیبر ڈویژن کے جوائنٹ آرگنائزر اور KDA ایمپلائز یونین CBA کے چیئر مین شہزاد مرزا کو آ ج دو پہر نا معلوم مو ٹر سائیکل سواروں نے اندھا دھن فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔وہ نماز جمعہ کے بعد لیا قت آباد نمبر ٠١ چوک پر واقع مسجد شہید سے واپس آرہے تھے۔انہیں ٦ گو لیا لگیں۔دریں اثناءایم کیو ایم حقیقی کے رہنماو
¿ں یونس خان ،جعفر علی خان اور نعیم اختر نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ شہزاد مرزا کا قتل بھی اس سلسلے کی کڑی ہے جس کے تحت الطاف حسین کے ساتھ اختلاف موت کی سزا کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ لیا قت آباد میں انور یونس کو بھی قتل کر دیا گیا تھا لیکن الطاف گروپ کے دہشت گروں کی پیاس بھجنے کا نام نہیں لیتی۔انہوں نے کہا کہ شہزاد مرزا کے قتل کے پیچھے بھی الطاف گروپ کے گھناو
¿نے سازشی عزائم ہیں۔

(جسارت،جنگ،DAWN،١٢ مارچ،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے چیئر مین عظیم احمد طارق نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف قاتلوں کو گرفتار نہیں کر سکتے تو حکو مت چھوڑ دیں۔پانی سر سے اونچا ہو تا جا رہا ہے۔ہمارے کارکنوں کا قتل عام ملک کو آگ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔جبکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ شہزاد مرزا کے قتل میں سرکاری ایجنسیوں کے نعض عناصر کا ہا تھ ہے۔

(جسارت،جنگ،DAWN،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم حقیقی کے رہنماءنعیم حشمت،رکن صوبائی اسمبلی یونس خان اور سردار خان نے اپنے مشترکہ بیان میں ایم کیو ایم حقیقی کے سینکڑوں کارکنان کی گرفتاری کی پر زور مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت سندھ اپنے دہشت گرد حلیف کو خوش کر نے کے لئے الطاف حسین کے مخالفین کو گرفتار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ الطاف کا ماضی گواہ ہے کہ وہ اس ملک کا سب سے بڑا بلیک میلر ہے۔اسے ملک و قوم سے کوئی محبت نہیں وہ صرف اور صرف اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔

(جسارت،٧٢ مارچ،٢٩٩١)

 

٭ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج ڈسٹرکٹ سینٹرل محمود الحسن نقوی نے ایم کیو ایم کے متعدد کونسلروں،سیکٹر اور یونٹ انچارجز اور کئی کارکنوں کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔عدالت نے ایس ایس پی لیگل برانچ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان وارنٹوں کی تعمیل کو یقیقنی بناتے ہوئے ملزمان کو ١١ اپریل ٢٩٩١ءکو عدالت میں پیش کریں۔ملزمان کے خلاف قتل،اقدام قتل،ہنگامہ و بلوہ کرنے اور پولیس مقابلہ وغیرہ کے الزام میں مقدمات درج ہیں۔استغاثے کے مطابق ٧ فروری ٠٩٩١ءکو مدعی سب انسپیکٹر سید واجد حسین شاہ نے رپورٹ درج کرائی تھی کہ وقوعہ کے روز ایم کیو ایم کی طرف سے ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔پولیس پارٹی کے ہمراہ میں لیا قت آباد کے علاقے میں گشت کر رہا تھا کہ لیا قت آباد سپر مارکیٹ کے قریب ایم کیو ایم کے کونسلروں عابد شریف،عابد حسین،حفیظ الرحمٰن اور دیگر جمیل فاروقی ،سید طارق علی،سلیم عرف انقلابی،عرفان،جاوید اختر صدیقی،یونس منصوری،سردار احمد ،سعادت اللہ،جاوید اور شمس مینائی سمیت ٠٠٢ افراد جدید اسلحہ سے لیس تھے۔انہوں نے سڑکوں پر رکا وٹیں کھڑی کر کے توڑ پھوڑ،جلاو
¿ گھیراو
¿ اور فائرنگ شروع کر دی ۔ان کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار محمد رمضان ہلاک بھی ہوا۔ بعد میں پولیس کی جوابی فائرنگ پر ملزمان فرار ہو گئے۔فاضل عدالت نے ایک دوسرے مقدمے میں ایم کیو ایم کے کونسلر خا لد انجم اور دیگر ملزمان اشرف اصغر،محمد اسلم،شکیل،سلیم،صابر،ظفر،عتیق اور عطا کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر تے ہوئے مفرور قرار دے دیا۔فاضل عدلات نے CIA کے ایس ایس پی کو ہدات بھی کی کہ وہ وارنٹ کی تعمیل کو یقیقنی بنائیں۔ملزمان کے خلاف ٩٢ مئی ٠٩٩١ءکو ڈاکٹر غلام نبی نے نیو کراچی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرائی تھی جس کے مطابق مدعی اپنے مکان کی بالائی منزل پر رہائش پذیر ہے اور مکان کے نچلے حصے میں کرائے دار رہتے ہیں۔وقوعہ کے روز مذکورہ ملزمان نے مدعی کے گھر کا محاصرہ کر کے فائرنگ شروع کر دی،کرائے دار شیر محمد کو ایک گولی لگی بعد میں ملزمان نے مدعی کے گھر کے سامان اور موٹر سائیکل کو آگ لگا دی۔یہ تمام کاروائیاں مدعی کی نظروں کے سامنے ہوئی تھیں۔

(جسارت،٩٢ مارچ،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے ارکا ن سندھ اسمبلی نے کہا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کے خلاف سازشوں کو نے نقاب نہیں کیا گیا تو وہ مستعفی ہونے سے نہیں ہچکچائیں گے۔آج ایم پی اے ہاسٹل عزیز آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ ایم کیو ایم کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کریں ورنہ ایم کیو ایم کی مرکزی کمیٹی کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا کہ وہ موجودہ حکومت سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے۔انہوں نے کہا کہ صدر غلام اسحٰق اور وزیر اعظم نواز شریف ایم کیو ایم جو اس مخلوط حکومت کی پارٹنرہے کے مطالبات پر ترجیحی بنیاد پر غور کریں۔اگر وزیر اعظم نا گزیر وجہ سے شہزاد مرزا کے قاتلوں کو بے نقاب نہیں کر سکتے تو اقتدار چھوڑ کر ہم سے آملنا چاہئے۔انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کے با وجود حکومت نے ایم کیو ایم کے منتخب نمائندوں اور کارکنوں کے خلاف قتل،اغواءاور مظالم کے خاتمہ کے لئے مثبت اقدامات نہیں کئے۔

(جنگ،جسارت،DAWN،٠٣ مارچ،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ عوام یہ فیصلہ کریں کہ ایم کیو ایم کو حکومت کے ساتھ رہنا چاہیے یا اس سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے۔وہ آج شام دستگیر کالونی میں ایک اجتماع سے ٹیلی فون پر لندن سے براہ راست خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے حقائق عوام کے سامنے رکھ دیئے ہیں کہ ایم کیو ایم حکومت میں شریک کار ہونے کے با وجود اس کے آدمیوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کارکنوں کا قتل منظم سازش ہے،اس کے پیچھے سرکاری ایجنسیوں کے اہلکار مو جود ہیں۔

(جسارت،جنگ،DAWN،١٣ مارچ،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ میں حق پرستی کی جدو جہد سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم سے ملک بھر کے سندھیوں،پنجا بیوں،پختونوں اور بلوچوں نے ایم کیو ایم کو متحدہ قومی موومنٹ بنا کر پورے ملک میں پھیلانے کے لئے رابطہ کیا ہے۔الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم کو کچلنے کی سازشیں سرکاری ایجنسیوں کے اہلکار کر رہے ہیں۔وہ پی آئی بی کے کارکنوں سے فون پر خطاب کر رہے تھے۔

(جنگ،٣ اپریل،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے تمام باطل پرست قوتوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کو بزور طاقت کچلنے یا ختم کرنے کا خناس اپنے ذہنوں سے نکال دیں۔ایم کیو ایم کے خلاف سازشیں بند کر دیں۔انہوں نے کہا ایم کیو ایم حق پرستی کی تحریک ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول کی تائید و نصرت حاصل ہے۔ اس لئے یہ تحریک قائم و دائم رہے گی اور اس کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو ہر محاذ پر شکست فاش ہو گی۔

(جنگ،٥ اپریل،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے وزیر اعظم نواز شریف سے کہا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کی دوستی کا جواب دوستی سے دیں اور دوستوں سے سیاست نہ کی جائے۔انہوں نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ صاف ساف بتائیں کے ہمارے شہیدوں کے قاتل کیوں گرفتار نہیں ہوئے اور اگر مجرموں کو سزا دینا اور مظلوموں کو انصاف فراہم کر نا وزیر اعظم کے ہاتھ میں نہیں ہے تو وہ حکومت میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت نہیں کر سکتے لہٰذا وہ ایسی صورت میں اقتدار چھوڑ کر عوام میں آجائیں۔

(جنگ،DAWN،٠١ اپریل،٢٩٩١)

 


¿٭ایم کیو ایم کے مرکزی آفس کی آفس کمیٹی کے رکن رفیع دانش پیر کو مسلح دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہو گئے۔اس وقت وہ عباسی شہید اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

(جنگ،DAWN،٨٢ اپریل،٢٩٩١)

 

 

٭ایم کیو ایم برنس روڈ سیکٹر کی معاون کمیٹی کے رکن تاج الدین کو KMC کے آٹرائے آفس میں جہاں وہ ملازم ہیں۔بعض افراد نے آکر فائرنگ کی جس سے انہیں دو گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہو گئے۔جبکہ ڈاکٹر عمران فاروق نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کے قتل اور پر تشدد کاروائیوں کا فوری نوٹس لیں۔

(جنگ،٠٣ اپریل،٢٩٩١)

 

٭کورنگی بی ایریا میں جماعت اسلامی ضلع شرقی کے اجتماع پر ایم کیو ایم کے دہشت گردوں نے حملہ کر کے ٨ موٹر سائیکلوں،٢ سوزوکی وین اور ایک کار کو جلا دیا۔گھر پر اندھا دھن فائرنگ کی گئی۔مختلف علاقوں پر بھی جماعت کے کارکنوں پر فائرنگ کی گئی۔

(جسارت،٥ مئی،٢٩٩١)

 

٭جدید ہتھیاروں سے لیس نا معلوم افراد نے سول اسپتال حیدرآباد کے وی آئی پی وارڈ میں اندھ دھن فائرنگ کر کے ٦ افراد کو ہلاک اور ایک درجن سے زائد افراد کو زخمی کر دیا۔پولیس ،رینجرز اور دیگر فورسز سے اسپتال کا محاصرہ کر لیا۔جبکہ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔شہر میں سخت کشید گی پائی جاتی ہے۔راک گئے تک فائرنگ جا ری تھی۔

(جنگ،DAWN،٠١ مئی،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ سرکاری ایجنسیاں ایم کیو ایم کے خلاف سازشیں بند کر دیں۔ہم کسی صورت میں حق پرستی کا راستہ نہیں چھوڑیں گے۔ایم کیو ایم کو تباہ کر نے کا خیال ذہن سے نکال دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو خدا کی تائید و نصرت حاصل ہے۔جو ہمیں ختم کرنے کی کو ششیں کر تیں ہیں ان پر قہر خدا وندی نا زل ہو گا اور وہ خود نیس و نا بود ہو جائیں گے۔

(جنگ،٢١ مئی،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ حق پرست جماعت کو وزیر اعظم نواز شریف نظر انداز نہ کریں۔اپنے دوستوں اور دشمنوں کو پہچانیں اور اپنے مخلص حلیفوں اور چال باز سیاستدانوں میں تمیز کریں اور دغا بازوں کی چاپلوسی نہ کریں۔وہ کورنگی میں لندن سے کارکنوں سے فون پر خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ جو سرکاری ایجنسیاں ایم کیو ایم کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں ان سازشوں کو ختم کرایا جائے۔

(جسارت،جنگ،DAWN،٦١ مئی،٢٩٩١)

 

٭کلاشن کوف سے مسلح ٣ موٹر سائیکلوں پر سوار دہشت گردوں نے میمن اسپتال حیدرآباد کے قریب اندھا دھن فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ٧ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ٥ افراد گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گئے۔

(جنگ،DAWN،٩١ مئی،٢٩٩١)

 

٭ملیر میں ایک نو جوان کو اغواءکر کے ہلاک کر دیا گیا۔مقتول پر ایم کیو ایم سے منحرف ہونے کا الزام تھا۔مقتول کی آنکھ اور پیٹ میں چار گولیاں ماری گئی تھیں۔علاقے کے لوگوں کے مطابق اغواءکر نے والوں نے اسلحہ کی نمائش کر تے ہوئے نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔علاقہ میں مسلح افراد اب بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔جبکہ پولیس نے کاروائی سے معذوری ظاہر کر دی ہے۔

(جسارت،DAWN،١٢ مئی،٢٩٩١)

 

٭سندھ میں داکوو
¿ں اور دہشت گردوں کے خلاف بھر پور کاروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔فوج اور رینجرز نے گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔سنگین مقدمات میں ملوث اور بدنام افراد روپوش ہو گئے۔عوامی حلقوں نے آپریشن کا خیر مقدم کیا ہے۔

(جسارت،٣٢ مئی،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے وزیر اعظم نواز شریف پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ میں فوجی آپریشن سے متعلق قومی اسمبلی کو اعتماد میں لیں کیوں کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے سندھ میں فوجی آپریشن سے متعلق بیانات میں تضاد ہے جس کی وجہ سے شکوک و سبہات پیدا ہو رہے ہیں ۔اگر وزیر اعظم نے قومی اسمبلی کو اعتماد میں نہ لیا اور سندھ میں فوجی آپریشن کے نتیجہ میں نقصانات ہوئے تو اس کے ذمہ دار نواز شریف ہوں گے۔جنہیں خدا اور عوام کے سامنے جواب دہ ہونا ہو گا۔وہ آج لندن سے ٹیلی فون پر ارکان قومی و صوبائی اسمبلی،سینیٹرز اور کونسلرز کے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔

(جسارت،جنگ،DAWN،٣٢ مئی،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے منگل کو لندن کے مہنگے ترین علاقہ" مل ہل" میں منتقل ہو گئے۔ذرائع کے مطابق مل ہل کا یہ بنگلہ بہت بڑی رقم سے خریدا گیا ہے۔اس میں کئی لائینوں کے ٹیلی فون اور فیکس نظام نے کان کر نا شروع کر دیا ہے۔ایم کیو ایم کے قائد اس بنگلہ سے اپنے عقیدت مندوں سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے پاکستان اور کئی دوسرے ممالک میں خطاب کریںگے۔الطاف ھسین نے اپنے بنگلہ میں ٠٢ سے ٢٢ محافظوں کو بھی تعینات کیا ہے۔

(جسارت،٣٢ مئی،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ سندھ میں اغوائ، ڈکیتی کے مجرموں کے خلاف آپریشن کی ضرورت کا پیش آنا سرکاری ایجنسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے ۔کیوں کہ اگر یہ ملک اور عوام کی سالمتی کے امور سے غفلت نہ کر تیں تو حالات اس نوبت کو نہیں پہنچ سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ قومی خزانے سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملکی سلامتی کے لئے سرکاری ایجنسیوں پر اربوں روپے خرچ کر تی ہیں۔لیکن حیرت کی بات ہے کہ جس ملک میں اتنی ایجنسیاں کام کر تی ہوں وہاں منشیات اور اسلحہ دوسرے ملکوں سے آزادی کے ساتھ پہنچے اور مختلف سوبوں اور شہروں میں منتقل ہو جائے،دہشت گرد اور جائم پیشہ افراد منظم انداذ میں کاروائیں کریں اور کوئی ان کا پوچھنے والا نہ ہو ۔انہوں نے کہا کہ منشیات اور اسلحہ کے اسمگلروں اور بیو پاریوں کو عوام جانتے ہیں تو تمام تر وسائل سے مالا مال یہ سرکاری ایجنسیاں ان تک کیوں نہیں پہنچتیں اور یہ کاروبار کیوں پھیلتا جا رہا ہے؟الطاف حسین نے کہا کہ غیر جمہوری باطل پرست استحصالی قوتیں جان بوجھ کر امن و امان کا مسئلہ پیدا کر تی رہی ہیں اور انہوں نے یہاں مہاجروں،پنجابیوں،بلوچوں،سندھیوں اور پختونوں کو آپس میں لڑا کر غیر جمہوری سازشیں کیں۔

(جنگ،DAWN،٤٢ مئی،٢٩٩١)

 

٭وزیر اعظم نواز شریف نے لند ن میں مختصر قیام کے دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے اہم ملاقات کی یہ ملاقات پاکستانی ہائی کمیشن میں ہوئی۔با خبر ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو سندھ میں مجرموں کے خلاف آپریشن کے بارے میں اعتماد میں لیا۔

(جنگ،جسارت،DAWN،٦٢ مئی،٢٩٩١)

 

 ٭قومی اسمبلی میں سندھ کی سورتحال پر بحث کر تے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ اندورن سندھ جئے سندھ اور شہروں میں ایم کیو ایم دہشت پسند سر گرمیوں میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی اور ایم کیو ایم کا معاہدہ ٹوٹنے کی وجہ یہ تھی کہ ایم کیو ایم نے اپنے دہشت گر دوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

جبکہ ایم کیو ایم کے رکن سلیم شہزاد نے کہا ہے کہ دہشت گرد ایم کیو ایم نہیں بلکہ پیپلز پارٹی ہے۔

(جنگ،DAWN،٧٢ مئی،٢٩٩١)

 

٭سندھ میں فوجی آپریشن کے سلسلے میں سماج دشمن عناصر کے خلاف کاروائیوں کو مربوط کر نے کے لئے قانون نا فذ کر نے والے اداروں نے اپنی سر گرمیاں تیز کر دی ہیں۔٤٨٩١ءسے اب تک کی تمام FIRکھول دی گئی ہیں اور ان تمام ملزمان کی حتمی فہرسیں مرتب کی جا رہی ہیں جنہیںقتل، ڈکیتی،دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت گرفتار کیا جانا تھا لیکن کسی وجہ سے گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔خفیہ ایجنسیوں کو فہرستیں مہیا کر کے تاکید کی گئی ہے کہ وہ ملک کے کونے کونے میں چھاپے مار کر ان ملزمان کو فی الفور گرفتار کریں۔معلوم ہوا ہے کہ ان افسران کو ان ملزمان کی فہرستیں بھی مہیا کر دی گئی ہیں۔

(جسارت،١٣ مئی،٢٩٩١)

 

٭کراچی میں رینجرز کے اہلکاروں نے APMSO کے سیکریٹری جنرل شہود ہاشمی سمیت نصف درجن کارکنوں کو حراست میں لیکر ان کے قبضہ سے جدید اسلحہ بر آمد کر لیا جس میں ٣ کلاشن کوف بھی شامل ہیں۔زیر حراست افراد سے ایک کار بھی بر آمد ہوئی جس پر سرکاری نمبر پلیٹ لگی ہوئی ہے ۔یہ کار مختلف وارداتوں میں بھی مبینہ طور پر ملوث بتائی جاتی ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ذرائع کے مطابق ان افراد کو آج تھانہ سائٹ کے علاقہ میں واقع گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سے گرفتار کیا گیا۔نمائندہ اسلام آبا د کے مطابق ایم کیو ایم کے ارکان قومی اسمبلی نے آج کراچی میں فوج کے ہاتھوں APMSO کے سیکریٹری جنرل شہود ہاشمی کی گرفتاری پر ایوان سے واک آو
¿ٹ کر دیا۔

(جسارت،جنگ،DAWN،یکم جون،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے APMSO کے مرکزی رہنماءشہود ہاشمی اور پولیس یونیفارم میں ملبوس پولیس گارڈ کی گرفتاری پر وزیر اعظم نواز شریف سے شدید احتجاج کیا ہے۔الطاف حسین نے ان گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔اور کہا ہے کہ ہم آپریشن کے مخالف نہیں۔

(جنگ،جسارت،DAWN،٢ جون،٢٩٩١)

 

٭با خبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اعلیٰ پولیس حکام نے APMSO کے سیکریٹری جنرل شہود ہاشمی اور ان کے ساتھیوں کو پولیس گارڈ فراہم کرنے کے سلسلے میں ایس ایس پی کراچی ضلع وسطی سے وضاحت طلب کر لی ہے۔با خبر ذرائع کے مطابق پولیس نے بعض با اثر افراد کے دباو
¿ میں آکر اسی طرح متعدد افراد کو پولیس گارڈ فراہم کئے ہوئے ہیں اگرچہ وہ پولیس گارڈ رکھنے کا استحقاق بھی نہیں رکھتے۔

(جسارت،٢ جون،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے ڈاکوو
¿ں اور دہشت گردوں کے خلاف شروع کئے جانے والے آپریشن کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔یہ نات انہوں نے ڈان کو ایک فیکس کے ذریعے کہی۔

(DAWN،٣ جون،٢٩٩١)

 

٭کراچی میں بدھ کو رات گئے کھارا در بازار میں مسجد کے قریب دستی بم سے دھماکے کئے گئے اور فائرنگ کی گئی۔ دہشت گردی کی اس واردات میں ٢ جو جوان جاں بحق اور ٥١ سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

(جنگ،DAWN،٤ مئی،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے رہنماءآفاق احمد نے کہا ہے کہ اگر لاطف حسین اور سلیم شہزاد کو ایم کیو ایم سے نکال دیا جائے تو ہم دوبارہ ایک کارکن کی حیثیت سے تنظیم میں کام شروع کر دیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قربانی کی کھالوں سے الطاف حسین لندن میں عیاشیا ں کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ بات آج نمائندہ جسارت سے خصوصی انٹرویوں میں کہی۔انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے ہمیشہ اپنے مفادات کے لئے تصادم کا راتہ اختیار کیا۔ماضی میں ہونے والے جھگڑوں کے ذمہ دار الطاف حسین ہیں جن کی وجہ سے کئی ماو
¿ں کے بیٹے ان سے علیھدہ ہو گئے۔وہ ملک دشمن عناصر کے اشاروں پر ہانگ کانگ پلان پر کام کر رہے ہیں۔وہ کراچی کو ملک سے علیحدہ کر نا چاہتے ہیں اور اس کے لئے وہ مغربی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سلیم شہزاد اور بعض دوسرے وزراءکو رنگی سے بھتہ وصول کر تے ہیں جس کی وجہ سے متعدد صنعتیں دوسرے صوبوں میں منتقل ہو رہی ہیں۔

(جسارت،٥ جون،٢٩٩١)

 

٭نارتھ ناظم آباد میں ناگن چورنگی کے قریب موٹر سائیکل پر سوار ٢ نا معلوم افراد کی جانب سے پھینکے جانے والے بم کے نتیجہ میں ٧٢ افراد زخمی ہو گئے۔بم جامع مسجد اکبر کے باہر پھینکا گیا جس سے نماز ادا کر کے نکلنے والے نمازی اس کا شکار ہو گئے۔زخمیوں میں ٥ کمسن بچے بھی شامل ہیں۔

(جنگ،DAWN،٦ جون،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے چیئر مین عظیم احمد طارق نے حق پرس پنجا بیوں،سندھیوں،بلوچوں اور پٹھانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کے پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ایک متوسط طبقہ کی جماعت ہے اور اس کی قیادت بھی متوسط طبقہ سے ہے جو غریبوں کی پریشانیوں سے بخوبی واقف ہے۔انہوں نے یہ بات عزیز آباد میں ٠٥ رکنی سندھی اور بلوچی افراد کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

(جسارت،جنگ۔٠١ جون،٢٩٩١)

 

٭بتایا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین لندن کے مہنگے ترین علاقہ میں قیام پذیر ہیں جہاں مکانات کا کرایا ہزاروں پونڈ میں ہے۔لندن میں بھی الطاف حسین کے حفاظتی انتظامات کا وہی عالم ہے۔ان کے لئے سیکیورٹی کارڈ ایک مقامی نجی فرم سے حاصل کئے گئے ہیں جن کی روزانہ ادائیگی ٦ ہزار پونڈ ہے۔الطاف حسین کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ابی الطاف حسین واپس پاکستان جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

(جسارت،٦١ جون،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم الطاف گروپ اور ایم کیو ایم حقیقی کے درمیان تصادم کے نتیجہ میں ٨ افراد جاں بحق اور ٥٣ زخمی ہو گئے۔ضلع شرقی کے ٦ تھانوں اور ضلع وسطی کے ایک تھانے میں کرفیو لگا دیا گیا۔رینجرز اور پولیس کے دستوں نے گشت شروع کر دیا۔تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم حقیقی کے کارکنوں نے صبح سویرے ہی کئی علاقوں میں لاطاف گروپ کے دفاتر پر قبضہ کر لیا۔الطاف حسین کی تصاویر اتار کر ان کے خلاف بینرز لگا دیئے ۔قبضہ کے دوران دو طرفہ فائرنگ سے ٨ افراد ہلاک اور ٥٣ زخمی ہو گئے۔کئی افراد کو اغواءکر لیا گیا۔کئی دفاتر سے ایم کیو ایم کے کارکن فرار ہو گئے۔لیاقت آباد نمبر ٤ میں بھی حقیقی کے کارکنوں نے مقامی دفاتر پر قبضہ کر لیا اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تصویر جوتوں کے ہار ڈال کر لیاقت آباد نمبر ٠١ کے قریب رکھ دی گئی۔

(جنگ،جسارت،DAWN،٠٢ جون،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت آج سارا دن شہر سے غائب رہی اور کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ایم کیو ایم کے چیئر مین عظیم احمد طارق اور دیگر رہنماو
¿ ں سے کارکنان اخبارات نے رابطہ کر نے کی کوشش کی لیکن مایوسی کا سامنا کر نا پڑا۔جبکہ عزیز آباد میں ٹیلی فون پر بھی مرکزی قیادت کے بارے میں کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔میئر کراچی ڈاکٹر عمران فاروق سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن ان سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہوا۔سلیم شہزاد کے ساتھ ملیر سے صوبائی اسمبلی کے رکن اعجاز احمد بھی غائب ہیں۔

(جسارت،٠٢ جون،٢٩٩١)

 

٭قانون نافذ کرنے والے ادارے کے متحرک ہوتے ہی ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت فرار ہوگی۔فوج نے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات سے کاروائی شروع کر کے ٠٥ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔شہر کے مختلف مقامات پر قائم کئے گئے درجنوں عقوبت خانوں کا سفایا کر کے ان میں سے بعض میں موجود ایسے متعدد افراد کو بھی بازیاب کرایا گیا جن پر تشدد کیا جا رہا تھا۔عقوبت خانوں سے ایزا رسانی کے آلات بھی بر آمد ہوئے ہیں۔ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت میں سے بعض نے ٹیلی فون پر فوجی حکام سے رابطہ کر کے رضاکارانہ گرفتاری کی درخواست کی ہے۔فوجی کاروائی پر عوام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ فوج کے اہلکاروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں واقع ایم کیو ایم کے اہم دفاتر سمیت عزیز آباد میں واقع ایم کیو ایم مرکز کو بھی گھیرے میں لے لیا ہے جو خالی تھا۔جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں لگائے جانے والے آہنی دروازے کھول دیئے گئے ہیں۔گرفتار ہونے والوں میں ٣ درجن سے زائد ایم کیو ایم کے کارکنان شامل ہیں۔

(جسارت،DAWN،١٢ جون،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم حقیقی کے رہنماءمنصور چاچا نے کہا ہے کہ لائنز ایریا ایم کیو ایم کا دل تھالیکن الطاف گروپ نے ظلم و تشدد کر کے یہاں کے عوام جینا مشکل کر دیا تھا۔لائنز ایریا میں مہاجر جیل میں ٥٤ افراد کو الطاف حسین کے کہنے پر پھانسیاں دی گئیں ۔ان تمام افراد کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے الطاف حسین کے سیاہ کارناموں میں ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔یہ بات انہوں نے لائنز ایریا میں مہاجر جیل میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ مہاجر جیل کا انچارج جاوید لنگڑا تھا جس پر ٠٤ سے زائد مقدمات درج ہیں۔لیکن آج تک پولیس نے اس پر ہاتھ نہیں ڈالا کیاں کہ یہ الطاف حسین کا قریبی ساتھی تھا۔گزشتہ تین ماہ سے الطاف گروپ لائنز ایریا سے چندہ وصول کر رہا تھا کہ ہمیں اسلحہ لانا ہے۔اس لئے زیادہ سے زیادہ چندہ دیا جائے۔الطاف حسین گروپ نے فوج سے لڑنے کے لئے ٦٦ لاکھ روپے لائنز ایریا کے عوام سے وصول کئے۔منصور چاچا نے صحافیوں کو مہاجر جیل کے وہ حصے بھی دکھائے جہاں پھانسی گھاٹ بنا ہوا تھا اور بجلی کے شاٹ لگانے کی کرسیاں اور تشدد کے دیگر آلات بھی موجود تھے۔وہاں سے کلاشن کوف کی تقریباً ٠٤ ہزار گولیاں بھی بر آمد ہوئیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے ٢٣ کلاشن کوف بھی برآمد کر کے قانون نافذ کرنے والے لولوں کو دی ہیں اور ٥٢ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو بھی پکڑ کر رینجرز کے حوالے کیا ہے۔

(جسارت،١٢ جون،٢٩٩١)

 

٭قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے آج دوپہر ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو عزیز آباد ،مرکزی دفتر الکرم اسکوائر،لیبر ونگ کا دفتر اور APMSO کے دفتر کی تلاشی لی۔الکرم اسکوائر کے فلیٹوں کی تلاشی کے دوران وہاں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا۔فوجی کاروائی سے قبل الکرم اسکوائر میں دونوں گروپوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجہ میں ایک نو جوان جاں بحق اور ٥ افراد زخمی ہوئے۔

(جسارت،DAWN،٢٢ جون،٢٩٩١)

 

٭قانون نافذ کرنے والے ادارے کے نو جوانوں نے آج دن بھر کاروائی کے نتیجہ میں شہر کے مختلف علاقوں میں قائم ٧١ عقوبت خانوں کا صفایا کر دیا۔ذمہ دار سرکاری ذرائع نے بتایا کہ لانڈھی،ملیر ،جیک لائنز کے علاقوں سے ٠٦ سے زائد دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا۔جن کے قبضے اور نشاندہی پر بھاری مقدار میں جدید اسلحہ بر آمد کیا گیا۔بر آمد شدہ اسلحہ میں ١٢ کلاشنکوف،٨ سیون ایم ایم رائفل،٢ ایم ون(جدید ترین) رائفل،٢١ اسٹین گن،٣ بارہ بور شارٹ گن،٠٢ ٹی ٹی پستول،ایک کاربائن،٢ ماو
¿زر اور پوائنٹ ٢٣ کے دو پستول شامل ہیں۔

(جنگ،DAWN ،جسارت،٢٢ جون،٢٩٩١)

 

٭مہران رینجرز نے آج صبح ایم کیو ایم الطاف گروپ کی درخواست پر عزیز آباد میں واقع مرکز( نائن زیرو) کو اپنی حفاظت میں لے لیا۔آئی ایس پی آر(ISPR) کی جانب سے آج صحافیوں کو عزیز آباد میں الطاف حسین کی رہائش گاہ (نائن زیرو)،الکرم اسکوائر(٩٨) اورلائنز ایریا میں ایم کیو ایم کے ٹارچر سیل کا دورہ کرایا گیا۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ نائن زیرو کے اطراف ٢ ٹارچر سیلوں کی موجود گی کا پتہ چلا ہے۔برگیڈیئر ہارون نے بتایا کہ اب بھی متحارب گروپوں میں فائرنگ جاری ہے۔الکرم اسکوائر میں آہنی دروازے کھول کر فوج کی بھاری تعداد کو وہا ں تعینات کر دیا گیا ہے۔جبکہ عزیز آباد میں ایسے ٠٢ آہنی دروازے تھے جنہیںکھول دیا گیا ہے۔

(جسارت۔٢٢ جون،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کے ارکان قومی اسمبلی وسیم احمد اور ریحان عمر فاروقی نے ایم کیو ایم حقیقی کے رہنماءآفاق احمد اور عامر خان کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ الطاف حسین کی ذاتی انا کی وجہ سے ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ہم الطاف حسین سے اپنی علیحدگی کا اعلان کر رہے ہیں۔

(جسارت۔٢٢ جون،٢٩٩١)

 

٭لائنز ایریا میں ایم کیو ایم کے منحرفین نے جمعہ کے روز مسلح تصادم کے بعدعرصہ دراز سے بند تمام آہنی دروازے کھول دیئے ہیں۔پاکستان رینجرز کے لیفٹینٹ کرنل صفدر نے بتایا کہ ان آہنی دروازوں کی آڑ میں ایم کیو ایم کے ارکان اپنے مخالفین پر تشدد کیا کر تے تھے۔لائنز ایریا میں قائم ایک بہت بڑا عقوبت خانہ بھی گزشتہ روز ختم کیا جا چکا ہے۔

(جسارت،DAWN۔٢٢ جون،٢٩٩١)

 

٭معلوم ہوا ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنماءالطاف ھسین برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست کی تیاریا ں کر رہے ہیں اور ان کے وکلاءاس کے لئے کاغذات بھی تیار کر رہے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایم کیو ایم کے پاکستان دشمنی کی خبریں برطانیہ پہنچنے کے بعد ایم کیو ایم کے کارکنوں اور حامیوں میں خاصی بدولی پیدا ہوئی ہے اور بعض خواتین ذمہ داران نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

(جسارت۔٢٢ جون،٢٩٩١)

 

٭جیسے ہی تاریک کمرے کا دروازہ کھلا مضبوط کنڈے اور دیواروں کے ساتھ لٹکی خون آلود زنجیریں سامنے تھیں۔یہ لائنز ایریا میں ایم کیو ایم کے ایک ٹارچر سیل کا منظر تھا۔صحافیوں کی ایک جماعت ٹارچر سیل کا دورہ کر نے لائنز ایریا پہنچی تو علاقہ کی عورتوں،بچوں اور مردوں کی ایک بہت بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ان میں سے اکثریت کے عزیز یا وہ خود اس ٹارچر سیل میں تشدد کا نشانہ بنے تھے۔اکثر بوڑھی خواتین ٹارچر سیل کی دیواروں سے لپٹ کر رو رہی تھیں۔ایک نو جوں نے صحافیوں کو اپنے جسم پر سوراخ کے نشان دکھائے جو بظاہر جسم پر ڈرل کر نے سے ہوئے تھے۔وہاں موجود مسجد کے خطیب الیاس قادری نے بتایا کہ ایم کیو ایم نے لوگوں پر تشدد کر نے کے علاوہ مسجد کی بے حرمتی بھی کی۔اس کے اکثر کارکن مسجد میں جوتوں سمیت گھس جاتے اور نمازیوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے۔تسنیم نامی نو جوان نے بتایا کہ کہ وہ آرمی میں ملازم ہے اور اس پر جاوید لنگڑا نے ٹارچر سیل میں مسلسل ایک ہفتہ تشدد کیا۔ایک بارہ سالہ بچہ آصف نے بتایا کہ مجھے چوری کے الزام میں ٹارچر سیل لے جایا گیا جہاں الٹا لٹکا کر بجلی کے جھٹکے دیئے گئے۔ایک اور نوجوان محمد رفیع عرف بابو نے بتایا کہ مجھے کئی دن تک ٹانگیں چیر کر رکھا گیا اور پھر لٹکا کر مارا گیا۔ٹارچر سیل میں ہلاک ہونے والے ندیم کی ضعیف والدہ نے صحافیوں کے سامنے زارو قطار روتے ہوئے بتایا کہ جاوید لنگڑا نے مجھے میرے بیٹے کی لاش تک نہیں دی۔بی بی سی کے مطابق لائنز ایریا کے لوگوں کو ان ٹارچر سیلوں کا علم تھا لیکن وہ ایم کیو ایم کی طاقت سے خوف زدہ تھے۔عقوبت خانوں پر قبضہ کے بعد فوج نے صحافیوں کو ان کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں اور وہاں کا معائنہ کرایا تھا۔آپریشن سے قبل یہ مخصوص علاقہ عوام کے لئے علاقہ ممنوعہ رکھا تھا۔عقوبت خانے کو جانے والی گلی کے سارے مکانات خالی کرائے جا چکے تھے اور گلی میں سے گزرنے حتیٰ کہ سامے سے گزرنے کی بھی کسی کو اجازت نہ تھی۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٢٢ جون،٢٩٩١)

 

٭ایم کیو ایم کی قیادت نے فوج کی شہر سے واپسی کے بعد بڑے پیمانے پر مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے۔با خبر ذرائع کے مطابق قانون نافذ کر نے والے اداروں نے جن افراد کو گرفتار کیا تھاان میں سے دو اہم افراد نے جو ایم کیو ایم کے اعلیٰ اجالسوں میں شریک رہے ہیں انکشاف کیا ہے کہ فوج کی موجود گی کے دوران ایم کیو ایم کی قیادت نے کسی قسم کی مداخلت اور مزاحمت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس دوران کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے حکم تک روپوش ہو جائیں۔ان افراد نے انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کی قیا دت امن کے نام پر اپیل کرنا چاہتی ہے تاکہ کرفیو جلد از جلد ختم ہو جائے تاکہ اسے اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنہ نہ کرنا پڑے۔یہی وجہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ایم کیو ایم کے اہم مرکز پر چھاپے کے با وجود کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی۔

(جسارت،٢٢ جون،٢٩٩١)

 

٭چیف آف آرمی اسٹاف جنرل آسف نواز نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات اور بڑھتی ہوئی بے اطمینانی کراچی میںحالیہ خونریزی کا باعث بنی۔بی بی سی کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فوج کو حالیہ تصادم نے موقع فراہم کیا کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو قانون شکنی سے پاک کر دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ لوگ دھونس ،ایزا رسانی اور ایم کیو ایم کے نافذ کئے ہوئے محاصرے سے تنگ آگئے تھے۔خود ایم کیو ایم کے عہدیداروں نے فوج سے کہا تھا کہ وہ حرکت میں آئے اور کراچی میں امن بحال کرائے۔انہوں نے کہا کہ آخر اس بات کا کیا جواز ہے کہ پورے شہر میں لوہے کی دیواریں کھڑی کر دی جائیں۔غریبوں سے زبر دستی بھتہ وصول کیا جائے اور لوگوں کو ٹارچر سیلوں میں باندھ کر رکھا جائے۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٣٢ جون،٢٩٩١)

ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ

٭جی ایچ کے برگیڈیئر آصف ہارون نے کہا ہے کہ کراچی شہر کے مختف علاقوں سے گزشتہ دو روز کے دوران گرفتار کئے جانے والے دہشت گروں کی تعداد ٧٦ ہو گئی ہے جن کے قبضہ سے مجموعی طور پر ٠٧ جدید خود کار ہتھیار اور ہزاروں گولیاں بر آمد ہوئی ہیں۔ملزمان کے قبضہ سے ٦١ کاریں،٨١ موٹر سائیکلیں،ایک کوستر اور ایم منی بس بھی بر آمد ہوئی ہیں۔ان گاڑیوں کو مختلف مقامات پر مجرمانہ کاروائیوں میں استعمال کیا جاتا تھا اور ان گاڑیوں پر سرکاری نمبر پل؛یٹ لگی ہوئی تھیں۔۔نیشنل اسٹیڈیم میں رینجرز ہیڈ کوارٹر میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے برگیڈیئر آصف ہارون نے بتایا کہ خفیہ تحقیقاتی اداروں کی طرف سے ملنے والی اطلاع کی روشنی میں الکرم اسکوائر پر چھاپہ مارا گیا تھا اور بعض مقامات پر تلاشی لینے پر ٢ پوائنٹ ٹو ٹو ایل ایم بی ٹائپ رائفل،٢ کلاشنکوف،ایک ٧ ایم ایم رائفل اور ایک ہزار سے زائد گولیاں بر آمد کیں۔انہوں نے بتایا کہ اب تک لانڈھی سے گرفتار کئے جانے والے ١٢ افراد کے قبضہ و نشاندھی پر برآمد ہونے والے اسلحہ میں ٤٣ کلاشنکوف،٥١ ایم ایم رائفل،٤ شاٹ گن،٠٢ ایم ون رائفل،٠٢ پستول کے علاوہ اسٹین گن اور ماو
¿زر کے علاوہ ٠٢ ہزار سے زائد گولیاں بر آمد ہوئی ہیں۔گولیوں میں ٩٥ میگزین بھی شامل ہیں۔

(جسارت،جنگ،DAWN۔٣٢ جون،٢٩٩١)

 

 ٭لائنز ایریا کے مختلف علاقوں میںمو جود کئی اجتمائی قبروں کا انکشاف ہوا ہے۔جہاں ایم کیو ایم کے دہشت گرد اپنے مخالفین کو مختلف طریقوں سے تشدد کر کے قتل کے بعد دفن کر دیتے تھے۔با خبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دنوں گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں میں سے بعض نے خصوصی تفتیشی ٹیم کی موجود گی میں انکشاف کیا ہے کہ عقوبت خانوں میں سسک سسک کر دم توڑنے والے افراد کو علاقہ میں ہی موجود اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا جاتا تھا۔پکڑے گئے دہشت گردوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان قبروں میں بعض ایسے افراد کو بھی دفن کیا گیا تھا جو بد ترین تشدد کے بعد زندگی کی آخری سانس لے رہے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ اگلے چند روز میں ذمہ دار سرکاری حکام کی موجود گی میں ان اجتماعی قبروں کو چیک کرنے کے بعد کھو دا جائے گا اور اس امر کا اندازہ لگایا جائے گا کہ اجتماعی قبروں میں کتنے بے گناں انسان بے کفن دفن کئے گئے ہیں۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اجتماعی قبروں کے ضمن میں انکشاف ہوتے ہی ایم کیو ایم کے ایک مرکزی رہنماءجو رکن اسمبلی بھی ہیں پر اسرار طور پر لا پتہ ہو گئے ہیں۔یہ بھی عمل قابل غور ہے کہ ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت جو لا پتہ ہے لیکن وہ نا معلوم مقام سے ذمہ دار حکام سے رابطہ کئے ہوئے ہیں اور فوجی حکام سے وہ اپنے تحفظ کی درخواست کرتے ہیں لیکن مرکزی رہنماءو رکن قومی اسمبلی سلیم شہزاد نہ تو کسی سے رابطہ میں ہیں اور نہ ہی وہ ممکنہ مقامات پر ملے ہیں۔

(جسارت،جنگ،٣٢ جون،٢٩٩١)

 

 

 
< Prev   Next >
© 2012 MQM Watch - Exposing MQM Atrocities, Knowledgebase of Mutahidda Quami Movement's Activities
Joomla! is Free Software released under the GNU/GPL License.